خصائص جمعہ
|
یا اللہ |
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ الرَّحْمَٰنُ ﴿١﴾ عَلَّمَ الْقُرْآنَ ﴿٢﴾ خَلَقَ الْإِنسَانَ ﴿٣﴾ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ﴿٤﴾ |
یا رسول اللہ |
|
|
||||||||||||||
|
|
||||||||||||||
|
: جمعہ کی اذان ہوتے ہی خرید و فروخت حرام ہوجاتی ہے اور دنیا کے تمام مشاغل جو ذکرِ الٰہی سے غفلت کا سبب ہوں اس میں داخل ہیں اذان ہونے کے بعد سب کو ترک کرنا لازم ہے ۔ |
||||||||||||||
|
الحمدُ للهِ وكفي۔ سلامٌ علي عبادهِ الذين اصطفي۔ خصوصاً علي محمد المصطفي۔ وألهِ وصحبهِ واهلُ الصدقِ والصفا. اما بعد فاعوذ باللهِ من الشيطان الرجيم۔ بِسمِ اللهِ الرحمن الرحيم آیت قرآنی |
||||||||||||||
|
|
||||||||||||||
|
تعریفات و فرق |
وجۂ تسمیہ روزِ جمعہ کا نام عربی زبان میں عروبہ تھا۔ جمعہ کو جمعہ اور جمعہ اور جمعہ کہتے ہیں اس کی جمع جُمَع اور جماعات آتی ہے۔ ثُمَّ الْجُمُعَةُ -بِضَمِّ الْمِيمِ، وَإِسْكَانِهَا، وَفَتْحِهَا أَيْضًا ۔ والمشهورالضم ووجه الفتح بأنها تجمع الناس كثيرا ويُقال: يوم الجُمَعَة لغة بني عُقَيل وقيل: لم يسم بيوم الجمعة إلا بعد الإسلام وقيل: لما جُمع فيه من الخير وقيل: لأن الله – تعالى – جمع فيه آدم مع حواء في الأرض. جمعہ کا لفظ جمع سے مشتق ہے، جمعہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں تمام جماعتوں کا اجتماع ہوتا ہے۔ اس کا تقاضاہے کہ اس میں تمام جماعتوں کو آنے کی اجازت ہو تا کہ نام کے معنی کا ثبوت ہو.۔ اعلی حضرت اور یہ بھی کہ اسی دن تمام مخلوق کامل ہوئی سب سے پہلے جس شخص نے اس دن کا نام جمعہ رکھا وہ کعب بن لُوی ہیں۔ قرآن پاک کی ایک سورہ کا نام بھی جمعہ ہے۔ |
||||||||||||||
|
آیت اور جمعہ اور عید اس آیت میں الیوم سے مراد جمعہ یا عرفے کا دن ہے۔ یہ آیت حجّۃ الوداع میں عَرفہ کے روز جو جمعہ کو تھا بعدِ عصر نازل ہوئی ، معنی یہ ہیں کہ کُفّار تمہارے دین پر غالب آنے سے مایوس ہو گئے ۔ شعائر اللّٰہ شانِ نُزول : بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کے پاس ایک یہودی آیا اور اس نے کہا کہ اے امیرالمومنین آپ کی کتاب میں ایک آیت ہے اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم روزِ نُزول کو عید مناتے۔ فرمایا کون سی آیت ؟ اس نے یہی آیت” اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ ” پڑھی آپ نے فرمایا میں اس دن کو جانتا ہوں جس میں یہ نازل ہوئی تھی اور اس کے مقامِ نُزول کو بھی پہچانتا ہوں وہ مقام عرفات کا تھا اور دن جمعہ کا ، آپ کی مراد اس سے یہ تھی کہ ہمارے لئے وہ دن عید ہے ۔ ترمذی شریف میں حضرت ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما سے مروی ہے آپ سے بھی ایک یہودی نے ایسا ہی کہا آپ نے فرمایا کہ جس روز یہ نازل ہوئی اس دن ۲ دو عیدیں تھیں جمعہ و عرفہ ۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک یہودی نے حضرت فاروق اعظم سے کہا تم جو اس آیت کو پڑھتے ہو اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید منا لیتے ”حضرت عمر نے فرمایا واللہ مجھے علم ہے کہ آیت کس وقت اور کس دن نازل ہوئی ، عرفے کے دن جمعہ کی شام کو نازل ہوئی ہے ، ہم سب اس وقت میدان عرفہ میں تھے ، ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت کعب نے حضرت عمر سے یہ کہا تھا ۔حضرت عمر نے فرمایا یہ آیت ہمارے ہاں دوہری عید کے دن نازل ہوئی ہے۔ حضرت ابن عباس کی زبانی اس آیت کی تلاوت سن کر بھی یہودیوں نے یہی کہا تھا کہ جس پر آپ نے فرمایا ہمارے ہاں تو یہ آیت دوہری عید کے دن اتری ہے ، عید بھی تھی اور جمعہ کا دن بھی تھا ۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ یہ آیت عرفے کے دن شام کو اتری ہے ، مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ کسی دینی کامیابی کے دن کو خوشی کا دن منانا جائز اور صحابہ سے ثابت ہے ورنہ حضرت عمرو ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہم صاف فرما دیتے کہ جس دن کوئی خوشی کا واقعہ ہو اس کی یادگار قائم کرنا اور اس روز کو عید منانا ہم بدعت جانتے ہیں ، اس سے ثابت ہوا کہ عیدِ میلاد منانا جائز ہے کیونکہ وہ اعظمِ نِعَمِ الٰہیہ کی یادگار و شکر گزاری ہے ۔ عید (خوشی اور ملنا جلنا) کا اسلامی تصور:۔
|
||||||||||||||
|
مقاتل بن حیان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جمعہ کے دن خطبے میں بیٹھا رہنا منافقوں پربہت بھاری پڑتا تھا۔ جب کسی کو کوئی ایسی ضرورت ہوتی تو اشارے سے آپ سے اجازت چاہتا اور آپ اجازت دے دیتے اس لئے کہ خطبے کی حالت میں بولنے سے جمعہ باطل ہو جاتا ہے تو یہ منافق آڑ ہی آڑ میں نظریں بچا کر سرک جاتے تھے |
||||||||||||||
|
اشعار |
|
||||||||||||||
|
ذاتی آراء |
تفسیر عثمانی (تنبیہ) اس آیت ” الیوم اکملت لکم دینکم” الخ کا نازل فرمانا بھی منجملہ نعمائے عظیمہ کے لیے ایک نعمت ہے۔ اسی لئے بعض یہود نے حضرت عمر رضی اللہ عنہم سے عرض کیا کہ امیر المومنین! اگر یہ آیت ہم پر نازل کی جاتی تو ہم اس کے یوم نزول کو عید منایا کرتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہم نے فرمایا تجھے معلوم نہیں کہ جس روز یہ ہم پر نازل کی گئی مسلمانوں کی دو عیدیں جمع ہوگئی تھیں۔ قول سلیم: اگر حضرت عمر کا عقیدہ آپ کا سا ہوتا تو کہتے کہ او بیوقوف! ہم تیسری عید منانے کو بدعت سمجھتے ہیں۔ عید (خوشی اور ملنا جلنا) کا نبوی تصور:۔ أخرج ابن ماجه عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “إن هذا يوم عيد، جعله الله للمسلمين، فمن جاء إلى الجمعة فليغتسل، وإن كان طيب فليمس منه، وعليكم بالسواك” عن أبي هريرة مرفوعا، يوم الجمعة يوم عيد، فلا تجعلوا يوم عيدكم يوم صيامكم إلا أن تصوموا قبله أو بعده. وروى ابن أبي شيبة عن علي قال: من كان منكم متطوعا من الشهر، فليصم يوم الخميس ولا يصوم يوم الجمعة، فإنه يوم طعام وشراب وذكر. وقال آخرون: بل الحكمة مخالفة اليهود، فإنهم يصومون يوم عيدهم، أي يفردونه بالصوم، فنهى عن التشبه بهم، كما خولفوا في يوم عاشوراء، بصيام يوم قبله أو بعده، وهذا القول هو المختار عندي؛ لأنه لا ينتقض بشيء. یہ آیت ١٠ ہجری میں “حجتہ الوداع” کے موقع پر “عرفہ” کے روز “جمعہ” کے دن “عصر” کے وقت نازل ہوئی جب کہ میدان عرفات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے گرد چالیس ہزار سے زائد اًتقیا و ابرار رضی اللہ عنہم کا مجمع کثیر تھا۔ اس کے بعد صرف اکیاسی روز حضور اس دنیا میں جلوہ افروز رہے۔ قول سلیم:کیا ہی غلط حساب کتاب لگایا ہے۔ |
No comments yet.

