إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ

صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا

مراقبہ

 

حوالہ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

سورة

آیت

الفاظ

حروف

اعداد

ماہ

تاریخ

سن ہجری

  

اَلصَّلَاةُ وَالسَّلامُ عَلَيكَ يَا رَسُولَ الله

نساء

1

32

125

8586

ذی الحج

21

1432

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا

کنز الایمان

عرفان القرآن

اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیئے اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو بیشک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے،

اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہاری پیدائش (کی ابتداء) ایک جان سے کی پھر اسی سے اس کا جوڑ پیدا فرمایا پھر ان دونوں میں سے بکثرت مردوں اور عورتوں (کی تخلیق) کو پھیلا دیا، اور ڈرو اس اللہ سے جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور قرابتوں (میں بھی تقوٰی اختیار کرو)، بیشک اللہ تم پر نگہبان ہے،

خاص نکات

  • رقب کے معنی
  • رقب اور مراقبہ
  • اعمال کی نگہبانی
  • سہل تستری کا واقعہ
  • بلی کا انتظار
  • رقبی کی ممانعت
  • فراغت قلب
  • مراقبہ کی قسمیں

اصطلاحات

  • فـي أسماءِ الله تعالـى: الرَّقِـيب : وهو الـحافظُ الذي لا يَغيبُ عنه شيءٌ؛ فَعِيلٌ بمعنى فاعل
  • والتَّرَقُّب : الانتظار، وكذلك الارْتقِاب . وقوله تعالـى: {ولـم تَرْقُب { قولـي}؛ معناه لـم تَنْتَظِرْ قولـي
  • الـمَرْقَبة هي الـمَنْظَرةُ فـي رأْسِ جبلٍ أَو حِصْنٍ
  • الرُّقْبَى : أَن تَـجْعَلَ الـمَنْزِلَ لفُلانٍ يَسْكُنُه، فإِن مات، سكَنه فلانٌ، فكلُّ واحدٍ منهما يَرْقُب مَوْتَ صاحِبه
  • والرَّقَبَة : العُنُقُ: وقـيل: أَعلاها؛ وقـيل: مُؤَخَّر أَصْلِ العُنُقِ، والـجمعُ رَقَب ورَقَبَات ، ورِقاب وأَرْقُب
  • قال أَهل التفسير فـي الرقاب إِنّهم الـمُكاتَبون
  • والرَّقِيبُ: النَّجْمُ الَّذِي فِي المَشْرِق، يُراقِبُ الغارِبَ. ومنازِلُ القمرِ، كُلُّ واحدٍ مِنْهَا رَقِيبٌ لِصاحِبِه، كُلَّما طَلَع مِنْهَا واحِدٌ سقَطَ آخَرُ، مِثْلُ الثُّرَيَّا، رَقِيبُها الإِكلِيلُ إِذا طَلَعَتِ الثُّرَيَّا عِشاءً غابَ الإِكليلُ وإِذا طَلَع الإِكليلُ عِشاءً غابَت الثُّرَيَّا. ورَقِيبُ النَّجْمِ: الَّذِي يَغِيبُ بِطُلُوعِه، مِثْلُ الثُّرَيَّا رَقِيبُها الإِكليلُ؛

خزائن العرفان

  • خشوع اورحضوریعنی دل کو فارغ کر کے ہمہ تن بارگاہِ حق میں متوجہ ہو جانا اور عرض و نیاز و مناجات میں محویت پانا ۔
  • الحدیث : صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) سینہ کا کُھلنا کس طرح ہوتا ہے ؟ فرمایا کہ جب نور قلب میں داخل ہوتا ہے تو وہ کُھلتا ہے اور اس میں وسعت ہوتی ہے صحابہ نے عرض کیا اس کی کیا علامت ہے ؟ فرمایا دارالخُلود کی طرف متوجّہ ہونا اور دارالغرور (دنیا )سےدور رہنا اور موت کے لئے اس کے آنے سے قبل آمادہ ہونا ۔

فتاوی رضویہ

عورت حالت حیض اور نفاس میں مراقبہ جیسا کہ طریقہ نقشبندیہ میں دستور ہے کرسکتی ہے یا نہیں

ہاں- اُمّ المومنین صدیقہ بنت الصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتی ہیں:’رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اللہ تعالٰی کا ذکر فرماتے تھے”۔

 
 

عید کی صبح رب تبارک وتعالٰی مسلمانوں سے ارشاد فرماتا ہے اے میرے بندو!مانگو کہ قسم مجھے اپنی عزت وجلال کی آج اس مجمع میں جو چیز اپنی آخرت کے لئے مانگو گے میں تمہیں عطافرماؤں گااورجو کچھ دنیا کا سوال کروگے اس میں تمہارے لئے نظر کروں گا(یعنی دنیا کی چیز میں خیر و شر دونوں کومتحمل ہیں اورآدمی اکثر اپنی نادانی سے خیر کو شر،شرکوخیر سمجھ لیتا ہے ،اور اﷲ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے لہذا دنیا کے لئے جو کچھ مانگو گے اُس میں بکمال رحمت، نظر فرمائی جائے گی، اگر وُہ چیز تمہارے حق میں بہتر ہوئی عطاہوگی ورنہ اس کے برابر بلا دفع کریں گے یادُعاروزِقیامت کے لئے ذخیرہ رکھیں گے اور یہ بندے کے لئے ہر صورت سے بہتر ہے مجھے اپنی عزت کی قسم ہے جب تک تم میرا مراقبہ رکھوگے میں تمہاری لغزشوں کی ستاری فرماؤں گا مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم میں تمہیں اہل کبائر میں فضیحت و رسوا نہ کروں گا پلٹ جاؤ مغفرت پائے ہوئے ،بیشک تم نے مجھے راضی کیا اور میں تم سے خوشنود ہُوا۔

مزید آیات

مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ

کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیار نہ بیٹھا ہو

فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ

سو آپ اُس دن کا انتظار کریں جب آسمان واضح دھواں ظاہر کر دے گا،

مزید احادیث

مشكاة المصابيح

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«سَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ يُسْأَلَ وَأَفْضَلُ الْعِبَادَةِ انْتِظَارُ الْفَرَجِ»

اشعار

آہٹ پہ کان، در پہ نظر، دل میں اضطراب

کتنا حسین ھے یہ سماں کچھ نہ پوچھئے

دل کے آئینے میں ھے تصویر یار

جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی

حرف مزید

جو اپنے باطن کو مراقبہ اور اخلاص سے صحیح کرلے گا۔ لازم ہے کہ اللہ تعالٰی اس کے ظاہر کو مجاہدہ وپیروی سنت سے آراستہ فرمادے۔

 
 

اپنے دل کو خیالات اِیں وآں سے رہائی دیجئے اورآنکھیں بند کرکے گردن جھکاکریوں دل میں مراقبہ کیجئے

 

Advertisement

December 4, 2011 - Posted by | Islam

No comments yet.

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.