إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ

صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا

اہلسنت ویب سائٹس

اہلسنت ویب سائٹس

فیض رضا نیٹ ورک

انجمن طلباءاسلام

فیضان مدینہ نیٹ ورک

ادارہ تحقیقات امام احمد رضا کراچی

فیضان عطار نیٹ ورک

اسلام فور یو

قادری رضوی فورم

اسلامک یونیورسٹی جامیۃالمدینہ

ماہنامہ آواز اہلسنت گجرات

اسلامک اکیڈمی امریکہ

ماہنامہ تحفظ اسلام کراچی

اعلٰی حضرت نیٹ ورک

مدنی نیٹ ورک

برکاتی نیٹ ورک

مصطفائی تحریک پاکستان

تفسیر قرآن

نفس اسلام

تحریک فکر رضا ممبئی

نور مدینہ نیٹ ورک

جماعت اہلسنت پاکستان

نور نبی نیٹ ورک

جمعیت اشاعت اہلسنت پاکستان

نعت رنگ

جامعۃ الاشرفیہ مبارکپور انڈیا

  ٹرو اسلام نیٹ ورک

ختم قادریہ نیٹ ورک

آن لائن مفتی

ختم نبوت

اہلسنت نیٹ ورک

دارالعلوم نعیمیہ کراچی

المصطفٰی ویلفیئر سوسائٹی

درگاہ سیدی اعلٰی حضرت

المصطفٰی ویلفیئر سوسائٹی ( ارتھ

دعوت اسلامی

امام مصطفٰی رضا ریسرچ سنٹر

رضا اکیڈمی ممبئی

امام احمد رضا نیٹ ورک

رضا اکیڈمی ساؤتھ افریقہ

سنی تحریک پاکستان

سنی دعوت اسلامی

صراط مستقیم

ضیا الامت پیر کرم شاہ الازھری

اہلسنت بلاگ

فتنہ طاہریہ پہ بلاگ

نعتیہ بلاگ

امام احمد رضا بلاگ

اویس رضا قادری بلاگ

January 5, 2008 Posted by | Islam, Pakistan, القران, الحديث, امام احمد رضا | Leave a Comment

امام اہلسنت کی ایک نفیس تقریر

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہ

میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم


امام اہلسنت امام احمد رضا خان قدس سرہ کی ایک نفیس تقریر کا خلاصہ بالاضافہ

نحمدہ و نصلی علٰی رسولہ الکریم وعلٰی آلہ و اصحابہ اجمعین ہ

حضور “ نعمۃاللہ “ ہیں، قرآن عظیم نے ان کا نام “نعمۃ اللہ “ رکھا۔ (اللہ کی نعمت عظمٰی)
“الذین بدلوا نعمۃاللہ کفرا“
جن لوگوں نے اللہ کی نعمت ، ناشکری سے بدل دی ۔
کی تفسیر میں حضرت سیدنا عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
“نعمۃاللہ“ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ۔ولہذا ان کی تشریف آوری کا تذکرہ امتثال امر الہی (تعمیل حکم خداوندی) ہے۔
قال اللہ تعالٰی:
وامابنعمۃ ربک فحدث ہ
“ اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔“
حضور اقدس کی تشریف آوری ، سب نعمتوں سے اعلٰی نعمت ہے یہی تشریف آوری ہے جس کے طفیل دنیا ، قبر، حشر،برزخ،آخرت، غرض ہر وقت، ہر جگہ، ہر آن، نعمت ظاہر وباطن سے ہمارا ایک ایک رونگٹا متمتع اور بہر مندہ ہے اور ہو گا۔
انشاءاللہ تعالٰی۔
اپنے رب کے حکم سے، اپنے رب کی نعمتوں کا چرچہ، مجلس میلاد میں ہوتا ہے۔ مجلس میلاد آخر وہی شے ہے جس کاحکم رب العزت دے رہا ہے۔
مجلس مبارک کی حقیقت، مجمع المسلمین کو
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری و فضائل جلیلہ وکمالات جمیلہ کا ذکر سناناہے۔(یہی اس کی حقیقت ہے) بند یا رقعہ باٹنا، یا طعام و شیرینی کی تقسیم، اس کا جزء حقیقت نہیں(کہ اس کے بغیر میلاد کا وجود ہی معدوم ہو) نہ ان میں کچھ جرم، اول دعوت الی الخیر ( خیر کی طرف بلانا) ہے اور دعوت الی الخیر بے شک خیر ہے۔
اللہ عزوجل فرماتاہے:
ومن احسن قولا ممن دعا الی اللہ۔
“ اس سے زیادہ کس کی بات اچھی ہو جو اللہ کی طرف بلائے۔“
صحیح مسلم شریف میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :
من دعا الی ھدی کان لہ الاجر مثل اجور من تبعہ ولا ینقص ذلک من اجورھم شیئا۔
“ جو لوگوں کو کسی ہدایت کی طرف بلائے ، جتنے اس کا بلانا قبول کریں، ان سب کے برابر اسے ثواب ملے اور ان کے ثوابوں میں کچھ کمی نہ ہو۔“
اور اطعام طعام ( کھلانے پلانے کااہتمام و انتظام) یا تقسیم شیرینی ، بر وصلہ و احسان و صدقی ہے اور یہ سب شرعا محمود۔( کہ قرآن و حدیث میں جا بجا اس کی ترکیب و تاکید آئی۔)ان مجالس کے لئے صرف تم ہی نہیں ۔ ملائکہ بھی تداعی کرتے ہیں جہاں جلس ذکر شریف ہوتے دیکھہ، ایک دوسرے کع بلاتے ہیں کہ آؤ یہاں تمھارا مطلوب ہے۔ پھر وہاں سے آسمان تک چھا جاتے ہیں۔ تم دنیا کی مٹھائی بانٹتے ہو۔ ادھر سے رحمت کی شیرینی تقسیم ہوتی ہے۔ وہ بھی ایسی عام ( بلا روک ٹوک) کہ نا مستحق کو بھی حصہ دیتے ہیں۔ ( اور اس مین برغبت تمام شرکت کرنے والے مصداق بن جاتے ہیں اس حدیث کا )

ھم القوم لا یشقی بھم جلیسھم۔
“ ان لوگوں کے پاس بیٹھنے والا بھی بد بخت نہیں رہتا۔“
یہ مجلس آج سے نہیں ۔ آدم علیہ السلام نے خود کی اور کرتے رہے ۔ اور انکی اولاد میں برابر ہوتی رہی۔ کوئی دن ایسا نہ تھا کہ آدم علیہ السلام ، ذکر حضور نہ کرتے ہوں۔ اول روز سے آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو تعلیم ہی یہ فرمایا گیا کہ میرےذکر کے ساتھ، میرے حبیب و محبوب کا ذکر کیا کرو،
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
جس کے لئے عملی کاروائی یہ کی گئی کہ جب روح الہی آدم علیہ الصلوۃ و السلام کے پتلے میں داخل ہوی ہے ، آنکھ کھلتی ہے، نگاہ ساق عرژ پر ٹھرتی ہے، لکھا دیکھتے ہیں:
لا الہ الا اللہ ممد رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )
عرض کی : الہی یہ کون ہے ؟ جس کا نام تو نے اپنے نام اقدس کے ساتھ لکھا ہے؟ ارشاد ہوا: اے آدم! وہ تیری اولاد میں سب سے پچھلا پیغمبر ہے۔ وہ نہ ہوتا تو میں تجھے نا بناتا۔
لولا ممد ما خلقتک ولا ارضا ولا سماء۔
“اسی کے طفیل میں تجھے پیدا کیا اگر وہ نہ ہوتا، نہ تجھے پیدا کرتا اور نہ زمین و آسمان بناتا۔“
تو کنیت ابو محمد کر،
صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وبارک وسلم۔
آنکھ کھلتے ہی نام بتایا گیاپھر ہر وقت ملائکہ کی زبان سے ذکر اقدس سنایا گیا۔ وہ مبارک سبق عمر بھر یاد رکھا ۔ ہمیشہ ذکر وشرشا کرتے رہے ۔ جب وصال شریف قریب آیا، شیث علیہ الصلوۃوالسلام سے ارشاد فرمایا:
“ اے فرزند میرے بعد تو خلیفہ ہوگا۔ عماد تقوی( ستون پرہیزگاری) عروہ وثقیٰ ( دستی استوار و محکم ) کو نہ چھوڑنا۔ العروۃ الوثقی
محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، عروہ وثقی محمد ہیں۔ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ جب اللہ کو یاد کرے ، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کا ذکر ضرور کرنا کہ میں نے فرشتوں کو دیکھا کہ ہر گھڑی ان کی یاد میں مشغول ہیں۔“
اسی طور پر چرچا ان کا ہوتا رہا ۔ پہلی انجمن روز میثاق جمائی گئی ، اس میں حضور کا ذکر تشریف آوری ہوا ۔
اور قرآن کریم میں اس کا ذکر یوں فرمایا کہ:
واذ اخذ اللہ میثاق النبین لما اٰتیتیکم من کتاب و حکمۃ ثم جآ ءکم رسول مصدق لما معکم لتومن بہ التنصرنہ قال ء اقررتم واخذ تم علٰی ذلکم اصری قالوا اقررنا قال فاشھدوا قانا معکم من الشٰھدین ہ فمن تولی بعد ذلک فاو لئک ھم الفٰسقون ۔
“ اور عہد لیا اللہ نے نبیوں سے، کہ بے شک میں تمہیں کتاب و حکمت عطا فرماؤں، پر تشریف لائیں تمھارے پاس وہ رسول ، تصدیق فرمائیں ان باتوں کی جو تمھارے ساتھ ہیں تو تم ضرور ان پر ایمان لانا اور ضرور ضرور ان کی مدد کرنا۔( اور قبل اس کے کہ انبیاء کچھ عرض کرنے پائیں ) فرمایا کیا تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا ؟ عرض کی ہم نے اقرار کیا۔فرمایا تو آپس میں ایک دوسرے کے گواہ ہو جاؤ ۔ اور میں بھی تمھارے ساتھ گواہوں سے ہوں پھر جو کوئی اس اقرار کے بعد پھر جائے تو وہی لوگ بے حکم ہیں۔“
مجلس میثاق میں “رب العزت “ نے تشریف آوری حضور کا بیان فرمایا اور تمام انبیاء علیھم الصلوۃ والسلام نے سنا اور ( انقیاد ) وگرویدگی) و اطاعت ( و خدمت گزاری ) حضور کا قول دیا۔ ان کی نبوت ہی مشروط تھی ، حضور کے مطیع و امتی بننے پر ۔ ( اللہ اللہ! امتیوں پر فرض کرتے ہیں رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اور رسولوں پر فرض کرتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گرویدگی فرماؤ۔ ) غرض صاف صاف جتا رہے ہیں کہ مقصود اصلی ایک وہی ہیں باقی تم سب تابع و طفیلی۔

مقصود ذات او ست دگر جملگی طفیل

تو سب سے پہلے حضور کا ذکر تشریف آوری کرنے والا اللہ ہے کہ فرمایا!
ثم جآءکم رسول۔
“پھر تمھارے پاس وہ رسول تشریف لائیں۔“
اور ذکر پاک کی سب میں پہلی (مجلس) یہی مجلس انبیاء ہے۔ علیہم الصلوۃوالسلام۔ جس میں پڑھنے والا اللہ اور سننے والا انبیاء اللہ۔
(صلوات اللہ تعالٰی علیہم اجمعین)
غرض اسی طرح ہر زمانے میں ، حضور علیہ السلام کا ذکر ولادت و تشریف آوری ہوتا رہا۔ ہر قرن میں انبیاء و مرسلین، آدم علیہ السلام سے لیکر ابراہیم و موسٰی و داؤد و سلیمان و زکریا علیہم السلام تک، تمام نبی و رسول، اپنے اپنے زمانے میں مجلس حضور ترتیب دیتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ سب میں پچھلا، ذکر شریف سنانے والا ، کنواری ستھری پاک بتول کا بیٹا، جسے اللہ نے بے باپ کے پیدا کیا ، نشانی سارے جہاں کے لئے، یعنی سیدنا عیسٰی علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لایا فرماتا ہوا!
مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد۔
“ میں بشارت دیتا ہوں ان رسول کی، جو عنقریب میرے بعد تشریف لانے والے ہیں جن کا نام پاک احمد ہے۔ ( صلی اللہ تعالٰی علیہ و علٰی آلہ و صحبہ وبارک وسلم )“
یہ ہی مجلس میلاد۔ جب زمانہ ولادت شریف کا قریب آیا۔ تمام ملک و ملکوت میں محفل میلاد تھی۔ عرش پر پر محفل میلاد، فرش پر محفل میلاد، ملائکہ میں مجلس میلاد ہو رہی تھی، خوشیاں مناتے حاضر آئے ہیں، سر جھکائے کھڑے ہیں، جبرئیل و میکائیل حاضر ہیں، علیہم الصلوۃ و السلام۔ اس دولہا کا انتظار ہو رہا ہے جس کے صدقے میں یہ ساری برات بنائی گئی۔ سبع سموات میں عرش و فرش پر دھوم ہے۔
ذرا انصاف کرو، تھوڑی سی مجازی قدرت والا، اپنی مراد کے حاصل ہونے پر جس کا مدت سے انتظآر ہو، اب وقت آیا ہے تو کیا خوشی کا سامان نہ کرے گا۔ وہ عظیم مقتدر، چھ ہزار برس ہیشتر، بلکہ لاکھوں برس سے، ولادت محبوب کے پیش خیمے تیار فرمارہا ہے۔ اب وقت آیا ہے کہ وہ مراد المرادین، ظہور فرامنے والے ہیں، یہ “قادر علی کل شیء“ ( جو ہر شے پر ودرت تامہ رکھتا ہے) کیا کچھ خوشی کا سامان مہیا نہ فرمائے گا۔
شیاطین کو اس وقت جلن تھی اور اب بھی جو شیطان ہیں جلتے ہیں اور ھمہشہ جلیں گے۔ غلام تو خوش ہو رہے ہیں کہ ان کے ہاتھوں ایسا دامن آیا کہ یہ گر رہے تھے اس نے بچا لیا۔ ایسا سنبھالنے والا ملا کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔
صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وبارک وسلم۔
ایک آدمی ایک کو بچا سکتا ہے۔ دو کو بچا سکتا ہے۔ کوئی قوی ہوگا زیادہ سے زیادہ دس بیس کو بچا دے گا ۔ اور اور یہاں کروڑوں اربوں پہسلنے والے ، اور بچانے والا وہی ایک۔
انا اخذکم بحجزکم عن النار ھلموا الی۔
“ میں تمھارا بند کمر پکڑے کھینچ رہا ہوں، ارے میری طرف آؤ۔ (صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وبارک وسلم)
یہ فرمان صرف صحابہ سے خاص نہیں۔ قسم اس کی جس نے انہیں “ رحمۃ للعلمین“ بنایا۔ آج وہ ایک ایک مسلمان کا بند کمر پکڑے اپنی طرف کھینچ رہے ہیں کہ دوزخ سے بچائیں۔ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلی وصحبہ وبارک وسلم۔
الحمد للہ کیسا حامی پایا۔ اربوں سے اربوں پراتب، گرنے والوں کو ان کا ایک اشارہ کفایت کر رہا ہے تو ایسے کا پیدا ہونے کا ابلیس اور اس کی ذریت کو جتنا غم ہو تھوڑا ہے۔ پہاڑوں میں ابلیس اور تمام مردہ ( مردود بارگاہ الٰہ) سرکش قید کر دئے گئے تھے۔ اسی کے پیرو اب بھی غم کرتے ہیں، خوشی کے نام سے مرتے ہیں۔
“ملائکۃ سبع سموات “ ( ساتوں آسمانوں کے فرشتے ) دھوم مچا رہے تھے ۔ عرش ذوق و شوق میں ہلتا تھا، ایک علم مشرق اور دوسرا مغرب، اور تیسرا بام کعبہ پر نصب کیا گیا اور بتایا گیا کہ ان کا دار السطنت ، انہیں کی قلمرو میں داخل ہے ( اور جب ) اس مراد کے ظاہر ہونے کی گھڑی آپہنچی کہ اول روز سے اس کی مھفل میلاد ، اس کے خیر مقدم کی مبارک باد ہورہی ہے،“ قادر علی کل شیء“
نے اس کی خوشی میں کیسے کچھ انتظام فرمائے ہوں گے۔
گھر گھر مسرت و شادمانی کی رسوم ، ہر طرف تہنیت و مبارکباد کی دھوم، نسیم بہار چلی، شاخ چاخ سے گلے ملی، گل فرط مسرت سے پھولے نہ سمائے ، کلیوں کی چٹک سے
“ صلوات اللہ تعالٰی و سلامۃ علیک یا رسول اللہ“ کی آوازیں آئیں۔ سحاب رحمت “ اللھم صل علی ھذا النبی الکریم “ کہتا گھر آیا ۔ بوندیاں شوق دیدار میں درود پڑھتی اتریں۔ بجلیوں نے سورہ نور ورد زبان کی اور جب وہ مبارک ساعت بالکل قریب آئی جبرئیل امین ایک پیالہ شربت جنت کا سیدتنا آمنہ رضی اللہ عنہا کے لئے حاضر ہوئے ۔ اس کے نوش فرمانے سے وہ دہشت زائل ہوگئی جو ایک آواز سننے سے پیدا ہوئی تھی، پھر ایک مرگ سپید کی شکل ن=بن کر ، اپنا پر، سیدتنا آمنہ رجی اللہ عنہا کے بطن مبارک سے مل کر عرض کرنے لگے:

اظھر یا سید المرسلین
اظھر یا خاتم النبین
اظھر یا اکرم الاولین و الاخرین

“ جلوہ فرمائیے اے تمام رسولوں کے سردار! جلوہ فرمائیے اے تمام انبیاء کت خاتم، جلوہ فرمائیے اے سب اگلوں پچھلوں سے زیادہ کریم۔“

یا اور الفاظ ان کے ہم معنی، مطلب یہ کہ دونوں جہاں کے دولہا! برات سج چکی اب جلوہ افروزی سرکار کا وقت ہے۔
فظھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کالبد المنیر۔
“ پس حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلوہ فرماہوئے جیسے چودھویں رات کا چاند۔“ ( انتھی)
اے انجمن والو ہوشیار، باادب با نصیب، بے ادب بے نصیب، دست بستہ کھڑے صلوۃ و سلام عرض کرو ۔ تمھارے حمایتی ، تمھارے والی، تمھارے یاور، تمھارے سرور، تمھارے آقا، تمھارے مولا، تمھارے سردار، تمھارے غم خوار، محبوب خدا احمد مجتبٰی محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کی سواری آچکی اور وہ جان مسیح ، جان بخش عالم تشریف لا چکے۔
تعظیم کو اٹھے ہیں ملک، تم بھی کھڑے ہو
پیدا ہوئے سلطان عرب، شاہ عجم آج

الصلوۃ و السلام علیک یا رسول اللہ الصلوۃ و السلام یا نبی اللہ الصلوۃ و السلام علیک یا حبیب اللہ الصلوۃ و السلام علیک یا خیر خلق اللہ الصلوۃ و السلام علیک وعلی اٰلک و صحبک و اولیاء امتک و علماء ملتک دائما ابدا سرمدا امین والحمد للہ رب العلمین۔
شمس و قمر سلام کو حاضر ہیں السلام جن و بشر سلام کو حاضر ہیں السلام
سب بحر و بر ، سلام کو حاضر ہیں السلام سنگ و شجر سلام کو حاضر ہیں السلام
سب خشک و تر ، سلام کو حاضر ہیں سب کروفر ، سلام کو حاضر ہیں السلام
شوریدہ سر سلام کو حاضر ہیں السلام خستہ جگر سلام کو حاضر ہیں السلام

بشكرية

http://sulemansubhani.wordpress.com/

December 29, 2007 Posted by | القران, الحديث, امام احمد رضا | Leave a Comment

امام احمد رضا کی عالمی اہمیت

امام احمد رضا کی عالمی اہمیت

از: انگریز نو مسلم ڈاکٹر محمد ہارون انگلینڈ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اعلٰی حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان ہندوستان کے معروف سنی عالم تھے۔ وہ 1856ء(/12731272) میں پیدا ہوئے۔ اور 1921ء(1339/1340) میں انہوں نے وصال فرمایا۔ وہ اپنے دور میں اہلسنت کے امام تھے- اور اس قدر عظیم تھے کہ انہیں اسلامی صدی کے مجدد کے لقب سے پکارا گیا۔ اسلامی صدی کا مجدد وہ ہوتا ہے جو اپنے دور کے تمام لوگوں میں اہم ترین شخصیت ہو۔ پہلی صدیوں کے مجدد دین امام غزالی علیہ الرحمہ کی طرح کے لوگ تھے- جنہوں نے اپنے زمانے میں عظیم ترین اپمیت کے مراتب حاصل کئے مثلاً امام غزالی وہ شخصیت ہیں جن سے پوروپ نے فلسفہ سیکھا ۔ اس مقالے کا مقصد تمام دنیا کے لئے امام احمد رضا بریلوی کی تعلیمات و نظریات کی اہمیت واضح کرنا ہے۔ کوئی بھی شخص دنیا بھر کے لئے اہم ہوتا ہے اگر اس کے یہاں اپنے دور کے اہم ترین مسائل کا حل موجود ہو ۔ کارل مارکس یالینن عالمی اہمیت کے حامل سمجھے جاتے تھے کیونکہ ان کے انکار و نظریات تمام انسانیت کی رہنمائی کرتے محسوس ہوتے تھے۔ اس مقالے میں ہم ثابت کریں گے کہ امام احمد رضا نے اپنے افکار و تعلیمات سے اس صدی کے اہم ترین مسائل کا حل پیش فرمایا ہے۔ ہماری صدی بھی امام احمد رضا کی صدی ہے۔ اور ہماری دنیا کو بھی اسی طرح کے مسائل درپیش ہیں۔ جس طرح کے امام احمد رضا کے وقت میں تھے۔ اس لئے امام احمد رضا کی اہمیت آج ہمارے لئے بھی اتنی ہی ہے جس قدر 1921ء میں ان کے وصال کے وقت کے لوگوں کے لئے تھی۔ بہتر ہو گا کہ ہم اپنے مقالے کا آغاز عہد جدید کے مزکزی مسائل کا احاطہ کرنے کی کوشش سے کریں۔ یہ جدید دور نئی تہذیب کی کامیابی پھر ناکامی کا دور ہے ۔ سوسال پہلے سائنس پر بہت گہرا اعتقاد تھا اس وقت سے اب تک ہم سائنس کی تنگ دامنی اور بہتر دنیا کی تعمیر میں ناکامی کا مشاہدہ کر چکے ہیں بلکہ سائنس نے اور بھی نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔ جس سے سائنس پر یقین ختم ہو کر رہ گیا ہے ۔ اس عہد میں سرمایہ داری کا بحران بھی دیکھا ہے اور سرمایہ داری کے مغربی متبادل کی ناکامی بھی۔ کمیونز ناکام ہو گیا ہے۔ سفید نسلی تعصب اپنی تمام تر دپشتوں کے ساتھ نازی ازم میں ملاحظہ کیا جا چکا ہے۔ اور ایک جماعتی اجتماعیت کے نظریے نے بھی تصور سے کہیں بڑھ کر خوف پیدا کیا ہے۔ جدید زمانہ ایسا زمانہ ہے جس میں جدید ثقافت بھی ناکام ہو گئی ہے۔

یہ عہد یوروپ اور بقیہ دنیا دونوں میں جدید ثقافت کی تخریب کا عہد ہے۔ یہ عہد ہر طرف الحاد کے عروج کے ساتھ مذہب کی موت کا عہد ہے۔ بلکہ اس سے بھی اہم۔ دنیا میں موجود مذاہب کے زوال کے سبب مذاہب کے نئے نئے گھٹیا نمونوں کے ظہور کا عہد ہے۔ یہ عہد بھیڑیے کی سی چال کی ذہنیت اجتماعی تحریکوں، فرد کی تذلیل کا عہد ہے۔ جیسے ہم نے پہلے ذکر کیا ایک جماعتی اجتماعیت کے ذریعے انسان کی شرمناک کارستانیوں کا عہد ہے۔ جدید دور نے ان تمام جدتوں سے جن کا ہم نے ذکر کیا مسلم دنیا کو خاص طور پر متاثر کیا ہے۔ یہ جدید دور اسلام، اہل اسلام اور روح انسانی سب کے لئے گہری تاریک رات ہے۔ یہی وہ دور ہے جس میں مغرب نے روایتی مسلم معاشرہ کو کچل کر رکھ دیا ہے۔ اس کی وجہ مسلم سیاسی قوت کا زوال اور ان مسلمانوں کی روحانی سراندازی ہے۔ جنہوں نے مغرب کو قبول کیا اور اس کی پیروی کی۔ اس کی ستائش کی اور پرستش کی۔ یوں دنیا سے اللہ تعالٰی کو وجود کا تصور معدوم ہو گیا اور متعصب لادینیت اور دہرنیت نے اس کی جگہ لے لی۔ اسی سے وہابیت نے جنم یہاں اسلام دین کی حیثیت سے ختم ہو گیا ۔ اور جدید یدیت کی صورت میں مغرب کی بھونڈی تقلید اور بنیاد پرستی کی صورت میں کمیونزم اور فاشسزم طرز کی سماجی تحریک اس کی متبادل بن گئی۔ روایتی معاشرہ تباہ ہوا اور اس کی جگہ مغرب کا در آمد شدہ نو آبادیاتی نسلیت پرستی اور سرمایہ دارانہ معاشرہ آ گیا۔ اور پھر جب مغرب خود ہی ناکام ہو گیا تو اب ہم ان تمام کھنڈرات کے بیچ کھڑے ہیں۔ جنہیں مغرب نے کمیونزم سے فاشسزم، فاشسزم سے نیشنلزم ، اور نیشنلزم سے کیپٹلزم کی شکل میں تعمیر کرنے کی کوشش کی۔

عالمی حیثیت کی حامل وہی شخصیت ہو سکتی ہے جو دور جدید کی خوفناک شکستوں اور ناکامیوں میں انسانیت کی رہنمائی کی اہلیت رکھتی ہو۔ اعلٰی حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی کی زندگی کے اصل کام کو اختصار سے بیان کرنا بہت آسان ہے۔ جنہوں نے تمام عمر اہلسنت کے عقائد کے مطابق اسلام اور اسلامی سوسائٹی کا جدید دنیا کے حملوں کے خلاف دفع کیا ۔ خاص طور پر ان اندرونی حملوں کے خلاف جو ان مسلمانوں کی طرف سے تھے۔ جن کا مقصد اہلسنت کے عقائد کے مطابق اسلام سے جان چھڑا کر ایک نئی چیز کو رائج کرنا تھا۔ اہلسنت کے عقائد کے مطابق اسلام اور اسلامی سوسائٹی کے دفع کا کاوشیں ہی امام احمد رضا کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ یہ عالمی اہمیت امام احمد رضا کے عالم دین ہونے اور سنی عالم کی حیثیت سے کام کرنے سے شروع ہوئی۔ انہوں نے زندگی بھر ایک عالم ہی کی حیثیت سے کام کیا۔ انہوں نے ہر اس شخص کے سوالوں کے جواب دیئے جس نے ان سے رابطہ کیا۔ ان کا کردار اسلام کا گہرا علم رکھنے والے ایک دانشوار کا کردار تھا۔ انہوں نے بطور ایک روایتی اسلامی اسکالر تعلیم پائی تھی۔ اور اس میں بھی بے پناہ وسعت تھی۔ وہ مختلف اسلامی اور دوسرے علوم میں ماہر تھے۔ جن میں اسلامی مذہبی علوم و فنون کے علاوہ ریاضی و فلکیات بھی شامل تھے۔ ایک متجر تعلیم یافتہ عالم کی حیثیت سے محض تحقیق طلب سوالوں کے جواب لکھ کر دنیا کو متاثر کرنا شاندار اہمیت رکھتا ہے۔

آج کل اجتماعی تنظیم سازی کا ایسا دور ہے۔ جس میں وسیع دفتری نظام نے فرد کونگل لیا ہے۔ امام احمد رضا نے اس طرز پر کام کرنے سے انکار کیا ہے۔ ان کے دور میں اجتماعی تحریکیں ابھرنا شروع ہو چکی تھیں۔ مگر وہ کسی کے قریب تک نہ گئے۔ انہوں نے کبھی بھی ایک بیوروکریٹ سیاستداں یا منتظم بننے کی خواہش نہ کی۔ اس اجتماعی تنظیم سازی کے تصور کو مودودی کی طرح کے لوگ اسلام میں داخل کرنے کا سبب بنے ۔ امام احمد رضا نے شروع دن ہی سے اس کی مخالفت کی۔ انہوں نے اجتماعی تحریکوں مثلاً تحریک خلافت وغیرہ میں شمولیت سے انکار کیا۔ اور ان تحریکوں کے لئے خود کوئی اجتماعی تحریک ترتیب دینے سے بھی مجتنب رہے۔

آج کے جدید دور کا انسان اندر سے مر چکا ہے۔ کیونکہ آج اچھے فرد کی مانگ نہیں رہی۔ بلکہ محض ایسا فرد درکار ہوتا ہے جو نعرہ لگائے اور جس طرح اسے کہا جائے عمل کرتا رہے۔ امام احمد رضا نے بتایا کہ عصر جدید میں فرد کو یوں مر جانے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے عالمانہ رائے دیتے ہوئے بڑی سادگی سے اپنا کام کیا۔ ہٹلر، اسٹالن اور اجتماعی تشہیر کے اس دور میں آج بھی اچھے فرد پر بھروسہ کرنے کی عالمی اہمیت ہے۔ یہ دور حکمت و دانائی کی موت اور شعبہ جاتی تخصص کا دور بھی ہے۔

پہلے زمانے کے مقابلے میں آج ایک طالب علم کم سے کم شئی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جانتا ہے۔ یونیورسٹی ایسی جگہ قرار پائی ہے جہاں پروفیسر بھی اپنے چھوٹے سے مخصوص مضمون کے بارے میں کافی علم نہیں رکھتا۔ کمیرج یونیورسٹی میں حکمت و دانش کا کوئی پروفیسر نہیں ہے۔ تعلیم یافتہ مسلمان اپنے ماضی سے کٹ چکے ہیں۔ کسی بھی روایتی تعلیم یا علم کا وجود اب کم ہی نظر آتا ہے۔ اب پڑھا لکھا طبقہ سابقہ ادوار کے روایتی علوم اور حکمت و دانش کو چھوئے بغیر محض اپنے محدودمضامین کا مطالعہ کرتا ہے۔ ایک ماہر فلکیات صرف فلکیات کا علم رکھتا ہے۔ اسے اس حکمت و دانش کی ذرہ بھر خبر نہیں ہوتی جو دوسو سال قبل کے ماہر فلکیات کو حاصل تھی۔ اعلٰی حضرت امام احمد رضا بریلوی اس علمی روایت کے لئے سامنے آئے جو مغرب میں اپنی موت مر چکی تھی ۔ ان کا مقصد علم کی ممکنہ حد تک وسیع کرنا تھا۔ ایسا علم جس کا ایک ہزار سالہ قدیم روایت سے گہرا رابطہ تھا۔ امام احمد رضا اپنی کتابوں میں ایک ہزار سال پہلے تک کے مصنفین کے حوالے دیتے تھے۔ امام احمد رضا بریلوی فلکیات، سیاسیات بلکہ بینک کاری اور کرنسی تک کے سوالوں پر بھی سیر حاصل عالمانہ رائے دیتے تھے۔ اور اس کے ساتھ ہی وہ روحانی وجدان سے متعلق مشکل ترین سوالات پر بھی تبصرہ و تجزیہ کرنے کی اہلیت رکھتے تھے۔ بلا شبہ امام احمد رضا اپنے اسلامی دور میں صدیوں پرانی ثقافت کا دفع کر رہے تھے۔ آج کی ثقافت تو بالکل بے بنیاد ہو کر رہ گئی ہے۔ ادب اور آرٹ کا ماضی کی روایات سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ آج یوروپی مصوری اور شاعری پچاس سال پہلے کی روایت کی پاسداری نہیں کر رہی جبکہ امام احمد رضا نے قدیم زبانوں تک کی فنی روایت کو نبھایا ہے۔ یہ پوری انسانی تاریخ سے کشید شدہ مکمل ثقافت تھی۔ اسی وجہ سے امام احمد رضا کی عالمی اہمیت ہے۔

امام احمد رضا محدث بریلوی نے طب میں بھی دلچسپی لی۔ طب جدید کا بڑا اصول یہ ہے کہ اس کا طب کی قدیم روایت سے کوئی سابقہ نہیں رہا اور یہ حکم و دانا انسانوں کے بجائے تنگ نظر سائنسدانوں کے ہاتھوں میں آگئی ہے۔ امام احمد رضا علیہ الرحمہ محض ایک دانا اور ذہین عالم دین، ماہر فنون اور طبیب ہی نہیں تھے بلکہ انہوں نے تمام تر قدیم روایتی حکمت و دانش کو اندرونی و بیرونی حملوں سے بچایا۔ شاید دنیا کے لئے امام احمد رضا کی سب سے زیادہ اہمیت اس بات میں تھی کہ انہوں نے ( مضرت رساں ) سائنس کی مخالفت کی۔ امام احمد رضا کی زندگی کے اکثر دور میں سائنس کی پرستش ہوتی تھی۔ یہ نیوٹن اور ڈارون پر مکمل ایمان کا دور تھا۔ اعلٰی حضرت امام احمد رضا کی زندگی کے آخری ایام کے قریب آئن سٹائن کے انقلاب نے سائنس کی پرستش کے بارے مٰن شکوک و شہبات پیدا کرنے شروع کئے ۔ یہ خاص طور پر مسلم دنیا ہی میں سائنس کی پوجا ہوتی تھی۔ اور سائنس ہی کو مغربی تسلط کی وجہ گردانا جاتا تھا۔ اسی سائنس کی مدد سے سفید فام اقوام نے نو آبادیات کے لوگوں پر قابو پا رکھا تھا۔ سائنس کی پرستش میں بہت سے نام نہاد مسلمان بھی شامل تھے۔ اور مسلمانوں میں سے سر سید احمد خان جیسے لوگوں نے اسلام کو اس طرح تبدیل کرنے کی کوشش کی کہ اسلام سائنس کے بارے میں مغرب کے نظریات کے مطابق ڈھل جائے۔ یہی نہیں بلکہ ان لوگوں نے اس سے بھی زیادہ کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے سائنس ہی کو مسلمان پر استبدار، مسلط ہونے کی وجہ قرار دیا۔ مسلمان سائنس پرست نہیں تھے انہیں سائنس پرست بننے پر مجبور کیا گیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ مسلمانوں کے لئے کہیں آزادی نہ ہو اور سائنس کے نام پر مسلمانوں کی مرضی کے بغیر مغربی ماہرین اور جدید مسلم ماہرین ہر جگہ حکومت کریں۔ یقینًا آج ہم جانتے ہیں یہ سائنس زیادہ تر حماقت ہے۔ امام احمد رضا کے وقت میں سائنس سخت نسلیت پرست تھی۔ اور 1921ء میں ان کے وصال کے وقت اس سائنس نے مغرب میں کمیونسٹ اور فاشٹ استبدار کا جواز فراہم کیا تھا۔ سائنس کی پرستش کے تباہ کن منطقی نتائج آج اچھی طرح سمجھے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر مسلم دنیا نے سائنس کے ہاتھوں خوفناک نقصان اٹھائے ہیں۔ ان نقصانات میں سے ایک سائنس کو ہر غلطی سے مبرا سمجھنے والی نوعیت وسطی ایشیاء کی کمیونسٹ رجیم کے ہاتھوں ماحول کی مکمل تباہی کا سانحہ ہے۔ آج ساری دنیا سائنس سے منہ موڑ کر اس روایتی قدیم حکمت و دانش کی حکمرانی سے قبل موجود تھی۔ لیکن امام احمد ر ضا نے آج سے سو سال قبل سائنس کے خلاف جہاد کیا۔ اگر آپ سائنس پر امام احمد رضا کی تصانیف پڑھیں تو آپ محسوس کریں گے کہ انہوں نے سائنسدانوں کی کس طرح تذلیل کی ہے۔

امام احمد رضا کے نزدیک قرآن اور اسلام ہی میں کامل سچائیاں ہیں۔ اور کسی بھی طرح انکی تردید کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔ اگر کبھی سائنسدانوں نے ایسا کیا بھی تو امام احمد رضا نے ان کے دلائل کو اسلامی دلائل سے رد کیا اور انکے پرخچے اڑا دیئے۔ اس طرح امام احمد رضا سائنس میں عظیم تھے۔ اگرچہ امام احمد رضا کسی طور پر بھی عالم سائنسداں نہیں تھے مگر وہ ریاضی اور فلکیات اتنی اچھی طرح جانتے تھے کہ رات کو آسمان دیکھ کر گھڑی کا وقت درست کر لیتے تھے۔ وہ مغربی سائنسی نظریات سے بھی آگاہی رکھتے تھے انہوں نے ستاروں کے جھکاؤ کی بنا پر بڑی تباہی کی پیشن گائی کرنے والے ایک مغربی ماہر فلکیات کا جواب لکھا۔ اور اپنے جواب میں انہوں نے مکمل طور پر آسمانوں اور کشش ثقل سے متعلق مغربی نظریات کو بنیاد بنایا۔ اور صحیح طور پر پیشم گوئی فرمائی کہ کوئی تباہی نہیں آئے گی اور ان کی پیشم گائی صحیح ثابت پوئی۔ (1) آپ کانظریہ تھا کہ سائنس کو کسی طرح بھی اسلام سے فائق اور بہتر تسلیم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کسی اسلامی نظریے۔ شریعت کے کسی جزیا اسلامی قانون سے گلو خاصی کے لئے اس کی کوئی دلیل مانی جا سکتی ہے اگرچہ وہ خود سائنس میں خاصی مہارت رکھتے تھے- لیکن اگر کوئی اسلام میں سائنس سے مطابقت پیدا کرنے کے لئے کوئی تبدیلی لانا چاہتا تو آپ اسے ٹھوس علمی دلائل سے جواب دیتے تھے۔ یہی ان کی عالمی اہمیت کی ایک بڑی دلیل ہے۔

امام احمد رضا کے نزدیک کسی بھی روایتی حکمت اور دانش کو ترک نہیں کیا جانا چاہئے۔ بلکہ سائنس کو چاہئے کہ وہ حکمت و دانش کی رقیب یا متبادل بن کر نہیں بلکہ ہمیشہ اس کا خادم بن کر رہے۔ ایک سو سال بعد اب یہی صورت حال ہے جس کی طرف خود مغرب بھی رجوع کر رہا ہے جیسا کہ سبز سیاست اور سبز تحریک سے ظاہر ہے۔ لیکن دنیا میں اب بھی استبدار کی مدد کرنے والی سائنس کی احمقانہ پرستش جاری ہے۔ مغرب اب جان گیا ہے کہ اسٹالن کے جبر اور ہٹلر کے نسلی تعصب کے پیچھے سائنس کا کیا کردار تھا۔ اسی لئے مغرب نے سائنس کو اس کے اصل مقام پر رکھنا شروع کر دیا ہے۔ امام احمد رضا اس وقت ہی سائنس کو اس کے اصل مقام پر رکھ رہے تھے۔ جب کہ ابھی اس قدر نقصان نہیں ہوا تھا۔ وہ سائنس کو اس مقام پر رکھتے تھے جس کی وہ اہل تھی۔ روایتی حکمت و دانش ابھی زندہ تھی اور وہ خود بھی اس روایتی دانش سے لبریز تھے۔ وہ صحیح تھے اور مغرب غلطی پر تھا۔

ہاں مغرب کے اپنی غلطی کے اعتراف سے سو سال قبل اپنی زندگی میں امام احمد رضا نے سائنسدانوں کی حماقتوں کا جواب دینے کی جدو جہد فرمائی لیکن بلا شبہ احمق یوروپیوں کی پوری دنیا کے مقابل وہ یکہ و تنہا تھے۔ تاہم انہوں نے سائنس کو اس کے اصل مقام پر رکھنے کیلئے مسلمانوں کو ضروری کام پر لگا دیا۔ انہوں نے محسوس کر لیا تھا کہ سب سے بڑا چیلنج سائنس کی پرستش اور اس کا وہ طریقہ تھا جس سے وہ اسلامی حکمت و دانش کا دھمکا رہی تھی۔ امام احمد رضا کے زمانے کے مقابلے میں آج ہم سائنس کو چیلنج کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہیں۔ کیونکہ آج مغرب میں بہت سے لوگ خود ہی سائنس کی محدودیت کو جان گئے ہیں۔ امام احمد رضا سائنس کے مقابل اسلام کا دفع کرنے اور سائنس کی حدیں واضح کرنے کی کاوشوں کی وجہ سے عالمی اہمیت کی حامل شخصیت ہیں۔ صرف امام احمد رضا کے طریق کو اپنا کر ہی مسلم دنیا اپنے تباہ کن ماضی اور حال سے پیچھے چھڑا سکتی ہے۔

اعلٰی حضرت امام احمد رضا بریلوی ایک اور سادہ طریقے سے بھی عالمی اہمیت رکھتے تھے۔ وہ ایک آفاقی تھے۔ جدید دور سخت نیشنلزم اور نسلیت پرستی کا دور ہے۔ لیکن امام احمد رضا چونکہ مسلمان تھے اس لئے کوئی ملک یا براعظم ان کا وطن نہیں تھا۔ پوری اسلامی دنیا انکی مادر وطن تھی۔ ان کی شہرت ساری اسلامی دنیا تک پھیلی ہوئی تھی۔ خود مکہ معظٌمہ میں ان کو قدر و منزلت کی ناگہ سے دیکھا جاتا تھا۔

(1) انہوں نے اسلام کی بین الاقوامی ثقافت کا تصور دیا۔ وہ تمام لوگوں سے مخاطب ہوئے۔ انہوں نے بہت سی زبانوں میں استفتاء کے جواب لکھے۔ وہ ہمیشہ اس زبان میں جواب دیتے جس زبان میں سوال کیا جاتا تھا۔

(2) آج کے دور میں خواتین و حضرات کتنے ہی زیادہ ہوں جب ایک ہی ملک ایک ہی گروہ یا ایک ہی نسل کی طرف دیکھتے ہیں تو بڑا عجیب لگتا ہے حتٰی کہ ایک عالمی شہرت کا حامل گلوکار بھی آفاقی نہیں ہوتا بلکہ محض امریکی کہلاتا ہے۔ امام احمد رضا ایک آفاقی شخصیت تھے۔ اور یقینًا وہ ایسے ہی تھے کیونکہ وہ ایک سنی مسلمان تھے۔ اور ان کا مقصد اہلسنت کے نظریات و عقائد کے مطابق اسلام کا دفع تھا۔ اہلسنت کے مطابق اسلام ہی تمام مذاہب میں سب سے زیادہ آفاقی ہے۔ عیسائیت کا مرکز اٹلی ہے۔ جبکہ اہلسنت کے مراکز بہت سارے ہیں اپنی تمام تر قدیم روایات کے ساتھ عرب، ترکی، وسط ایشیاء انڈیا مصر، یا اسی طرح کے دیگر ممالک امام احمد رضا کا پیغام آفاقی پیغام ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عالمی اسلامی برادری میں شامل ہو جاؤ جو تمام ملکوں ، تمام نسلوں اور تمام قوموں میں موجود ہے۔ کس قدر اہم پیغام ہے یہ دنیا بھر کے لئے۔ آج ہم مرگ مذہب کے دور میں رہ رہے ہیں۔ مذہب کو سائنس کے مطابق اور جدید بنانے کی کاوشوں نے مذہب و روحانیت کو نکال باہر کیا ہے۔ سچی روحانیت تقریبًا ختم ہو گئی ہے اور مذہب محض سیکولر مقاصد کے لئے رہ گیا ہے۔

اسی طرح صیہونیت اور یہودیت ہر طرح سے نازی ازم کی طرح مذہب سے ایک غلبہ پسند نسلیت پرست تحریک میں تبدیل ہو گئی ہے۔ عیسائیت میں مذہب دائیں بازو کی انتہا پسند سیاست کی مدد کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔ جیسا کہ سیاسی کیتھولک طریقہ یا جیری فال دیل کی انتہا پسند امریکی پروٹسنٹ بنیاد پرستی ہے۔ سری لنکا میں بدھ مت کے پیروکاروں میں مذہب نے نیشنلزم کی صورت اختیار کر لی ہے۔ اور مسلم دنیا میں اسلام ایک معاشرتی، اقتصادی اور سیاسی تحریک میں تبدیل ہو گیا ہے۔ جیسے مودودی اور خمینی کی سیاست میں اسلام کمیونزم اور فاشسزم کے نمونے پر تعمیر کیا گیا ہے۔

ان تمام صورتوں میں روحانیت غائب ہو جاتی ہے۔ لوگ خدا پر نہیں قوت و طاقت پر بھروسہ کرنے لگتے ہیں۔ صیہونیوں کی اصل امید امریکہ اور ایف۔14 پر ہے۔ وہ دعا کی بجائے اجتماعی پروپیگنڈہ اور اجتماعی تنظیم سازی پر یقین رکھتے ہیں۔ اعلٰی حضرت امام احمد رضا کی ساری تگ و تاز اس لئے تھی کہ کسی طرح روحانیت زندہ رہے۔

جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں وہ کسی بھی صورت میں اسلام کو سائنس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کو برداشت نہیں کر تے تھے۔ اس سے زیادہ اہم ان کی وہ کاوشیں ہیں جو انہوں نے اہلسنت کے عقائد کے مطابق اسلام کے روحانی اشغال کے دفاع کے لئے جاری رکھیں۔ انہوں نے صوفی ازم یا اسلامی تصوف کے دفاع کیلئے سخت محنت اٹھائی۔ اسلامی روحانیت کی بنیاد وہ مسلم درویش اور اولیائے کرام ہیں جن کا سلسلہ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ اقدس سے جا ملتا ہے۔ ان صوفیائے کرام کا ایک دوسرے سے اور ماضی بعید کے صوفی سلاسل سے گہرا ربط ہوتا ہے۔ اور اس طرح ایک نسل سے دوسری نسل تک صوفی ازم کا علم و عمل منتقل کرتے ہوئے وہ ایک زنجیر یا سلسلہ کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ امام احمد رضا تمام اہم صوفی سلاسل میں مجاز تھے اور خود بھی ایک بلند پایہ صوفی اور مصلح تھے۔ انہوں نے خود اور ان کے پیروکاروں نے تصوف کی تمام روایات پر عمل کیا۔ امام احمد رضا کی تحریروں میں اسلامی تصوف اور روحانیت کی چودہ سو سالہ روایات ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ مذہب کی تمام علمی دولتیں انہیں کے دم سے ہیں۔ وہ ایک جدید صوفی سے کہیں برتر و بالا ہیں۔ انہوں نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیتی مرگ مذہب کی تحریک کے خلاف پوری قوت سے اسلام کا دفاع کیا یہی وجہ تھی کہ انہوں نے متعصب اور نشہ میں ڈوبے ہوئے سائنسدانوں کے خلاف جہاد کیا اور ہاں ! یہی وجہ تھی کہ انہوں نے وہابیوں کے خلاف جدوجہد کی۔

امام احمد رضا جدید عصر کے تمام حملوں کے خلاف مذہب کے زبردست محافظ تھے۔ انہوں نے ایک بھر پور تحریک کی رہنمائی فرمائی۔ تاکہ اہلسنت کے عقائد کے مطابق اسلام اپنا کام جاری رجھ سکے۔ تنہا یہی کام امام احمد رضا کو عالمی اہمیت کی حامل شخصیت بنا دیتا ہے۔ بہت سی تقاریب اسلام اور اسلامی تصوف میں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔ مثلاً پیغمبر اسلام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ولادت عید میلاد النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تقریبات، یا بزرگان دین کے مزارات، یا دیگر مقامات پر ان کے عرسوں کی تقاریب وغیرہ، اس سارے تصوف اور مذہب کے ساتھ تمام طرح کی عبادات اور تقریبات کی مضبوط روایت کی بھر پور حفاظت فرمائی۔ انہوں نے تہیہ کر لیا تھا کہ وہ عصر جدید کو تصوف اور مذہب کی شاندار علمی روایات پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے۔ مرگ مذہب کے خلاف یہ جدوجہد بجا طور پر عالمی اہمیت کی حامل ہے۔ صیہونیت، عیسائیت اور بدھ مت میں مذہب کی موت کے نتائج ہم ملاحظہ کر چکے ہیں۔ آج ہم جانتے ہیں کہ ہوشمندی اور عقل و شعور کا ایک ہی راستہ ہے کہ مرتے ہوئے مذہب کو پھر سے زندہ کر دیا جائے۔ انسانیت کے لئے ضروری ہے کہ ایک بار پھر خدا، حیات بعد از موت اور یوم حساب پر یقین کامل پیدا کرے۔ طاقت کی پرستش اور اخلاقی پستی کا جس میں انسانیت گزشتہ صدی سے گر چکی ہے فقط یہی ایک علاج ہے ۔ لیکن صحیح مذہب کو کوئی کہاں تلاش کرے۔ مذہب میں تو تحریفات ہو چکی ہیں۔ Bishop of Durham جیسے لوگوں کو ماننے والی عیسائیت کیسے یاد کرے کہ حقیقی مذہب کیسا تھا۔ لیکن ہمارے پاس امام احمد رضا اور ان کی رہنمائی میں چلنے والی سنی تحریک موجود ہے۔ ہم ان کے پیروکاروں اور ان کی تعلیمات کے ذریعہ جان سکتے ہیں کہ حقیقی مذہبی زندگی کیسے گزاری جاتی ہے۔ اور حقیقی روحانیت کیا ہوتی ہے۔ سائنسی قوم پرستی ، نسلیت پرستی اور اجتماعیت کے جدید عہد میں حقیقی مذہب کا دفاع اور حفاظت ہی امام احمد رضا کی عالمی اہمیت ہے۔

امام احمد رضا محدث بریلوی کی اہمیت، دیگر تمام خصوصیات مذہب کی موت کے خلاف ان کی دفاعی جدوجہد ان کی طرف سے سائنس کی مخالفت، ان کی آفاقیت اور روایتی آرٹ کے تحفظ عالمانہ کردار سے نمایاں ہوتی ہے۔ اور ان کی اصل اہمیت یہ ہے کہ وقت نے انہیں صحیح ثابت کر دیا ہے۔ کیونکہ آج سب نے روایتی مذہب کو ترک کرنے، سائنس کے پیچھے بھاگنے اور سائنس کی ساری تبلیغ کی غلطی کو جان لیا ہے۔ یقینًا امام احمد رضا نے عمومی مذہب کا دفاع نہیں کیا بلکہ انہوں نے اسلام اور خصوصی طور پر اہلسنت کے عقائد کے مطابق اسلام کا دفاع کیا۔ اور دنیا کے لئے ان کی اہمیت اسی میں تھی کہ انہوں نے اسلام کے دفاع اور حفاظت کے لئے کام کیا۔ امام احمد رضا بریلوی کی عالمی، جدوجہد، ان کی یہی جدوجہد ہے جس کے ذریعے انہوں نے اسلام کا دفاع کیا اور اسے آج کے دور کے مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے لئے محفوظ رکھا۔

انیسویں صدی میں زوال اقتدار کی وجہ سے اسلام کی بیرونی حملوں کا خطرہ در پیش تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اسلام کو اندرونی حملوں سے بھی خطرہ تھا۔ مسلمانوں میں اعلٰی معاشرتی مقام کے حامل بہت سے لوگوں نے سوچا کہ اب مسلمانوں کے ساتھ رہنے میں ان کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ انہوں نے سوچا کہ وہ مسلم برادری کو چھوڑ کر یورپیوں اور امریکیوں جیسے غیر مسلم معاشرے میں اچھی زندگی گزار سکیں گے۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اس طرح کرنے کے لئے انہیں اسلام کو مغربی نظریات کے مطابق ڈھالنا پڑے گا۔

روایتی اسلامی طرز زندگی کو چھوڑ کر مغربی طرز کی زندگی کی تقلید کرنا پڑے گی۔ اس سے بھی اہم بات یہ تھی کہ اسلام کو یوں تبدیل کرنے کی ضرورت تھی کہ وہ جدید مغربی سائنس کی پرستش سے مطابقت پیدا کر سکے۔ اسلام میں مذہبیت کم ہو جائے اور وہ جدید مغربی نظریات کے مطابق ڈھل جائے۔ اب یہ سب کچھ کرنے کیلئے ان ( نام نہاد ) مسلمانوں کو پیغمبر اسلام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے مرتبے و مقام کو گھٹانے کی ضرورت تھی ان کے معجزات کا انکار درکار تھا۔ انکو کسی خاص روحانی قوت سے محروم ایک عام انسان کی سطح تک گھٹانا مقصود تھا تاکہ مغربی سائنس سے ہم آہنگی ہو سکے۔ جب پیغمبر اسلام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا مرتبہ و مقام کم کرنے کی کوشش کی گئی تو ان سائنس پرست مسلمانوں کا درجہ بزعم خویش بلند ہو گیا اور وہ اپنی مرضی کے مطابق اسلام کو تبدیل کرنے کے استحقاق کا دعوٰی کرنے لگے اب ان تمام ضرورتوں نے ان مسلمانوں کو وہابیت کے راستے پر ڈال دیا۔ وہابیت جسے اٹھارہویں صدی میں ابن عبدالوہاب نے شروع کیا وہ طاقت کے ذریعہ پروان چڑھی۔ وہابیت خالص مذہبیت اور خصوصا روایتی تصوف کو اتار کر دور پھینکنے اور اجتہاد کا دروازہ کھولنے کے کام آسکتی تھی۔ اجتہاد کا مطلب یہ تھا کہ اسلام کو مغربیت میں ڈھالنے کے خواشمند مسلمانوں کی مرضی کے مطابق اسلامی قانون کو دوبارہ لکھا جائے۔ تاکہ وہ غیر مسلم سوسائٹی میں اچھی نوکریاں حاصل کر سکیں اسی طرح امام احمد رضا کے دور میں اسلام کی شکست و ریخت کا عمل شروع ہو گیا اول اہلسنت کے عقائد کے مطابق روایت اسلامیہ پر حملہ کیا گیا اور اسے کمتر بتایا گیا اور پھر برطانوی حکومت میں مناصب کے خواہاں سر سید احمد خاں جیسے لوگوں نے اسلامی جدیدیت کو رواج دیا۔ اور بعد ازاں مغربی سرمایہ داری کو تقلید محض کرنے والے حکمرانوں کی تمام قوت اپنے ہاتھوں میں رکھ کر مسلم دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام تشکیل دینے والے اسلامی جدت پسندوں نے اس جدیدیت کو مذید پروان چڑھایا اور جب یہ اسلامی جدیدیت ناکام ہو گئی تو پھر کمیونزم فاشسزم کی نقل کی صورت میں وہابیت ابھر آئی۔ فاشسزم اسلامی بنیاد پرستی ہے جو ایران اور دیگر ممالک میں مکمل ناکام اور تباہی پر منتج ہوئی ہے۔ آج ہم ایسے دور میں رہ رہے ہیں جس میں مغرب کے بہترین دوست سعودی حکومت کے سانحے، مسلم دنیا میں تمام تر کوششوں کے باوجود اسلامی جدیدیت کی ناکامی کی مصیبت اور آج کے دور میں بنیاد پرستی کی آفت کی صورت میں وہابیت اپنے انجام کو پہنچ رہی ہے۔ بنیاد پرستی کی آفت شاید ابھی مستقبل میں بھی باقی رہے امام احمد رضا محدث بریلوی نے بہت آغاز ہی میں ان تمام غلط راہوں کی نشاندہی اور بھر پور مخالفت کی تھی وہ مغرب اور سائنس سے کوئی ردرعایت نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے تمام عمر وہابیت کے خلاف جدوجہد میں صرف کی انہوں نے ہر اس شخص کی مخالفت کی جس نے پیغمبر اسلام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے مرتبہ اور مقام کو گھٹانے کی کوشش کی- امام احمد رضا نے رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر کسی بھی طرح کی تنقید کرنے یا ان کی عظمت و کمال میں کوئی بھی شک پیدا کرنے کی اجازت دینے سے صاف انکار کیا۔ انہوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے مرتبہ و کمال کو گھٹانے والے وہابی تراجم قرآن کے مقابلے میں اردو زبان میں قرآن حکیم کا بہت ہی خوبصورت ترجمہ پیش کیا۔ اعلٰی حضرت امام احمد رضا نے اسلام کے ان تمام غداروں کی سیاسی اسکیموں کی مخالفت کی جو اسلام کو اپنی قوت بڑھانے کے لئے استعمال کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے ان دیوبندیوں اور وہابیوں کو خوب خوب ہدف تنقید بنایا۔ جو سیکولر انڈیا میں ہندؤں کے ساتھ مل کر اعلٰی عہدوں پر پہنچنے کی آس لگائے پیٹھے تھے۔ امام احمد رضا نگاہ بصیرت سے ملاحظہ فرما چکے تھے یہ تمام کوششیں اشتمالیت اور وسیع قتل عام پر منتج ہونگی۔ کیونکہ ہندو کبھی بھی اقتدار میں ان وہابیوں، دیوبندیوں کی شرکت پسند نہیں کریں گے۔ امام احمد رضا نے ان وہابیوں کی عوامی سیاست پر سخت تنقید کی جو اعلٰی مناصب کے حصول کی اسکیموں میں مدد کے لئے مسلمانوں کو محض ووٹروں کے گلے میں بدل دینا چاہتے تھے۔ امام احمد رضا نے باب اجتہاد کھولنے کی کسی بھی کوشش کی بھر پور مخالفت کی۔ وہ کسی کو بھی اپنی ذاتی قوت کے حصول کے لئے اسلام کے ناکام استعمال یا اسلام کی تبدیلی کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ ان سب باتوں سے بڑھ کر امام احمد رضا نے حقیقی اسلامی برادری کے تحفظ کی کوشش فرمائی۔ روایتی اسلامی سوسائٹی اگرچہ پیچیدہ تھی مگر اس کی بنیاد ناقابل تبدیل شریعت کے محافظ اور مسلمانوں کے راہبر علمائے کرام کے نظام مزارات، خانقاہوں اور مشائخ کرام کے ساتھ صوفی سلسلے کے مکمل وجود اور میلاد کی طرح کی تقریبات پر تھی۔ یہی سوسائٹی دنیا میں اللہ تعالٰی کی رضا اور پسند کے مطابق ڈھلی ہوئی سوسائٹی ہے۔ اور امام احمد رضا نے اسی کے دفاع کی کوششیں فرمائیں۔

انہوں نے بلاشبہ وہابیوں سے اس اسلامی سوسائٹی کو بچایا۔ اور بہت سے ایسے دوسرے لوگوں سے بھی جو علماء سے جان چھڑا کر مودودی کی طرح کے صحافی اور سیاست دانوں کو نگراں بنانا چاہتے تھے۔ تاکہ تصوف کے سلاسل کو مکمل طور پر تباہ کیا جا سکے۔ اپنی جگہ امام احمد رضا کے وقت ہی سے ان لوگوں نے سرمایہ داری یا اشتراکیت کے نمونے پر ایک خوفناک سوسائٹی تشکیل دے لی تھی۔ جس پر انہیں کی حکومت تھی۔ جس کا انہیں کو انکے خاندان کو اور ان کے دوستوں کو فائدہ تھا۔ اور اسی سائنس پرست سوسائٹی سے چھٹکارے کی کسی بھی کاوش کو دبانے کے لئے انہیں ہر جگہ خفیہ پولیس کی ضرورت تھی۔

اعلٰی حضرت امام احمد رضا نے یہ بھی رہنمائی فرمائی کہ مسلم کمیونٹی آج کی دنیا میں کس طرح صحیح معنی میں محفوظ رک سکتی ہے۔ 1912ء میں چار نکاتی پروگرام کے تحت یہ نظریہ پیش فرمایا کہ مسلمانوں کو آپس کے تنازعات باہم حل کرنا چاہئے۔ انہوں نے آپس میں خرید و فروخت کی طرف متوجہ ہونے کی رہنمائی فرما کر ان کے اتحاد، معاشی استحکام اور صحیح اسلامی معاشرے کی تشکیل کا راستہ بھی بتا دیا۔ یہی راستہ تھا جس پر چل کر مسلمان غیر مسلم سوسائٹی میں ڈھلے بغیر اپنی تمام روایات سمیت اپنی سوسائٹی کو محفوظ رکھ سکتے تھے۔ بدترین نسل پرستی، تعصب اور اشتمالیت سے اور شریعت و طریقت کو پروان چڑھا کر اپنی اسلامی جنت میں برقرار رہتے ہوئے جدید دنیا کو جہنم میں اترتے دیکھ سکتے تھے۔ اور مغربیت اور سائنس کی بیجا لادنیت سے بھی محفوظ رہتے اور وہابیت کی لعنتوں سے بھی محفوظ رہتے۔ کسی طرح کا سیاسی دام ان کو اپنی گرفت میں نہ لے پاتا۔ اعلٰی حضرت امام احمد رضا اور دیگر لوگوں نے اس منصوبہ بندی پر عمل کیا جس سے اسلام اور اہلسنت کی روایتی سوسائٹی بیسویں صدی کے تمام تر مضرات کے باوجود ندہ و سلامت رہی۔ آج تمام جدت پسندوں اور بنیاد پرستوں کی ناکامی کے بعد منصوبہ رضا کی عظمت کھل کر سامنے آرہی ہے۔ ان جدت پسندوں او بنیاد پرستوں نے مسلم دنیا میں کوئی پائیدار تعمیر نہیں کی۔ غیر مسلم بھی ایک اچھی سوسائٹی تشکیل دینے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ کمیونزم اور فاشسزم دونوں ناکام ہو رہے ہیں۔ حتٰی کہ اعتدال پسند سوشلزم کے فوائد بھی معدوم ہو رہے ہیں۔ کیونکہ مغرب اب دوبارہ سرمایہ دارانہ نظام کی خالص اور بے رحم تعبیر کی طرف لوٹ رہا ہے اور دنیا دائنسی منصوبوب کی ناکامی محسوس کر رہی ہے۔ دریں حالات امام احمد رضا کی عالمی اہمیت اور بھی نمایاں ہو رہی ہے۔ انہوں نے جدید منصوبوں پر اس وقت تنقید کی جب وہ ابتدائی منزل طے کر رہے تھے۔ آج امام احمد رضا محدث بریلوی ہی کے نظریات سچ ثابت ہو رہے ہیں۔ ہہ ایک مرد مومن کی فراست اور اس کی بصیرت تھی۔ سب کچھ صدقہ تھا عشق رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا۔ اعلٰی حضرت امام احمد رضا کا دور اب شروع ہوا ہے۔ ہم اسلام دشمن اور غیر اسلامی حکومتوں اور معاشروں کی دنیا میں رہ رہے ہیں جس کا مذہب سے رابطہ کٹ چکا ہے۔ ہمیں امام نے سکھایا ہے کہ ہم اس دنیا میں کس طرح ہر باطل کا مقابلہ کرتے ہوئے وقار کے ساتھ زندہ رہیں اب تک ہم وہ تمام پہلو ملاحظہ کر چکے ہیں جن کی وجہ سے امام احمد رضا اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے جدید دنیا کے حملوں کے خلاف عقائد اہلسنت کے مطابق اسلام کا دفاع کیا۔ امام احمد رضا عالمی اہمیت کے حامل ہیں۔ کیونکہ اہلسنت کے عقائد اور اسلام عالمی اہمیت کے حامل ہیں ۔ اور عقائد اہلسنت اور انکے نظریات ہی دنیا کے مسائل کا جواب رکھتے ہیں۔ انہی عقائد و نظریات کا نام اسلام ہے۔ اور یہی سچا مذہب ہے۔

اعلٰی حضرت امام احمد رضا پوری دنیا کے لئے تمام انسانیت کے لئے اہمیت رکھتے ہیں۔ کیونکہ وہ ایک اللہ اور اسکے سچے رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور دین حق کی طرف لوٹنے کی دعوت دیتے ہیں۔ امام احمد رضا نے رسول کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی کامل و اکمل محبت اور عزت کو اسلام کا مرکز اپنی زندگی کا مرکز اور اپنی تمام علمی کاوشوں کا مرکز بنائے رکھا۔ اور یہی ان کی عالمی اہمیت کا سبب ہے

August 10, 2007 Posted by | Islam, كتب, وهابيت, القران, الحديث, امام احمد رضا | Leave a Comment

   

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.