إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ

صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا

آدمی کے عروج و زوال کا انحصار کس چیز پر ھے

 

     ھر انسان نفس اور روح سے مرک‍ّب ھے۔ جب نفس غالب آتا ھے تو نفس کے لوازمات اس پر سوار ھوجاتے ھیں۔ یعنی تمام نفسانی خواھشات کا ارتکاب عمل میں لایا جاتا ھے۔ نفس کی خواھشات سے ھی بغض، کینہ، حسد، بے حیائی، اسلام سے بے رغبتی، لڑائی، فساد، والدین کی بے ادبی، اسلام اور اس کے شعائر سے نفرت یا بے رغبتی پیدا ھوتی ھے۔ جب نفس سوار ھو جاتا ھے تو شہوت پرستی عام ھوجاتی ھے۔ آپ نے سنا ھوگا کہ جب شہوت یا غصّہ زور میں آتا ھے تو آدمی کا دماغ مفلوج ھو جاتا ھے۔ جب دماغ ھی مفلوج ھو گیا تو اس کی سوچ بچار، فہم و ادراک سب غلط راستے پر چل پڑتے ھیں۔ تو جے نے بھی نفس پرستی کی اس نے روحانیت کو کمزور کیا، اپنے اصل سے دور ھوا، اپنے آپ پر ظلم کیا، دوزخ کا ایندھن بنا اور اپنے آپ کو ناکارہ بنا لیا۔ باری تعالی اس پر بے روزگاری، بے عزّتی، بے حیائی، بیماری اور طرح طرح کے مصائب مسلّط کردیتے ھیں۔ گویا نفس کا غلبہ اور روحانیت کی کمزوری اس کے زوال کا سبب ھے۔ اب دوسرا جزو روح ھے۔ روح کو روح کی غذا یعنی عبادت، ذکر، نماز، روزہ، حج، زکوة وغیرہ سے تقویت حاصل ھوتی ھے۔ جب نفس مغلوب ھوا تو تمام نفسانی خواھشات اور حرکات سے بچ نکلا۔ صرف روح کی غذا باقی رہ گئی، روح قوی ھوتی چلی گئی اور اپنے اصل کی طرف لوٹنا شروع کیا۔ پاکیزگی، حیاداری، صدق و صفا اور ادب اس کا شعار بنا۔ اسلامی شعائر کو تقویت حاصل ھوئی جس کے سبب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم راضی ھوئے۔ روحانیت کامل ھوئی، روحانیت اپنے اصل یعنی اللہ تعالی کی طرف لوٹی۔ اس کی طرف مدد حاصل ھوئی۔ بلند درجات ملے۔ اس کے زوال کا خاتمہ ھوا اور عروج نصیب ھوا۔ اللہ تعالی اس سے محبّت کرنے لگے اس طرح اس کو تمام دنیا و عقبی میں سرفرازی ھوئی۔ جب روح خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں مستغرق ھوئی تو ان کے تاثر سے تمام بیماریوں سے شفا اور عروج شروع ھو جاتا ھے۔ تو معلوم ھوا کہ روح کی تقویت ھی عروج کا سبب ھے۔ روح کی کمزوری زوال کا باعث ھے۔ گویا آدمی کے عروج و زوال کا انحصار روحانیت پر ھے۔ روح کی تقویت سے دل قوی ھو جاتا ھے، دماغ قوی ھو جاتا ھے۔ جس سے اس کی سوچ بچار، فہم و ادراک قوی اور صحیح ھو جاتا ھے۔ اب جب کہ اس کا فہم و ادراک صحیح ھے تو وہ زوال کی طرف نہیں جائے گا بلکہ اس کا عروج لازم و ملزوم ھے۔ ساتھ چونکہ روحانیت وابستہ ھے اس لئے وہ اللہ تعالی کی طرف لائے گی اور روحانیت کے کامل ھونے کی وجہ سے عروج اس کا مقدّر بن جائے گا۔ گویا نفس کا غلبہ نیچے زوال کی طرف لےجائے گا اور روح کا غلبہ یا روحانیت اپنے اصل یعنی اللہ تعالی کی طرف لےجائے گا اور عروج اس کا مقدّر بن جاتا ھے۔ اس لئے عروج و زوال کا انحصار روج کی تقویت یا کمزوری پر ھے۔

January 29, 2008 Posted by | Books, Islam, القران | | Leave a Comment

عظمت اہل بیت

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہ

نجات کا راستہ

یعنی

أدبوا أولادكم على ثلاث خصال حب نبيكم و حب أهل بيته و قراءة القرآن

کسی زمانے میں بغداد میں جنید نامی ایک پہلوان رہا کرتا تھا۔ پورے بغداد میں اس پہلوان کے مقابلے کا کوئی نہ تھا۔ بڑے سے بڑا پہلوان بھی اس کے سامنے زیر تھا۔ کیا مجال کہ کوئی اس کے سامنے نظر ملا سکے۔ یہی وجہ تھی کہ شاہی دربار میں اس کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور بادشاہ کی نظر میں اس کا خاص مقام تھا۔

ایک دن جنید پہلوان بادشاہ کے دربار میں اراکین سلطنت کے ہمراہ بیٹھا ہوا تھا کہ شاہی محل کے صدر دروازے پر کسی نے دستک دی۔ خادم نے آکر بادشاہ کو بتایا کہ ایک کمزور و ناتواں شخص دروازے پر کھڑا ہے جس کا بوسیدہ لباس ہے۔ کمزوری کا یہ عالم ہے کہ زمین پر کھڑا ہونا مشکل ہو رہا ہے۔ اس نے یہ پیغام بھیجا ہے کہ جنید کو میرا پیغام پہنچا دو کہ وہ کشتی میں میرا چیلنج قبول کرے۔ بادشاہ نے حکم جاری کیا کہ اسے دربار میں پیش کرو۔ اجنبی ڈگمگاتے پیروں سے دربار میں حاضر ہوا۔ وزیر نے اجنبی سے پوچھا تم کیا چاہتے ہو۔ اجنبی نے جواب دیا میں جنید پہلوان سے کشتی لڑنا چاہتا ہوں۔ وزیر نے کہا چھوٹا منہ بڑی بات نہ کرو۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ جنید کا نام سن کر بڑے بڑے پہلوانوں کو پسینہ آ جاتا ہے۔ پورے شہر میں اس کے مقابلے کا کوئی نہیں اور تم جیسے کمزور شخص کا جنید سے کشتی لڑنا تمہاری ہلاکت کا سبب بھی ہو سکتا ہے۔ اجنبی نے کہا کہ جنید پہلوان کی شہرت ہی مجھے کھینچ کر لائی ہے اور میں آپ پر یہ ثابت کرکے دکھاؤں گا کہ جنید کو شکست دینا ممکن ہے۔ میں اپنا انجام جانتا ہوں آپ اس بحث میں نہ پڑیں بلکہ میرے چیلنج کو قبول کیا جائے۔ یہ تو آنے والا وقت بتائے گا کہ شکست کس کا مقدر ہوتی ہے۔

جنید پہلوان بڑی حیرت سے آنے والے اجنبی کی باتیں سن رہا تھا۔ بادشاہ نے کہا اگر سمجھانے کے باوجود یہ بضد ہے تو اپنے انجام کا یہ خود ذمہ دار ہے۔ لٰہذا اس کا چیلنج قبول کر لیا جائے۔ بادشاہ کا حکم ہوا اور کچھ ہی دیر کے بعد تاریخ اور جگہ کا اعلان کر دیا گیا اور پورے بغداد میں اس چیلنج کا تہلکہ مچ گیا۔ ہر شخص کی یہ خواہش تھی کہ اس مقابلے کو دیکھے۔ تاریخ جوں جوں قریب آتی گئی لوگوں کا اشتیاق بڑھتا گیا۔ ان کا اشتیاق اس وجہ سے تھا کہ آج تک انہوں نے تنکے اور پہاڑ کا مقابلہ نہیں دیکھا تھا۔ دور دراز ملکوں سے بھی سیاح یہ مقابلے دیکھنے کے لئے آنے لگے۔ جنید کے لئے یہ مقابلہ بہت پراسرار تھا اور اس پر ایک انجانی سی ہیبت طاری ہونے لگی۔ انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر شہر بغداد میں امنڈ آیا تھا۔

جنید پہلوان کی ملک گیر شہرت کسی تعارف کی محتاج نہ تھی۔ اپنے وقت کا مانا ہوا پہلوان آج ایک کمزور اور ناتواں انسان سے مقابلے کے لئے میدان میں اتر رہا تھا۔ اکھاڑے کے اطراف لاکھوں انسانوں کا ہجوم اس مقابلے کو دیکھنے آیا ہوا تھا۔ بادشاہ وقت اپنے سلطنت کے اراکین کے ہمراہ اپنی کرسیوں پر بیٹھ چکے تھے۔ جنید پہلوان بھی بادشاہ کے ہمراہ آ گیا تھا۔ سب لوگوں کی نگاہیں اس پراسرار شخص پر لگی ہوئی تھیں۔ جس نے جنید جیسے نامور پہلوان کو چیلنج دے کر پوری سلطنت میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ مجمع کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ اجنبی مقابلے کے لئے آئے گا پھر بھی لوگ شدت سے اس کا انتظار کرنے لگے۔ جنید پہلوان میدان میں اتر چکا تھا۔ اس کے حامی لمحہ بہ لمحہ نعرے لگا کر حوصلہ بلند کر رہے تھے۔ کہ اچانک وہ اجنبی لوگوں کی صفوں کو چیرتا ہوا اکھاڑے میں پہنچ گیا۔ ہر شخص اس کمزور اور ناتواں شخص کو دیکھ کر محو حیرت میں پڑ گیا کہ جو شخص جنید کی ایک پھونک سے اڑ جائے اس سے مقابلہ کرنا دانشمندی نہیں۔ لیکن اس کے باوجود سارا مجمع دھڑکتے دل کے ساتھ اس کشتی کو دیکھنے لگا۔ کشتی کا آغاز ہوا دونوں آمنے سامنے ہوئے۔ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے گئے۔ پنجہ آزمائی شروع ہوئی اس سے پہلے کہ جنید کوئی داؤ لگا کر اجنبی کو زیر کرتے اجنبی نے آہستہ سے جنید سے کہا اے جنید ! ذرا اپنے کام میرے قریب لاؤ۔ میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ اجنبی کی باتیں سن کر جنید قریب ہوا اور کہا کیا کہنا چاہتے ہو۔

اجنبی بولا اے جنید ! میں کوئی پہلوان نہیں ہوں۔ زمانے کا ستایا ہوا ہوں۔ میں آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ سید گھرانے سے میرا تعلق ہے میرا ایک چھوٹا سا کنبہ کئی ہفتوں سے فاقوں میں مبتلا جنگل میں پڑا ہوا ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچے شدت بھوک سے بے جان ہو چکے ہیں۔ خاندانی غیرت کسی سے دست سوال نہیں کرنے دیتی۔ سید زادیوں کے جسم پر کپڑے پھٹے ہوئے ہیں۔ بڑی مشکل سے یہاں تک پہنچا ہوں۔ میں نے اس امید پر تمہیں کشتی کا چیلنج دیا ہے کہ تمہیں حضور اکرم کے گ صلی اللہ علیہ وسلم ھرانے سے عقیدت ہے۔ آج خاندان نبوت کی لاج رکھ لیجئے۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ آج اگر تم نے میری لاج رکھی تو کل میدان محشر میں اپنے نانا جان سے عرض کرکے فتح و کامرانی کا تاج تمہارے سر پر رکھواؤں گا۔ تمہاری ملک گیر شہرت اور اعزاز کی ایک قربانی خاندان نبوت کے سوکھے ہوئے چہروں کی شادابی کے لئے کافی ہوگی۔ تمہاری یہ قربانی کبھی بھی ضائع نہیں ہونے دی جائے گی۔

اجنبی شخص کے یہ چند جملے جنید پہلوان کے جگر میں اتر گئے۔ اس کا دل گھائل اور آنکھیں اشک بار ہو گئیں۔ سیدزادے کی اس پیش کش کو فوراً قبول کرلیا اور اپنی عالمگیر شہرت، عزت و عظمت آل سول صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان کرنے میں ایک لمحے کی تاخیر نہ کی۔ فوراً فیصلہ کر لیا کہ اس سے بڑھ کر میری عزت و ناموس کا اور کونسا موقع ہو سکتا ہے کہ دنیا کی اس محدود عزت کو خاندان نبوت کی اڑتی ہوئی خاک پر قربان کردوں۔ اگر سید گھرانے کی مرجھائی ہوئی کلیوں کی شادابی کے لئے میرے جسم کا خون کام آ سکتا ہے تو جسم کا ایک ایک قطرہ تمہاری خوشحالی کے لئے دینے کے لئے تیار ہوں۔ جنید فیصلہ دے چکا۔ اس کے جسم کی توانائی اب سلب ہو چکی تھی۔ اجنبی شخص سے پنجہ آزمائی کا ظاہری مظاہرہ شروع کر دیا۔

کشتی لڑنے کا انداز جاری تھا۔ پینترے بدلے جا رہے تھے۔ کہ اچانک جنید نے ایک داؤ لگایا۔ پورا مجمع جنید کے حق میں نعرے لگاتا رہا جوش و خروش بڑھتا گیا جنید داؤ کے جوہر دکھاتا تو مجمع نعروں سے گونج اٹھا۔ دونوں باہم گتھم گتھا ہو گئے یکایک لوگوں کی پلکیں جھپکیں، دھڑکتے دل کے ساتھ آنکھیں کھلیں تو ایک ناقابل یقین منظر آنکھوں کے سامنے آ گیا۔ جنید چاروں شانے چت پڑا تھا اور خاندان نبوت کا شہزادہ سینے پر بیٹھے فتح کا پرچم بلند کر رہا تھا۔ پورے مجمع پر سکتہ طاری ہو چکا تھا۔ حیرت کا طلسم ٹوٹا اور پورے مجمعے نے سیدزادے کو گود میں اٹھا لیا۔ میدان کا فاتح لوگوں کے سروں پر سے گزر رہا تھا۔ ہر طرف انعام و اکرام کی بارش ہونے لگی۔ خاندان نبوت کا یہ شہزادہ بیش بہا قیمتی انعامات لے کر اپنی پناہ گاہ کی طرف چل دیا۔

اس شکست سے جنید کا وقار لوگوں کے دلوں سے ختم ہو چکا تھا۔ ہر شخص انہیں حقارت سے دیکھتا گزر رہا تھا۔ زندگی بھر لوگوں کے دلوں پر سکہ جمانے والا آج انہی لوگوں کے طعنوں کو سن رہا تھا۔ رات ہو چکی تھی۔ لوگ اپنے اپنے گھروں کو جا چکے تھے۔ عشاء کی نماز سے فارغ ہوکر جنید اپنے بستر پر لیٹا اس کے کانوں میں سیدزادے کے وہ الفاظ بار بار گونجتے رہے۔ “آج میں وعدہ کرتا ہوں اگر تم نے میری لاج رکھی تو کل میدان محشر میں اپنے نانا جان سے عرض کرکے فتح و کامرانی کا تاج تمہارے سر پر رکھواؤں گا۔”

جنید سوچتا کیا واقعی ایسا ہوگا کیا مجھے یہ شرف حاصل ہوگا کہ حضور سرور کونین حضرت محمد کے م صلی اللہ علیہ وسلم قدس ہاتھوں سے یہ تاج میں پہنوں ؟ نہیں نہیں میں اس قابل نہیں، لیکن خاندان نبوت کے شہزادے نے مجھ سے وعدہ کیا ہے۔ آل رسول کا وعدہ غلط نہیں ہو سکتا یہ سوچتے سوچتے جنید نیند کی آغوش میں پہنچ چکا تھا نیند میں پہنچتے ہی دنیا کے حجابات نگاہوں کے سامنے سے اٹھ چکے تھے ایک حسین خواب نگاہوں کے سامنے تھا اور گنبد خضراء کا سبز گنبد نگاہوں کے سامنے جلوہ گر ہوا، جس سے ہر سمت روشنی بکھرنے لگی، ایک نورانی ہستی جلوہ فرما ہوئی، جن کے حسن و جمال سے جنید کی آنکھیں خیرہ ہو گئیں، دل کیف سرور میں ڈوب گیا در و دیوار سے آوازیں آنے لگیں الصلوۃ والسلام علیک یارسول اللہ۔ جنید سمجھ گئے یہ تو میرے آقا ہیں جن کا میں کلمہ پڑھتا ہوں۔ فوراً قدموں سے لپٹ گئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے جنید اٹھو قیامت سے پہلے اپنی قسمت کی سرفرازی کا نظارہ کرو۔ نبی ذادوں کے ناموس کے لئے شکست کی ذلتوں کا انعام قیامت تک قرض رکھا نہیں جائے گا۔ سر اٹھاؤ تمہارے لئے فتح و کرامت کی دستار لے کر آیا ہوں۔ آج سے تمہیں عرفان و تقرب کے سب سے اونچے مقام پر فائز کیا جاتا ہے۔ تمہیں اولیاء کرام کی سروری کا اعزاز مبارک ہو۔

ان کلمات کے بعد حضور سرور کونین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جنید پہلوان کو سینے سے لگایا اور اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت خواب میں جنید کو کیا کچھ عطا کیا اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اتنا اندازہ ضرور لگایا جا سکتا ہے کہ جب جنید نیند سے بیدار ہوئے تو ساری کائنات چمکتے ہوئے آئینے کی طرح ان کی نگاہوں میں آ گئی تھی ہر ایک کے دل جنید کے قدموں پر نثار ہو چکے تھے۔ بادشاہ وقت نے اپنا قیمتی تاج سر سے اتار کر ان کے قدموں میں رکھ دیا تھا۔ بغداد کا یہ پہلوان آج سید الطائفہ سیدنا حضرت جنید بغدادی کے نام سے سارے عالم میں مشہور ہو چکا تھا۔ ساری کائنات کے دل ان کے لئے جھک گئے تھے۔ (تاریخی واقعہ کی تفصیل ملاحظہ کیجئے کتاب زلف و انجیر صفحہ 72۔ 62)

مسلمانو ! اس سچے واقعہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ خاندان نبوت اہل بیت و آل رسول سے محبت کرنا اور ان کی عزت و ناموس کا خیال رکھنا ایک مسلمان کے لئے کس قدر ضروری ہے اہلبیت سے محبت ایمان اور ان سے بغض و حسد منافقت اور گمراہی ہے۔ اسلام نے ہمیں جو تعلیم دی ہے اس میں خاندان نبوت اہلبیت سے محبت کا خصوصی ذکر ہے۔ اہلبیت کا مقام و مرتبہ کس قدر بلند ہے اس کا اندازہ قرآن مجید کے ارشاد سے لگایا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالٰی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے۔

انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اہل البیت ویطھرکم تطھیرا۔

(سورہ احزاب 33)

ترجمہ :۔ اللہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے۔

اس آیت کریمہ میں اہلبیت (حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے) کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ علماء فرماتے ہیں کہ اہلبیت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے علاوہ خاتون جنت بی بی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ سب داخل ہیں۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے “اپنی اولاد کو تین عادتیں سکھاؤ۔ اپنے نبی کی محبت، اس کے اہل بیت کی محبت اور تلاوت قرآن”۔ أدبوا أولادكم على ثلاث خصال حب نبيكم و حب أهل بيته و قراءة القرآن فإن حملة القرآن في ظل الله يوم القيامة يوم لا ظل إلا ظله مع أنبيائه و أصفيائه.

 

تخريج السيوطي عن علي. ملاحظہ کیجئے جامع صغیر جلد اول 751، جواہر البحار جلد دوم صفحہ 130

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا۔ “اور مجھ سے محبت کی وجہ سے میرے اہل بیت سے محبت کرو۔” (سنن الترمذی جلد پنجم صفحہ 622)

حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ “اہل بیت سے ایک دن کی محبت ایک سال کی عبادت سے بہتر ہے۔” (الفردوس الماثور الخطاب جلد دوم صفحہ 142)

ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہم کا ہاتھ پکڑا اور ارشاد فرمایا “جو شخص مجھے محبوب رکھے ان دونوں کو محبوب رکھے ان کے والد اور والدہ کو محبوب رکھے وہ یوم قیامت میرے ساتھ میرے درجہ میں ہوگا۔” (مسند احمد جلد اول صفحہ 168 )

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ار شاد گرامی ہے۔ “اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے جو کوئی بھی اہل بیت سے بغض رکھے اللہ اس کو ضرور جہنم میں داخل کرے گا“۔ (المستدرک جلد سوئم صفحہ 161)

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ارشادات سے اہلبیت کی عظمت اور ان کے بلند مرتبے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اگر ہم اپنی معاشرتی زندگی پر غور کریں تو ہم میں یہ بات اکثر پائی جاتی ہے کہ جب ہم کسی شخص کی تعظیم کرتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ بھائی اس کی عزت کرو یہ بڑے باپ کا بیٹا ہے۔ بظاہر تو یہ عزت بیٹے کی ہوتی ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ تعظیم اس کے باپ کی ہے۔ تعظیم کا یہ طریقہ خود ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی ہے۔

جب حاتم طائی کی بیٹی قیدی بناکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کی گئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا “اس کو چھوڑ دو اس کا باپ اخلاقی خوبیوں کو پسند کرتا تھا“۔ (البدایہ والنہایہ ابن کثیر جلد5 صفحہ 66)

ایک روایت میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پوشاک پہنائی، خرچہ دیا سواری پر بٹھایا اور اس کی قوم کے لوگوں کو رہا کرکے ان کے ساتھ بھجوا دیا۔

غور کیجئے بیٹی کی تعظیم کافر باپ کی سخاوت کی وجہ سے ہو رہی ہے۔ غیرت و تعظیم کا یہ سلسلہ بظاہر بیٹی کے ساتھ نظر آ رہا ہے۔ لیکن حقیقت میں تعظیم اس کے باپ حاتم طائی کی ہو رہی ہے۔ لٰہذا اہل بیت کی تعظیم کرنا دراصل حضورصلی اللہ علیہ وسلم ہی کی تعظیم و توقیر کرنا ہے۔ کیونکہ خاندان نبوت کے یہ چشم و چراغ ہیں۔ چنانچہ یہ تعظیم “پنتجن پاک” ہی تک محدود نہیں ہونی چاہئیے۔ بلکہ قیامت تک حضور کی تمام آل کے لئے بھی ہونی چاہئیے۔ آل سول کی تعظیم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کی وجہ سے ہے۔ نہ کہ ان کے تقوٰی اور پرہیزگاری کی وجہ سے۔ ان کی تعظیم مسلمانوں کے لئے کس قدر ضروری ہے, اس کا اندازہ حسب ذیل ارشاد سے لگائیے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ تم میں سب سے زیادہ پل صراط پر ثابت قدم وہ ہوگا جو میرے اہل بیت اور میرے صحابہ کی محبت میں زیادہ سخت ہوگا۔ (جامع الاحادیث جلد اول صفحہ 92)

مذکورہ بالا حدیث میں اہلبیت کے ساتھ ساتھ صحابہ کرام کی فضیلت بھی بتائی گئی ہے جس سے یہ معلوم ہوا کہ اہلبیت اور صحابہ کرام کی سچی محبت ہی ذریعہ نجات اور پل صراط پر سے با آسانی گزرنے کا ذریعہ ہے اگر کوئی ان کی محبت میں کامل نہیں تو اس کے لئے خسارے کے سوا کچھ نہیں۔ مذکورہ ارشاد میں صحابہ کرام اور اہلبیت سے محبت کا حکم موجود ہے۔ خاندان نبوت اور صحابہ کرام وہ عظیم اور قابل احترام ہستیاں ہیں کہ جنہوں نے اپنا خون اسلام کی آبیاری کے لئے وقف کر دیا تھا۔

January 14, 2008 Posted by | Islam, القران, الحديث | | Leave a Comment

مسلمان اور نماز

ھر ایک چیز کا عروج ھوتا ھے۔ جس چیز کی بدولت یہ عروج ھو وھی سر فہرست اور اھم ھوتی ھے۔ اسلام میں عروج نماز میں ھے۔ اسی لئے نماز مومن کی معراج ھے۔ اللہ اور بندے کے درمیان نماز ھی ایک ایسا مقام ھے جس میں بندہ اپنے مولا سے ھم کلام ھوکر اللہ کا دیدار اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے رحمت و شفقت حاصل کرتا ھے۔ اصل میں نماز کی ضرورت تمام اسلام میں زیادہ اسلئے ضروری ھوئی کہ ابتدائے اسلام میں آپ جانتے ھونگے کہ جب کوئی آدمی اسلام کی دعوت قبول کرتا تو صرف لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّه پڑھتا اور مسلمان بن جاتا۔ اس پر اور کوئی فرض عائد نھیں تھا لیکن گناہ سے تائب ھونا فرض تھا۔ اسلام کی بنیاد ھی ممنوعات سے بچنا تھا۔ جو شخص فتل، زنا یا بری چیزوں سے توبہ کرتا وہ مسلمان ھوجاتا تھا۔ اب اسلام میں ممنوعات سے بچنا ھی زیادہ ضروری ھے۔ تو باری تعالی نے قرآن پاک میں فرمایا:

الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ(سورة العنكبوت-45) یعنی نماز بے حیائی اور ممنوعات سے روکتی ھے۔ تو نماز نے ممنوعات سے بچنے میں مدد دی اور وھی فرض جو اسلام کیلئے ضروری تھا اسے پورا کرنے کی راہ ھموار کردی۔

نماز سنت انبیاء ھے۔ فجر کی نماز حضرت آدم علیہ السلام نے پڑھی۔ ظہر کی نماز حضرت ابراھیم علیہ السلام نے پڑھی۔ عصر کی نماز حضرت موسی علیہ السلام نے پڑھی۔ مغرب کی نماز حضرت عیسی علیہ السلام نے پڑھی۔ اور عشاء کی نماز حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ادا فرمائی۔ حدیث پاک میں مروی ھے کہ جس نے فجر کی نماز با جماعت ادا کی حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ بیس مقبول حج کئے۔ ظہر کی نماز با جماعت پڑھی تو حضرت ابراھیم علیہ السلام کے ساتھ چالیس مقبول حج کئے۔ عصر کی نماز سے حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ گویا ساٹھ مقبول حج کئے۔ مغرب کی نماز سے حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ اسّی مقبول حج کئے۔ اور عشاء کی نماز با جماعت پڑھی تو گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی معیّت میں سو مقبول حج کئے۔ ذرا غور کیجئے، ایک حج پر جتنا خرچ آتا ھے اس سے بیس، چالیس، ساٹھ، اسّی اور سو حج پر آنے والے خرچ کا اندازہ لگائیے۔ جو شخص با جماعت نماز نہیں پڑھتا اس کا کتنا نقصان ھوتا ھے!

جب آدمی نماز پڑھتا ھے حدیث پاک میں ھے باری تعالی فرماتے ھیں کہ مجھے دیکھ کر پڑھے اور اگر وہ مجھے نہ دیکھ سکے تو یوں سمجھے کہ میں اسے دیکھ رھا ھوں۔(أن تعبد الله كأنك تراه، فإن لم تكن تراه فإنه يراك-صحيح البخاري) معلوم ھوا کہ نماز میں اللہ تعالی کا دیدار (جو کہ معراج کی علامت ھے) حاصل ھوتا ھے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ھیں “نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ھے۔” جب آدمی نماز پڑھتا ھے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ھیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “جو شخص نھر میں پانچ دفعہ نھاتا ھے اس پر میل کیسے رہ سکتی ھے؟” پانچ دفعہ نھانے سے پانچ نمازیں مراد ھیں۔ باری تعالی ارشاد فرماتے ھیں کہ جب بھی کوئی مشکل آن پڑے تو صبر اور نماز سے کام لو۔

نماز ایک وجود رکھتی ھے جیسا کہ باری تعالی فرماتا ھے يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ (سورة البقرة-153) یعنی نماز اور صبر سے مدد حاصل کرو۔ معلوم ھوا کہ ھر مشکل کے وقت نماز مدد دیتی ھے۔ نماز دافع البلاء ھے۔ مشکل کشا ھے۔ یہ انسان کو اس کے مولا کے قریب کرتی ھے۔ ایسی چیز بھلا دین میں ایک ستون کی سی اھمیت کیوں نہ حاصل کرے۔ اسی لئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ھیں “الصَّلَاةُ عِمَادُ الدِّین” یعنی نماز دین کا ستون ھے۔ اب جو شخص نماز سے درگزر کرتا ھے اس نے ابتدائے اسلام سے لے کر ایک بہت بڑے حصے سے روگردانی کی اور اتنی اھم چیز کو اپنے ھاتھ سے کھودیا۔ نہ اوامر میں کامل رھا، نہ منہیات سے بچ سکا اور اسلام کی روح سے بیگانہ رھا۔

نماز اندرونی بیرونی نجاست کو دور کرنے والی ھے، روح کو تقویت دینے والی ھے۔ کئی لوگ نماز کو صرف باطن کا نام دے کر دستبردار ھوجاتے ھیں۔ وہ سمجھتے ھیں کہ زبانی یا خیال سے خدا کو یاد کرنے کا نام نماز ھے حالانکہ نماز ایک وجود رکھتی ھے۔ اس کی اپنی ایک حد ھے۔ تکبیر تحریمہ سے لے کر سلام پھیرنے تک کا نام نماز ھے جس میں قیام، رکوع، سجود، جلسہ، قومہ، قعدہ سب چیزیں موجود ھیں۔ ایک نماز کا جسم ھے دوسری نماز کی روح ھے۔ نہ جسم روح کے بغیر مکمل ھے نہ روح جسم کے بغیر۔ دونوں کا کامل اتحاد ھی مکمل نماز ھے۔ کامل نماز تب ھی ھوسکتی ھے جب اس ظاھری فرض نماز میں خیال سے ذکر و فکر، روحانی، جسمانی طور پر سب چیزیں باری تعالی کے ساتھ منسلک ھوں۔ صرف ظاھری صرف باطنی نماز کے علمبرداروں کو جاننا چاھیئے کہ ھر دو صرف صورت میں الجھے ھوئے ھیں۔ دونوں معنی سے دور ھیں۔ نماز ذکر سے مل کر معنی کی نماز بن جاتی ھے۔ اور جو ذکر نماز کے اندر ھو وہ معنی کا ذکر ھے۔

اگر نماز میں کسی ایک چیز کی بھی کوتاھی ھوگی تو نماز کامل نہیں۔ ظاھری اور باطنی نماز اسی کا نام ھے۔ وہ نماز کیوں نہ کامل و اکمل ھو جو با وضو ھوکر پاک جگہ پر قبلہ رو ھوکر قیام و رکوع و سجود میں پڑھی جائے اور ساتھ ھی ساتھ خدا کی یاد سے نمازی کا دل بھی آباد ھو۔ باطن اور ظاھر کی اکٹھی نماز پڑھے۔ جو لوگ دل میں خدا کی یاد ھی کو کامل نماز سمجھتے ھیں وہ حقیقی نماز کے قیوض و برکات سے بے بہرہ ھیں۔ یہی ذکر فکر اگر نماز کے اندر پایا جائے تو بہتر ھے۔ جب رکوع و سجود والی نماز میں روحانی طور پر خدا کو یاد کرے تو یہ کامل نماز ھے۔ اس سے روح تازہ ھوتی ھے اور اپنے اصل یعنی اللہ تعالی کی طرف لوٹنے میں کامیاب ھوجاتی ھے تو یہی مومن کی معراج ھے۔ روحانیت سے ھی نماز شرف قبولیت حاصل کرتی ھے۔

Qibla-e-Alam Mian Mazhar Sahib

January 13, 2008 Posted by | Islam, القران, الحديث | | Leave a Comment

ایمان اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت

ایمان اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت  

تمام جہانوں میں اور عالم کبیر کے ھر ذرے میں اللہ تعالی کی نورانیت ظاھر ھوتی ھے۔ ان تمام انوار کو اکٹھا کرکے باری تعالی نے عالم صغیر یعنی آدمی میں رکھ دیا۔ اسلئےتمام مخلوق سے آدمی افضل ھے۔ اس میں عالم کبیر کے صفات ظاھر ہیں۔ گویا کہ باری تعالی نے دریا کو کوزے میں بند کر دیا۔ اب تمام انسانوں کی نورانیت کو یکجا کرکے ایک ولی میں رکھ دیا۔ تمام ولیوں کی نورانیت کو یکجا کرکے ایک غوث میں رکھ دیا اور تمام غوثوں کی نورانیت کو ایک مجدد میں رکھ دیا۔ تمام مجددوں کے نور کو اکٹھا کرکے ایک صحابی میں رکھ دیا۔ تمام صحابہ کے نور کو اکٹھا کرکے ایک چھوٹے نبی علیہ السلام میں رکھ دیا۔ تمام نبیوں کی نورانیت کو ایک رسول علیہ السلام میں رکھ دیا اور تمام رسولوں کے نور کو اکٹھا کرکے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں رکھ دیا۔ گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم تمام نورانیت کا مجموعہ اور جڑ ہیں۔

جیسا کہ ایک درخت کی جڑ تمام شاخوں اور پتوں کو غذا دیتی ھے اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام افراد امت کو ایمانی تقویت بخشتے ہیں۔ جس طرح کہ اگر ایک پتّہ یہ دعوی کرے کہ میں جڑ سے تعلق رکھے بغیر سر سبز رہ سکتا ھوں تو یہ دعوی باطل ھوگا اور وہ جڑ سے تعلق منقطع کرکے سر سبز نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح کوئ بھی انسان حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق توڑ کر مسلمان یا مومن نہیں بن سکتا۔ جتنا تعلق اور محبت زیادہ ھوگی اتنا ھی ایمان قوی ھوگا۔

جب آدمی کلمۂ طیبہ پڑھ لیتا ھے تو دائرہ اسلام میں داخل ھو جاتا ھے، مسلمان بن جاتا ھے۔ جب اسلامی ارکان پورے کرکے اسلام میں مکمل ھو جاتا ھے تو مومن بن جاتا ھے۔ جب اس کا ایمان قوی ھوجاتا ھے تو موقن بن جاتا ھے۔ جب اس کا یقین کامل ھوتا ھے تو محب بن جاتا ھے۔ جب محبت اور عشق میں کامل ھوجاتا ھے تو باری تعالی اسے اپنا محب اور مقرب بنالیتے ھیں۔

اسلامی ارکان کامل کرکے ایمان میں قوی ھونا صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر منحصر ھے۔ جتنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت، اتنا ھی قوی ایمان۔ جتنی کم محبت اتنا ھی ایمان کمزور جیسا کہ بخاری شریف کی حدیث شریف میں ھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ) یعنی “اے صحابہ! تم میں سے کوئ بھی ایماندار نہیں ھوسکتا یہاں تک کہ اس کی محبت میرے ساتھ ھو۔ محبت اولاد سے، والدین سے، مال سے، تمام دنیا سے، تمام کائنات سے زیادہ ھو۔” تو معلوم ھوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں کامل ھونا ھی ایمان کی تکمیل ھے۔

جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بڑھ جاتی ھے تو باری تعالی اس کا ھاتھ پکڑلیتے ہیں۔ وہ کامل ولی، غوث اور مجدد ھوجاتا ھے۔ باری تعالی ارشاد فرماتے ہیں ” قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّون اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ” (سورة آل عمران-31)۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ھوجاتی ھے تو اتباع کرنا آسان ھوجاتا ھے۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع میسر آجائے تو باری تعالی کی محبت میں کامل ھوجاتا ھے۔اور اس کے تمام گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت حاصل کرکے گویا اس نے خدا کی محبت، گناھوں سے بخشش اور خدا کو راضی کرنا سب کچھ حاصل کرلیا۔ گویا تمام اسلام کا انحصار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر ھے۔ اسی سے روح کو تقویت حاصل ھوتی ھے۔ جب روحانیت غالب آتی ھے اور اپنے اصل یعنی اللہ تعالی کی طرف لوٹتی ھے اللہ تعالی اس پر راضی ھوجاتا ھے۔ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ۔ اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ھوجاتے ہیں۔

Qibla-e-Alam Mian Mazhar Sahib

January 13, 2008 Posted by | Islam, القران, الحديث | | Leave a Comment

اہلسنت ویب سائٹس

اہلسنت ویب سائٹس

فیض رضا نیٹ ورک

انجمن طلباءاسلام

فیضان مدینہ نیٹ ورک

ادارہ تحقیقات امام احمد رضا کراچی

فیضان عطار نیٹ ورک

اسلام فور یو

قادری رضوی فورم

اسلامک یونیورسٹی جامیۃالمدینہ

ماہنامہ آواز اہلسنت گجرات

اسلامک اکیڈمی امریکہ

ماہنامہ تحفظ اسلام کراچی

اعلٰی حضرت نیٹ ورک

مدنی نیٹ ورک

برکاتی نیٹ ورک

مصطفائی تحریک پاکستان

تفسیر قرآن

نفس اسلام

تحریک فکر رضا ممبئی

نور مدینہ نیٹ ورک

جماعت اہلسنت پاکستان

نور نبی نیٹ ورک

جمعیت اشاعت اہلسنت پاکستان

نعت رنگ

جامعۃ الاشرفیہ مبارکپور انڈیا

  ٹرو اسلام نیٹ ورک

ختم قادریہ نیٹ ورک

آن لائن مفتی

ختم نبوت

اہلسنت نیٹ ورک

دارالعلوم نعیمیہ کراچی

المصطفٰی ویلفیئر سوسائٹی

درگاہ سیدی اعلٰی حضرت

المصطفٰی ویلفیئر سوسائٹی ( ارتھ

دعوت اسلامی

امام مصطفٰی رضا ریسرچ سنٹر

رضا اکیڈمی ممبئی

امام احمد رضا نیٹ ورک

رضا اکیڈمی ساؤتھ افریقہ

سنی تحریک پاکستان

سنی دعوت اسلامی

صراط مستقیم

ضیا الامت پیر کرم شاہ الازھری

اہلسنت بلاگ

فتنہ طاہریہ پہ بلاگ

نعتیہ بلاگ

امام احمد رضا بلاگ

اویس رضا قادری بلاگ

January 5, 2008 Posted by | Islam, Pakistan, القران, الحديث, امام احمد رضا | Leave a Comment

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.