إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ

صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا

مراقبہ

 

حوالہ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

سورة

آیت

الفاظ

حروف

اعداد

ماہ

تاریخ

سن ہجری

  

اَلصَّلَاةُ وَالسَّلامُ عَلَيكَ يَا رَسُولَ الله

نساء

1

32

125

8586

ذی الحج

21

1432

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا

کنز الایمان

عرفان القرآن

اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیئے اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو بیشک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے،

اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہاری پیدائش (کی ابتداء) ایک جان سے کی پھر اسی سے اس کا جوڑ پیدا فرمایا پھر ان دونوں میں سے بکثرت مردوں اور عورتوں (کی تخلیق) کو پھیلا دیا، اور ڈرو اس اللہ سے جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور قرابتوں (میں بھی تقوٰی اختیار کرو)، بیشک اللہ تم پر نگہبان ہے،

خاص نکات

  • رقب کے معنی
  • رقب اور مراقبہ
  • اعمال کی نگہبانی
  • سہل تستری کا واقعہ
  • بلی کا انتظار
  • رقبی کی ممانعت
  • فراغت قلب
  • مراقبہ کی قسمیں

اصطلاحات

  • فـي أسماءِ الله تعالـى: الرَّقِـيب : وهو الـحافظُ الذي لا يَغيبُ عنه شيءٌ؛ فَعِيلٌ بمعنى فاعل
  • والتَّرَقُّب : الانتظار، وكذلك الارْتقِاب . وقوله تعالـى: {ولـم تَرْقُب { قولـي}؛ معناه لـم تَنْتَظِرْ قولـي
  • الـمَرْقَبة هي الـمَنْظَرةُ فـي رأْسِ جبلٍ أَو حِصْنٍ
  • الرُّقْبَى : أَن تَـجْعَلَ الـمَنْزِلَ لفُلانٍ يَسْكُنُه، فإِن مات، سكَنه فلانٌ، فكلُّ واحدٍ منهما يَرْقُب مَوْتَ صاحِبه
  • والرَّقَبَة : العُنُقُ: وقـيل: أَعلاها؛ وقـيل: مُؤَخَّر أَصْلِ العُنُقِ، والـجمعُ رَقَب ورَقَبَات ، ورِقاب وأَرْقُب
  • قال أَهل التفسير فـي الرقاب إِنّهم الـمُكاتَبون
  • والرَّقِيبُ: النَّجْمُ الَّذِي فِي المَشْرِق، يُراقِبُ الغارِبَ. ومنازِلُ القمرِ، كُلُّ واحدٍ مِنْهَا رَقِيبٌ لِصاحِبِه، كُلَّما طَلَع مِنْهَا واحِدٌ سقَطَ آخَرُ، مِثْلُ الثُّرَيَّا، رَقِيبُها الإِكلِيلُ إِذا طَلَعَتِ الثُّرَيَّا عِشاءً غابَ الإِكليلُ وإِذا طَلَع الإِكليلُ عِشاءً غابَت الثُّرَيَّا. ورَقِيبُ النَّجْمِ: الَّذِي يَغِيبُ بِطُلُوعِه، مِثْلُ الثُّرَيَّا رَقِيبُها الإِكليلُ؛

خزائن العرفان

  • خشوع اورحضوریعنی دل کو فارغ کر کے ہمہ تن بارگاہِ حق میں متوجہ ہو جانا اور عرض و نیاز و مناجات میں محویت پانا ۔
  • الحدیث : صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) سینہ کا کُھلنا کس طرح ہوتا ہے ؟ فرمایا کہ جب نور قلب میں داخل ہوتا ہے تو وہ کُھلتا ہے اور اس میں وسعت ہوتی ہے صحابہ نے عرض کیا اس کی کیا علامت ہے ؟ فرمایا دارالخُلود کی طرف متوجّہ ہونا اور دارالغرور (دنیا )سےدور رہنا اور موت کے لئے اس کے آنے سے قبل آمادہ ہونا ۔

فتاوی رضویہ

عورت حالت حیض اور نفاس میں مراقبہ جیسا کہ طریقہ نقشبندیہ میں دستور ہے کرسکتی ہے یا نہیں

ہاں- اُمّ المومنین صدیقہ بنت الصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتی ہیں:’رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اللہ تعالٰی کا ذکر فرماتے تھے”۔

 
 

عید کی صبح رب تبارک وتعالٰی مسلمانوں سے ارشاد فرماتا ہے اے میرے بندو!مانگو کہ قسم مجھے اپنی عزت وجلال کی آج اس مجمع میں جو چیز اپنی آخرت کے لئے مانگو گے میں تمہیں عطافرماؤں گااورجو کچھ دنیا کا سوال کروگے اس میں تمہارے لئے نظر کروں گا(یعنی دنیا کی چیز میں خیر و شر دونوں کومتحمل ہیں اورآدمی اکثر اپنی نادانی سے خیر کو شر،شرکوخیر سمجھ لیتا ہے ،اور اﷲ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے لہذا دنیا کے لئے جو کچھ مانگو گے اُس میں بکمال رحمت، نظر فرمائی جائے گی، اگر وُہ چیز تمہارے حق میں بہتر ہوئی عطاہوگی ورنہ اس کے برابر بلا دفع کریں گے یادُعاروزِقیامت کے لئے ذخیرہ رکھیں گے اور یہ بندے کے لئے ہر صورت سے بہتر ہے مجھے اپنی عزت کی قسم ہے جب تک تم میرا مراقبہ رکھوگے میں تمہاری لغزشوں کی ستاری فرماؤں گا مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم میں تمہیں اہل کبائر میں فضیحت و رسوا نہ کروں گا پلٹ جاؤ مغفرت پائے ہوئے ،بیشک تم نے مجھے راضی کیا اور میں تم سے خوشنود ہُوا۔

مزید آیات

مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ

کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیار نہ بیٹھا ہو

فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ

سو آپ اُس دن کا انتظار کریں جب آسمان واضح دھواں ظاہر کر دے گا،

مزید احادیث

مشكاة المصابيح

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«سَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ يُسْأَلَ وَأَفْضَلُ الْعِبَادَةِ انْتِظَارُ الْفَرَجِ»

اشعار

آہٹ پہ کان، در پہ نظر، دل میں اضطراب

کتنا حسین ھے یہ سماں کچھ نہ پوچھئے

دل کے آئینے میں ھے تصویر یار

جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی

حرف مزید

جو اپنے باطن کو مراقبہ اور اخلاص سے صحیح کرلے گا۔ لازم ہے کہ اللہ تعالٰی اس کے ظاہر کو مجاہدہ وپیروی سنت سے آراستہ فرمادے۔

 
 

اپنے دل کو خیالات اِیں وآں سے رہائی دیجئے اورآنکھیں بند کرکے گردن جھکاکریوں دل میں مراقبہ کیجئے

 

December 4, 2011 Posted by | Islam | Leave a Comment

مراقبہ

 

حوالہ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

سورة

آیت

الفاظ

حروف

اعداد

ماہ

تاریخ

سن ہجری

  

اَلصَّلَاةُ وَالسَّلامُ عَلَيكَ يَا رَسُولَ الله

نساء

1

32

125

8586

ذی الحج

21

1432

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا

کنز الایمان

عرفان القرآن

اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیئے اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو بیشک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے،

اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہاری پیدائش (کی ابتداء) ایک جان سے کی پھر اسی سے اس کا جوڑ پیدا فرمایا پھر ان دونوں میں سے بکثرت مردوں اور عورتوں (کی تخلیق) کو پھیلا دیا، اور ڈرو اس اللہ سے جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور قرابتوں (میں بھی تقوٰی اختیار کرو)، بیشک اللہ تم پر نگہبان ہے،

خاص نکات

  • رقب کے معنی
  • رقب اور مراقبہ
  • اعمال کی نگہبانی
  • سہل تستری کا واقعہ
  • بلی کا انتظار
  • رقبی کی ممانعت
  • فراغت قلب
  • مراقبہ کی قسمیں

اصطلاحات

  • فـي أسماءِ الله تعالـى: الرَّقِـيب : وهو الـحافظُ الذي لا يَغيبُ عنه شيءٌ؛ فَعِيلٌ بمعنى فاعل
  • والتَّرَقُّب : الانتظار، وكذلك الارْتقِاب . وقوله تعالـى: {ولـم تَرْقُب { قولـي}؛ معناه لـم تَنْتَظِرْ قولـي
  • الـمَرْقَبة هي الـمَنْظَرةُ فـي رأْسِ جبلٍ أَو حِصْنٍ
  • الرُّقْبَى : أَن تَـجْعَلَ الـمَنْزِلَ لفُلانٍ يَسْكُنُه، فإِن مات، سكَنه فلانٌ، فكلُّ واحدٍ منهما يَرْقُب مَوْتَ صاحِبه
  • والرَّقَبَة : العُنُقُ: وقـيل: أَعلاها؛ وقـيل: مُؤَخَّر أَصْلِ العُنُقِ، والـجمعُ رَقَب ورَقَبَات ، ورِقاب وأَرْقُب
  • قال أَهل التفسير فـي الرقاب إِنّهم الـمُكاتَبون
  • والرَّقِيبُ: النَّجْمُ الَّذِي فِي المَشْرِق، يُراقِبُ الغارِبَ. ومنازِلُ القمرِ، كُلُّ واحدٍ مِنْهَا رَقِيبٌ لِصاحِبِه، كُلَّما طَلَع مِنْهَا واحِدٌ سقَطَ آخَرُ، مِثْلُ الثُّرَيَّا، رَقِيبُها الإِكلِيلُ إِذا طَلَعَتِ الثُّرَيَّا عِشاءً غابَ الإِكليلُ وإِذا طَلَع الإِكليلُ عِشاءً غابَت الثُّرَيَّا. ورَقِيبُ النَّجْمِ: الَّذِي يَغِيبُ بِطُلُوعِه، مِثْلُ الثُّرَيَّا رَقِيبُها الإِكليلُ؛

خزائن العرفان

  • خشوع اورحضوریعنی دل کو فارغ کر کے ہمہ تن بارگاہِ حق میں متوجہ ہو جانا اور عرض و نیاز و مناجات میں محویت پانا ۔
  • الحدیث : صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) سینہ کا کُھلنا کس طرح ہوتا ہے ؟ فرمایا کہ جب نور قلب میں داخل ہوتا ہے تو وہ کُھلتا ہے اور اس میں وسعت ہوتی ہے صحابہ نے عرض کیا اس کی کیا علامت ہے ؟ فرمایا دارالخُلود کی طرف متوجّہ ہونا اور دارالغرور (دنیا )سےدور رہنا اور موت کے لئے اس کے آنے سے قبل آمادہ ہونا ۔

فتاوی رضویہ

عورت حالت حیض اور نفاس میں مراقبہ جیسا کہ طریقہ نقشبندیہ میں دستور ہے کرسکتی ہے یا نہیں

ہاں- اُمّ المومنین صدیقہ بنت الصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتی ہیں:’رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اللہ تعالٰی کا ذکر فرماتے تھے”۔

 
 

عید کی صبح رب تبارک وتعالٰی مسلمانوں سے ارشاد فرماتا ہے اے میرے بندو!مانگو کہ قسم مجھے اپنی عزت وجلال کی آج اس مجمع میں جو چیز اپنی آخرت کے لئے مانگو گے میں تمہیں عطافرماؤں گااورجو کچھ دنیا کا سوال کروگے اس میں تمہارے لئے نظر کروں گا(یعنی دنیا کی چیز میں خیر و شر دونوں کومتحمل ہیں اورآدمی اکثر اپنی نادانی سے خیر کو شر،شرکوخیر سمجھ لیتا ہے ،اور اﷲ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے لہذا دنیا کے لئے جو کچھ مانگو گے اُس میں بکمال رحمت، نظر فرمائی جائے گی، اگر وُہ چیز تمہارے حق میں بہتر ہوئی عطاہوگی ورنہ اس کے برابر بلا دفع کریں گے یادُعاروزِقیامت کے لئے ذخیرہ رکھیں گے اور یہ بندے کے لئے ہر صورت سے بہتر ہے مجھے اپنی عزت کی قسم ہے جب تک تم میرا مراقبہ رکھوگے میں تمہاری لغزشوں کی ستاری فرماؤں گا مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم میں تمہیں اہل کبائر میں فضیحت و رسوا نہ کروں گا پلٹ جاؤ مغفرت پائے ہوئے ،بیشک تم نے مجھے راضی کیا اور میں تم سے خوشنود ہُوا۔

مزید آیات

مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ

کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیار نہ بیٹھا ہو

فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ

سو آپ اُس دن کا انتظار کریں جب آسمان واضح دھواں ظاہر کر دے گا،

مزید احادیث

مشكاة المصابيح

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«سَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ يُسْأَلَ وَأَفْضَلُ الْعِبَادَةِ انْتِظَارُ الْفَرَجِ»

اشعار

آہٹ پہ کان، در پہ نظر، دل میں اضطراب

کتنا حسین ھے یہ سماں کچھ نہ پوچھئے

دل کے آئینے میں ھے تصویر یار

جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی

حرف مزید

جو اپنے باطن کو مراقبہ اور اخلاص سے صحیح کرلے گا۔ لازم ہے کہ اللہ تعالٰی اس کے ظاہر کو مجاہدہ وپیروی سنت سے آراستہ فرمادے۔

 
 

اپنے دل کو خیالات اِیں وآں سے رہائی دیجئے اورآنکھیں بند کرکے گردن جھکاکریوں دل میں مراقبہ کیجئے

 

December 4, 2011 Posted by | Islam | Leave a Comment

شیطان سے حفاظت

 
 

حوالہ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

سورة

آیت

الفاظ

حروف

اعداد

ماہ

تاریخ

سن ہجری

  

اَلصَّلَاةُ وَالسَّلامُ عَلَيكَ يَا رَسُولَ الله

الأعراف

27

31

135

7474

ذیقعد

22

1432

يَا بَنِي آدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ كَمَا أَخْرَجَ أَبَوَيْكُم مِّنَ الْجَنَّةِ يَنزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْآتِهِمَا ۗ إِنَّهُ يَرَاكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ ۗ إِنَّا جَعَلْنَا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاءَ لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ

کنز الایمان:

عرفان القرآن:

اے آدم کی اولاد! خبردار! تمہیں شیطان فتنہ میں نہ ڈالے جیسا تمہارے ماں باپ کو بہشت سے نکالا اتروا دیئے ان کے لباس کہ ان کی شرم کی چیزیں انہیں نظر پڑیں، بیشک وہ اور اس کا کنبہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں کہ تم انہیں نہیں دیکھتے بیشک ہم نے شیطانوں کو ان کا دوست کیا ہے جو ایمان نہیں لاتے،

اے اولادِ آدم! (کہیں) تمہیں شیطان فتنہ میں نہ ڈال دے جس طرح اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکال دیا، ان سے ان کا لباس اتروا دیا تاکہ انہیں ان کی شرم گاہیں دکھا دے۔ بیشک وہ (خود) اور اس کا قبیلہ تمہیں (ایسی ایسی جگہوں سے) دیکھتا (رہتا) ہے جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔ بیشک ہم نے شیطانوں کو ایسے لوگوں کا دوست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں رکھتے،

خاص نکات

  • ابلیس اور شیطان
  • رویت شیطان
  • حضرت ابراہیم اور شیطان
  • حضرت ابوایوب انصاری اور شیطان
  • بایزید اور بسطام کا شیطان
  • شیطان کی کمزوری
  • شیطان سے بچاؤ کے طریقے

      

پیغام:

جو شیطان کو دیکھ لے اور ڈر کر بھاگے، شیطان اس پر قابو پالیتا ھے اور جو نڈر ھوکر مقابلہ کرے، شیطان اس سے خوفزدہ ھوجاتا ھے

اصطلاحات:

شیطان (keep away, separate, divergence, farness)

  1. - الشيطان النون فيه أصيلة (قال ابن منظور: والشيطان: فيعال من: شطن: إذا بعد، فيمن جعل النون أصلا، وقولهم: الشياطين دليل عن ذلك. اللسان (شطن) )، وهو من: شطن أي: تباعد، ومنه: بئر شطون، وشطنت الدار، وغربة شطون،
  2. وقيل: بل النون فيه زائدة، من شاط يشيط ( (scorch: احترق غضبا، فالشيطان مخلوق من النار كما دل عليه قوله تعالى: }وخلق الجان من مارج من نار{ [الرحمن/15]، ولكونه من ذلك اختص بفرط القوة الغضبية والحمية الذميمة، وامتنع من السجود لآدم،
  3. قال أبو عبيدة۔ انظر: مجاز القرآن : الشيطان اسم لكل عارم (violent) من الجن والإنس والحيوانات.
  4. قال تعالى: }شياطين الأنس والجن{ [الأنعام/112]،
  5. وسمي كل خلق ذميم (dishonored) للإنسان شيطانا،
  6. فقال عليه السلام: (الحسد شيطان والغضب شيطان)
  7. إن الغضب من الشيطان، وإن الشيطان خلق من النار، وإنما تطفأ النار بالماء، فإذا غضب أحدكم فليتوضأ۔
  8. أخرجه أحمد، وأبو نعيم في الحلية وأبو داود 

خزائن العرفان

جس گھر میں یہ سورت سورۂ بقر
پڑھی جائے تین دن تک سرکش شیطان اس میں داخل نہیں ہوتا ۔ مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں یہ سورت پڑھی جائے ۔

ابن کثیر

امام ابن جریر فرماتے ہیں “ہر بہکانے اور سرکشی کرنے والے کو شیطان کہتے ہیں۔ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔

حضرت ابوایوب انصاری فرماتے ہیں کہ میرے خزانہ میں سے جنات چرا کر لے جایا کرتے تھے، میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تو اسے دیکھے تو کہنا بِسْمِ اللهِ، أَجِيبِي رَسُولَ اللهِ جب وہ آیا میں نے یہی کہا، پھر اسے چھوڑ دیا۔ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ پھر بھی آئے گا، میں نے اسے اسی طرح دو تین بار پکڑا اور اقرار لے لے کر چھوڑا دیا، میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دفعہ یہی فرمایا کہ وہ پھر بھی آئے گا، آخر مرتبہ میں نے کہا اب میں تجھے نہ چھوڑوں گا، اس نے کہا چھوڑ دے میں تجھے ایک ایسی چیز بتاؤں گا کہ کوئی جن اور شیطان تیرے پاس ہی نہ آسکے، میں نے کہا اچھا بتاؤ، کہا وہ آیت الکرسی ہے۔ میں نے آکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ذِکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا، گو وہ جھوٹا ہے (مسند احمد)

مزید آیات:

  1. اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَأَنسَاهُمْ ذِكْرَ اللَّهِ أُولَٰئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَانِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَانِ هُمُ الْخَاسِرُونَ
    ﴿المجادلة: ١٩﴾
 

 

October 19, 2011 Posted by | Islam | Leave a Comment

یقین کا بیان

یا اللہ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

الرَّحْمَٰنُ ﴿١﴾ عَلَّمَ الْقُرْآنَ ﴿٢﴾ خَلَقَ الْإِنسَانَ ﴿٣﴾ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ﴿٤﴾

یا رسول اللہ

  • موضوعات
  • یقین و شک و ظن و وہم
  • درجات روحانیت
  • یقین کے ثمرات
  • یقین کے اعمال
  • یقین اور عمل مثل روح و بدن
  • خاص نکات
  • ہدہد کا یقین
  • ابو حنیفہ اور طلاق والا
  • ابو حغیفہ اور استاد
  • دعا اور یقین
  • اعلی حضرت اور دعا
  • ایک مسئلہ

    پیغام اہل سنت

یوسف کے انمول ہونے کا یقین – علامہ اقبال اور مسلمانوں کا یقین

شک میں رہنا کفار کی صفت ہے

  • ابتداء

الحمدُ للهِ وكفي۔ سلامٌ علي عبادهِ الذين اصطفي۔ خصوصاً علي محمد المصطفي۔ وألهِ وصحبهِ واهلُ الصدقِ والصفا. اما بعد فاعوذ باللهِ من الشيطان الرجيم۔ بِسمِ اللهِ الرحمن الرحيم آیت قرآنی
أمنتُ بِالله صدق اللهُ مولاناالعظيم۔ وصدق رسُولهُ النبيُ الكريم۔ ونحنُ علي ذالك لمنَ الشاهدين والشاكرين۔ والعاقبةُ للمتقين۔

48 الفاظ 229 حروف 13098 اعداد

درود شريف بأوازِ بلند پھر اعلی حضرت فاضل بریلوی کے دو اشعار

سورة

آیت

الحجر

99

الفاظ

  

حروف

  

اعداد

  

نص القرآن :

وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ

کنز الایمان :

اور مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت میں رہو،

عرفان القرآن:

اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں یہاں تک کہ آپ کو (آپ کی شان کے لائق) مقامِ یقین مل جائے (یعنی انشراحِ کامل نصیب ہو جائے یا لمحۂ وصالِ حق)،

تعریفات و فرق

يَقِينٌ (لب الإيمان وخلاصته وزبدته)

التَّعْرِيفُ:

1 ـ الْيَقِينُ فِي اللُّغَةِ: الْعِلْمُ وَإِزَاحَةُ الشَّكِّ، وَتَحْقِيقُ الأْمْرِ، وَهُوَ نَقِيضُ الشَّكِّ،

وَالْيَقِينُ فِي اصْطِلاَحِ الْفُقَهَاءِ: هُوَ جَزْمُ الْقَلْبِ بِوُقُوعِ الشَّيْءِ، أَوْ عَدَمِ وُقُوعِهِ

 
 

الأْلْفَاظُ ذَاتُ الصِّلَةِ:

الشَّكُّ:

الشَّكُّ فِي اللُّغَةِ: الاِرْتِيَابُ

وَالشَّكُّ فِي اصْطِلاَحِ الْفُقَهَاءِ هُوَ التَّرَدُّدُ بَيْنَ النَّقِيضَيْنِ بِلاَ تَرْجِيحٍ لأِحَدِهِمَا عَلَى الآْخَرِ عِنْدَ الشَّاكِّ، وَقِيل: مَا يَسْتَوِي طَرَفَاهُ، وَهُوَ الْوُقُوفُ بَيْنَ الشَّيْئَيْنِ لاَ يَمِيل الْقَلْبُ إِلَى أَحَدِهِمَا

الْوَهْمُ:

الْوَهْمُ فِي اللُّغَةِ مِنْ مَعَانِيهِ: خَطَرَاتُ الْقَلْبِ، أَوْ مَرْجُوحُ طَرَفَيِ الْمُتَرَدَّدِ فِيهِ.

وَفِي الاِصْطِلاَحِ: الاِعْتِقَادُ الْمَرْجُوحُ

الظَّنُّ:

الظَّنُّ فِي اللُّغَةِ مِنْ مَعَانِيهِ: التَّرَدُّدُ الرَّاجِحُ بَيْن طَرَفَيْ الاِعْتِقَاد غَيْرِ الْجَازِمِ، وَقَدْ يُوضَعُ مَوْضِعَ الْعِلْمِ.

وَاصْطِلاَحًا: هُوَ الاِعْتِقَادُ الرَّاجِحُ مَعَ احْتِمَال النَّقِيضِ

 
 

وروى بن صَخْر فِي الْفَوَائِد مِنْ حَدِيث مُحَمَّد بْن خالد المخزومي عَنْ سُفْيَان الثَّوْرِيِّ عَنْ زُبَيْد الْيَامِيّ عَنْ أَبِي وَائِل عَنْ عَبْد اللَّه بْن مَسْعُود عَنْ النَّبِيّ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْيَقِين الْإِيمَان كُلّه وَذَكَرَهُ الْبُخَارِيّ فِي صَحِيحه موقوفا على بن مَسْعُود و الْبَيْهَقِيّ فِي الزّهْد والخطيب فِي التَّارِيخ

وقال مُسَدَّدٌ: حدثنا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مُغِيرَةَ، عن عامر رَضِيَ الله عَنْه قال: ” الصَّبْرُ نِصْفُ الإيمان، والشكر ثلثا الْإِيمَانِ، اليقين الْإِيمَانُ كُلُّهُ “. [المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية]

  • متعلقہ آیات

مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ مُّرِيبٍ [٥٠:٢٥]

جو بھلائی سے بہت روکنے والا حد سے بڑھنے والا شک کرنے والا

قال الله تعالى

  • ولما رأى المؤمنون الأحزاب قالوا هذا ما وعدنا الله ورسوله وصدق الله ورسوله وما زادهم إلا إيمانا وتسليما – الأحزاب
  • الذين قال لهم الناس إن الناس قد جمعوا لكم فاخشوهم فزادهم إيمانا وقالوا حسبنا الله ونعم الوكيل فانقلبوا بنعمة من الله وفضل لم يمسسهم سوء واتبعوا رضوان الله والله ذو فضل عظيم - آل عمران
  • وتوكل على الحي الذي لا يموت » الفرقان
  • وعلى الله فليتوكل المؤمنون» إبراهيم
  • فإذا عزمت فتوكل على الله » آل عمران
  • ومن يتوكل على الله فهو حسبه» الطلاق
  • إنما المؤمنون الذين إذا ذكر الله وجلت قلوبهم وإذا تليت عليهم آياته زادتهم إيمانا وعلى ربهم يتوكلون » الأنفال

فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيدٍ فَقَالَ أَحَطتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهِ وَجِئْتُكَ مِن سَبَإٍ بِنَبَإٍ يَقِينٍ [٢٧:٢٢]

میں شہر سبا سے حضور کے پاس ایک یقینی خبر لایا ہوں،

متعلقہ احادیث

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَسْكَرِيُّ بِالرَّقَّةِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَكِيلُ قَالَ حَدَّثَنَا بن أَبِي زَائِدَةَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ مُعَاذًا لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ: اكْشِفُوا عَنِّي سِجْفَ الْقُبَّةِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقول: “من شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا مِنْ قَلْبِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ

بخاری و مسلم کی حدیث شریف میں ہے کہ ایک روز سیدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خطبہ فرماتے ہوئے فرمایا جس کو جو دریافت کرنا ہو دریافت کرے ، عبداللّٰہ بن حُذافہ سہمی نے کھڑے ہو کر دریافت کیا کہ میرا باپ کون ہے؟ فرمایا حذافہ پھر فرمایا اور پوچھو حضرت عمر رضی اللّٰہ تعالٰی نے اٹھ کر اقرارِ ایمان و رسالت کے ساتھ معذرت پیش کی ۔

ابنِ شہاب کی روایت ہے کہ عبداللّٰہ بن حُذافہ کی والدہ نے ان سے شکایت کی اور کہا کہ تو بہت نالائق بیٹا ہے تجھے کیا معلوم کہ زمانۂ جاہلیّت کی عورتوں کا کیا حال تھا ، خدا نخواستہ تیری ماں سے کوئی قصور ہوا ہوتا تو آج وہ کیسی رسوا ہوتی ، اس پر عبداللّٰہ بن حُذافہ نے کہا کہ اگر حضور کسی حبشی غلام کو میرا باپ بتا دیتے تو میں
یقین کے ساتھ مان لیتا

حضرت عکاشہ کا مغفوروں میں نام کی طلب کرنا

اشعار

جب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیدا

تو کرلیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیدا

خدائے لم یزل کا دست قدرت تو زباں تو ہے

یقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہے

حرف مزید

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، ثَنَّى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ , عَنِ الْحَكَمِ بْنِ ظُهَيْرٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ الْمُخْتَارِ , عَنِ الْحَسَنِ , قَالَ:

مِنْ عَلَامَاتِ الْمُسْلِمِ قُوَّةٌ فِي دِينٍ , وَحَزْمٌ فِي لِينٍ , وَإِيمَانٌ فِي يَقِينٍ , وَحِلْمٌ فِي عِلْمٍ , وَكَيْسٌ فِي رِفْقٍ , وَإِعْطَاءٌ فِي حَقٍّ , وَقَصْدٌ فِي غِنًى وَتَجَمُّلٌ فِي فَاقَةٍ , وَإِحْسَانٌ فِي قُدْرَةٍ , وَطَاعَةٌ مَعَهَا نَصِيحَةٌ , وَتَوَرُّعٌ فِي رَغْبَةٍ , وَتَعَفُّفٌ فِي جَهْدٍ , وَصَبْرٌ فِي شِدَّةٍ , لَا تُرْدِيهِ رَغْبَتُهُ , وَلَا يَبْدُرُهُ لِسَانُهُ , وَلَا يَسْبِقُهُ بَصَرُهُ , وَلَا يَغْلِبُهُ فَرْجُهُ , وَلَا يَمِيلُ هَوَاهُ , وَلَا يَفْضَحُهُ بَطْنُهُ , وَلَا يَسْتَخِفُّهُ حِرْصُهُ , وَلَا تَقْصُرُ بِهِ نِيَّتُهُ

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ يَقِينَ الصَّادِقِينَ , وَصِدْقَ الْمُوقِنِينَ , وَعَمَلَ الطَّائِعِينَ , وَخَوْفَ الْعَامِلِينَ , وَعِبَادَةَ الْخَاشِعِينَ , وَخُشُوعَ الْعَابِدِينَ , وَإِنَابَةَ الْمُخْبِتِينَ , وَإِخْبَاتَ الْمُنِيبِينَ , وَإِلْحَاقًا بِرَحْمَتِكَ بِالْأَحْيَاءِ الْمَرْزُوقِينَ

عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ فِي امْرَأَةِ الْمَفْقُودِ: ” إِنَّهَا لَا تَتَزَوَّجُ

وَقد روى عَن رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم أَنه سُئِلَ عَن أفضل الْأَعْمَال فَقَالَ إِيمَان لَا شكّ فِيهِ وَجِهَاد لَا غلُول فِيهِ وَحج مبرور

ذاتی آراء

آدھے ایمان کیلئے پورا ایمان ہونا شرط ہے-

وذلك مثل قول سيد الأنبياء عليه السلام

(رأس الحكمة مخافة الله. ما قل وكفى خير مما كثر وألهى. كن ورعا تكن اعبد الناس. وكن تقيا تكن اشكر الناس. البلاء موكل بالمنطق. السعيد من وعظ بغيره. القناعة مال لا ينفد. اليقين الايمان كله) روح البیان فهذه الكلمات وأمثالها تسمى حكمة وصاحبها يسمى حكيما

 

October 17, 2011 Posted by | Islam | Leave a Comment

خصائص جمعہ

یا اللہ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

الرَّحْمَٰنُ ﴿١﴾ عَلَّمَ الْقُرْآنَ ﴿٢﴾ خَلَقَ الْإِنسَانَ ﴿٣﴾ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ﴿٤﴾

یا رسول اللہ

  • موضوعات
  • تعارف جمعہ
  • شرائط جمعہ
  • فضائل جمعہ
  • مسائل جمعہ
  •  
  • خاص نکات
  • تفسیر عثمانی کی فاش غلطی
  • جمعہ کے وقت سونے والے
  •  
  •  
  •  
  • ایک مسئلہ

    پیغام اہل سنت

: جمعہ کی اذان ہوتے ہی خرید و فروخت حرام ہوجاتی ہے اور دنیا کے تمام مشاغل جو ذکرِ الٰہی سے غفلت کا سبب ہوں اس میں داخل ہیں اذان ہونے کے بعد سب کو ترک کرنا لازم ہے ۔

  • ابتداء

الحمدُ للهِ وكفي۔ سلامٌ علي عبادهِ الذين اصطفي۔ خصوصاً علي محمد المصطفي۔ وألهِ وصحبهِ واهلُ الصدقِ والصفا. اما بعد فاعوذ باللهِ من الشيطان الرجيم۔ بِسمِ اللهِ الرحمن الرحيم آیت قرآنی
أمنتُ بِالله صدق اللهُ مولاناالعظيم۔ وصدق رسُولهُ النبيُ الكريم۔ ونحنُ علي ذالك لمنَ الشاهدين والشاكرين۔ والعاقبةُ للمتقين۔ درود شريف بأوازِ بلند پھر اعلی حضرت فاضل بریلوی کے دو اشعار 48 229 13098

سورة

آیت

الْمَآىِٕدَة

3

الفاظ

حروف

74

278

نص القرآن :

حُرِّمَتْ – عَلَیْكُمُ – الْمَیْتَةُ – وَ – الدَّمُ – وَ – لَحْمُ – الْخِنْزِیْرِ – وَ – مَاۤ – اُهِلَّ – لِغَیْرِ – اللّٰهِ – بِهٖ – وَ – الْمُنْخَنِقَةُ – وَ – الْمَوْقُوْذَةُ – وَ – الْمُتَرَدِّیَةُ – وَ – النَّطِیْحَةُ – وَ – مَاۤ – اَكَلَ – السَّبُعُ – اِلَّا – مَا – ذَكَّیْتُمْ١۫ – وَ – مَا – ذُبِحَ – عَلَى – النُّصُبِ – وَ – اَنْ – تَسْتَقْسِمُوْا – بِالْاَزْلَامِ١ؕ – ذٰلِكُمْ – فِسْقٌ١ؕ – اَلْیَوْمَ – یَىِٕسَ – الَّذِیْنَ – كَفَرُوْا – مِنْ – دِیْنِكُمْ – فَلَا – تَخْشَوْهُمْ – وَ – اخْشَوْنِ١ؕ – اَلْیَوْمَ – اَكْمَلْتُ – لَكُمْ – دِیْنَكُمْ – وَ – اَتْمَمْتُ – عَلَیْكُمْ – نِعْمَتِیْ – وَ – رَضِیْتُ – لَكُمُ – الْاِسْلَامَ – دِیْنًا١ؕ – فَمَنِ – اضْطُرَّ – فِیْ – مَخْمَصَةٍ – غَیْرَ – مُتَجَانِفٍ – لِّاِثْمٍ١ۙ – فَاِنَّ – اللّٰهَ – غَفُوْرٌ – رَّحِیْمٌ۝۳

کنز الایمان :

تم پر حرام ہے (ف۱۳) مُردار اور خون اور سور کا گوشت اور جس کے ذبح میں غیر خدا کا نام پکارا گیا اور وہ جو گلا گھونٹنے سے مرے اور بے دھار کی چیز سے مارا ہوا اور جو گر کر مرا اور جسے کسی جانور نے سینگ مارا اور جسے کوئی درندہ کھا گیا مگر جنہیں تم ذبح کر لو اور جو کسی تھان پر ذبح کیا گیا اور پانسے ڈال کر بانٹا کرنا یہ گناہ کا کام ہے آج تمہارے دین کی طرف سے کافروں کی آس ٹوٹ گئی (ف۱۴) تو اُن سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا (ف۱۵) اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی (ف۱۶) اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا (ف۱۷) تو جو بھوک پیاس کی شدت میں ناچار ہو یوں کہ گناہ کی طرف نہ جھکے (ف۱۸) تو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

عرفان القرآن:

  • تم پر مردار (یعنی بغیر شرعی ذبح کے مرنے والا جانور) حرام کر دیا گیا ہے
  • اور (بہایا ہوا) خون
  • اور سؤر کا گوشت
  • اور وہ (جانور) جس پر ذبح کے وقت غیر اﷲ کا نام پکارا گیا ہو
  • اور گلا گھٹ کر مرا ہوا (جانور)
  • اور (دھار دار آلے کے بغیر کسی چیز کی) ضرب سے مرا ہوا
  • اور اوپر سے گر کر مرا ہوا
  • اور (کسی جانور کے) سینگ مارنے سے مرا ہوا
  • اور وہ (جانور) جسے درندے نے پھاڑ کھایا ہو سوائے اس کے جسے (مرنے سے پہلے) تم نے ذبح کر لیا،
  • اور (وہ جانور بھی حرام ہے) جو باطل معبودوں کے تھانوں (یعنی بتوں کے لئے مخصوص کی گئی قربان گاہوں) پر ذبح کیا گیا ہو
  • اور یہ (بھی حرام ہے) کہ تم پانسوں (یعنی فال کے تیروں) کے ذریعے قسمت کا حال معلوم کرو (یا حصے تقسیم کرو)، یہ سب کام گناہ ہیں۔

     
     

    آج کافر لوگ تمہارے دین (کے غالب آجانے کے باعث اپنے ناپاک ارادوں) سے مایوس ہو گئے، سو (اے مسلمانو!) تم ان سے مت ڈرو اور مجھ ہی سے ڈرا کرو۔ آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو (بطور) دین (یعنی مکمل نظامِ حیات کی حیثیت سے) پسند کر لیا۔ پھر اگر کوئی شخص بھوک (اور پیاس) کی شدت میں اضطراری (یعنی انتہائی مجبوری کی) حالت کو پہنچ جائے (اس شرط کے ساتھ) کہ گناہ کی طرف مائل ہونے والا نہ ہو (یعنی حرام چیز گناہ کی رغبت کے باعث نہ کھائے) تو بیشک اﷲ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے،

تعریفات و فرق

وجۂ تسمیہ

روزِ جمعہ کا نام عربی زبان میں عروبہ تھا۔

جمعہ کو جمعہ اور جمعہ اور جمعہ کہتے ہیں اس کی جمع جُمَع اور جماعات آتی ہے۔

ثُمَّ الْجُمُعَةُ -بِضَمِّ الْمِيمِ، وَإِسْكَانِهَا، وَفَتْحِهَا أَيْضًا ۔

والمشهورالضم
- إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ ۔ وَيُجْمَعُ عَلَى جُمَع وجُمُعات.

ووجه الفتح بأنها تجمع الناس كثيرا

ويُقال: يوم الجُمَعَة لغة بني عُقَيل

وقيل: لم يسم بيوم الجمعة إلا بعد الإسلام

وقيل: لما جُمع فيه من الخير

وقيل: لأن الله – تعالى – جمع فيه آدم مع حواء في الأرض.

جمعہ کا لفظ جمع سے مشتق ہے،

جمعہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں تمام جماعتوں کا اجتماع ہوتا ہے۔ اس کا تقاضاہے کہ اس میں تمام جماعتوں کو آنے کی اجازت ہو تا کہ نام کے معنی کا ثبوت ہو.۔ اعلی حضرت

اور یہ بھی کہ اسی دن تمام مخلوق کامل ہوئی

سب سے پہلے جس شخص نے اس دن کا نام جمعہ رکھا وہ کعب بن لُوی ہیں۔

قرآن پاک کی ایک سورہ کا نام بھی جمعہ ہے۔

 
 

جمعے کے مختلف نام

  • خزائن العرفان

آیت اور جمعہ اور عید

اس آیت میں الیوم سے مراد جمعہ یا عرفے کا دن ہے۔

یہ آیت حجّۃ الوداع میں عَرفہ کے روز جو جمعہ کو تھا بعدِ عصر نازل ہوئی ، معنی یہ ہیں کہ کُفّار تمہارے دین پر غالب آنے سے مایوس ہو گئے ۔

شعائر اللّٰہ
سے دین کے اعلام یعنی نشانیاں مراد ہیں خواہ وہ مکانات ہوں جیسے کعبہ عرفات مزدلفہ جمارثلثہ’ صفا’ مروہ’ منٰی’ مساجد یا ازمنہ جیسے رمضان ،اشہر حرام، عیدالفطر واضحٰی
جمعہ
ایاّم تشریق یا دوسرے علامات جیسے اذان، اقامت نمازِ با جماعت، نمازِ جمعہ، نماز عیدین، ختنہ یہ سب شعائر دین ہیں۔

 
 

شانِ نُزول : بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کے پاس ایک یہودی آیا اور اس نے کہا کہ اے امیرالمومنین آپ کی کتاب میں ایک آیت ہے اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم روزِ نُزول کو عید مناتے۔ فرمایا کون سی آیت ؟ اس نے یہی آیت” اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ ” پڑھی آپ نے فرمایا میں اس دن کو جانتا ہوں جس میں یہ نازل ہوئی تھی اور اس کے مقامِ نُزول کو بھی پہچانتا ہوں وہ مقام عرفات کا تھا اور دن جمعہ کا ، آپ کی مراد اس سے یہ تھی کہ ہمارے لئے وہ دن عید ہے ۔

ترمذی شریف میں حضرت ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما سے مروی ہے آپ سے بھی ایک یہودی نے ایسا ہی کہا آپ نے فرمایا کہ جس روز یہ نازل ہوئی اس دن ۲ دو عیدیں تھیں جمعہ و عرفہ ۔

 
 

مسند احمد میں ہے کہ ایک یہودی نے حضرت فاروق اعظم سے کہا تم جو اس آیت کو پڑھتے ہو اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید منا لیتے ”حضرت عمر نے فرمایا واللہ مجھے علم ہے کہ آیت کس وقت اور کس دن نازل ہوئی ، عرفے کے دن جمعہ کی شام کو نازل ہوئی ہے ، ہم سب اس وقت میدان عرفہ میں تھے ،

 
 

ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت کعب نے حضرت عمر سے یہ کہا تھا ۔حضرت عمر نے فرمایا یہ آیت ہمارے ہاں دوہری عید کے دن نازل ہوئی ہے۔

 
 

حضرت ابن عباس کی زبانی اس آیت کی تلاوت سن کر بھی یہودیوں نے یہی کہا تھا کہ جس پر آپ نے فرمایا ہمارے ہاں تو یہ آیت دوہری عید کے دن اتری ہے ، عید بھی تھی اور جمعہ کا دن بھی تھا ۔

حضرت علی سے مروی ہے کہ یہ آیت عرفے کے دن شام کو اتری ہے ،

 
 

مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ کسی دینی کامیابی کے دن کو خوشی کا دن منانا جائز اور صحابہ سے ثابت ہے ورنہ حضرت عمرو ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہم صاف فرما دیتے کہ جس دن کوئی خوشی کا واقعہ ہو اس کی یادگار قائم کرنا اور اس روز کو عید منانا ہم بدعت جانتے ہیں ، اس سے ثابت ہوا کہ عیدِ میلاد منانا جائز ہے کیونکہ وہ اعظمِ نِعَمِ الٰہیہ کی یادگار و شکر گزاری ہے ۔

 
 

عید (خوشی اور ملنا جلنا) کا اسلامی تصور:۔

  • أخرج ابن ماجه عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “إن هذا يوم عيد، جعله الله للمسلمين، فمن جاء إلى الجمعة فليغتسل، وإن كان طيب فليمس منه، وعليكم بالسواك”
  • عن أبي هريرة مرفوعا، يوم الجمعة يوم عيد، فلا تجعلوا يوم عيدكم يوم صيامكم إلا أن تصوموا قبله أو بعده.
  • وروى ابن أبي شيبة عن علي قال: من كان منكم متطوعا من الشهر، فليصم يوم الخميس ولا يصوم يوم الجمعة، فإنه يوم طعام وشراب وذكر.
  • وقال آخرون: بل الحكمة مخالفة اليهود، فإنهم يصومون يوم عيدهم، أي يفردونه بالصوم، فنهى عن التشبه بهم، كما خولفوا في يوم عاشوراء، بصيام يوم قبله أو بعده، وهذا القول هو المختار عندي؛ لأنه لا ينتقض بشيء.
  • ابن کثیر

مقاتل بن حیان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جمعہ کے دن خطبے میں بیٹھا رہنا منافقوں پربہت بھاری پڑتا تھا۔ جب کسی کو کوئی ایسی ضرورت ہوتی تو اشارے سے آپ سے اجازت چاہتا اور آپ اجازت دے دیتے اس لئے کہ خطبے کی حالت میں بولنے سے جمعہ باطل ہو جاتا ہے تو یہ منافق آڑ ہی آڑ میں نظریں بچا کر سرک جاتے تھے

اشعار

قربان اے دو شنبے تجھ پر ہزار جمعے

وہ فضل تو نے پایا صبح شب ولادت

ذاتی آراء

تفسیر عثمانی

(تنبیہ) اس آیت ” الیوم اکملت لکم دینکم” الخ کا نازل فرمانا بھی منجملہ نعمائے عظیمہ کے لیے ایک نعمت ہے۔

اسی لئے بعض یہود نے حضرت عمر رضی اللہ عنہم سے عرض کیا کہ امیر المومنین! اگر یہ آیت ہم پر نازل کی جاتی تو ہم اس کے یوم نزول کو عید منایا کرتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہم نے فرمایا تجھے معلوم نہیں کہ جس روز یہ ہم پر نازل کی گئی مسلمانوں کی دو عیدیں جمع ہوگئی تھیں۔

 
 

قول سلیم: اگر حضرت عمر کا عقیدہ آپ کا سا ہوتا تو کہتے کہ او بیوقوف! ہم تیسری عید منانے کو بدعت سمجھتے ہیں۔

عید (خوشی اور ملنا جلنا) کا نبوی تصور:۔

أخرج ابن ماجه عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “إن هذا يوم عيد، جعله الله للمسلمين، فمن جاء إلى الجمعة فليغتسل، وإن كان طيب فليمس منه، وعليكم بالسواك”

 
 

عن أبي هريرة مرفوعا، يوم الجمعة يوم عيد، فلا تجعلوا يوم عيدكم يوم صيامكم إلا أن تصوموا قبله أو بعده.

وروى ابن أبي شيبة عن علي قال: من كان منكم متطوعا من الشهر، فليصم يوم الخميس ولا يصوم يوم الجمعة، فإنه يوم طعام وشراب وذكر.

وقال آخرون: بل الحكمة مخالفة اليهود، فإنهم يصومون يوم عيدهم، أي يفردونه بالصوم، فنهى عن التشبه بهم، كما خولفوا في يوم عاشوراء، بصيام يوم قبله أو بعده، وهذا القول هو المختار عندي؛ لأنه لا ينتقض بشيء.

 
 

 
 

یہ آیت ١٠ ہجری میں “حجتہ الوداع” کے موقع پر “عرفہ” کے روز “جمعہ” کے دن “عصر” کے وقت نازل ہوئی جب کہ میدان عرفات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے گرد چالیس ہزار سے زائد اًتقیا و ابرار رضی اللہ عنہم کا مجمع کثیر تھا۔

 
 

اس کے بعد صرف اکیاسی روز حضور اس دنیا میں جلوہ افروز رہے۔

قول سلیم:کیا ہی غلط حساب کتاب لگایا ہے۔

 

October 17, 2011 Posted by | Islam | Leave a Comment

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.