إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ

صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا

خصائص جمعہ

یا اللہ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

الرَّحْمَٰنُ ﴿١﴾ عَلَّمَ الْقُرْآنَ ﴿٢﴾ خَلَقَ الْإِنسَانَ ﴿٣﴾ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ﴿٤﴾

یا رسول اللہ

  • موضوعات
  • تعارف جمعہ
  • شرائط جمعہ
  • فضائل جمعہ
  • مسائل جمعہ
  •  
  • خاص نکات
  • تفسیر عثمانی کی فاش غلطی
  • جمعہ کے وقت سونے والے
  •  
  •  
  •  
  • ایک مسئلہ

    پیغام اہل سنت

: جمعہ کی اذان ہوتے ہی خرید و فروخت حرام ہوجاتی ہے اور دنیا کے تمام مشاغل جو ذکرِ الٰہی سے غفلت کا سبب ہوں اس میں داخل ہیں اذان ہونے کے بعد سب کو ترک کرنا لازم ہے ۔

  • ابتداء

الحمدُ للهِ وكفي۔ سلامٌ علي عبادهِ الذين اصطفي۔ خصوصاً علي محمد المصطفي۔ وألهِ وصحبهِ واهلُ الصدقِ والصفا. اما بعد فاعوذ باللهِ من الشيطان الرجيم۔ بِسمِ اللهِ الرحمن الرحيم آیت قرآنی
أمنتُ بِالله صدق اللهُ مولاناالعظيم۔ وصدق رسُولهُ النبيُ الكريم۔ ونحنُ علي ذالك لمنَ الشاهدين والشاكرين۔ والعاقبةُ للمتقين۔ درود شريف بأوازِ بلند پھر اعلی حضرت فاضل بریلوی کے دو اشعار 48 229 13098

سورة

آیت

الْمَآىِٕدَة

3

الفاظ

حروف

74

278

نص القرآن :

حُرِّمَتْ – عَلَیْكُمُ – الْمَیْتَةُ – وَ – الدَّمُ – وَ – لَحْمُ – الْخِنْزِیْرِ – وَ – مَاۤ – اُهِلَّ – لِغَیْرِ – اللّٰهِ – بِهٖ – وَ – الْمُنْخَنِقَةُ – وَ – الْمَوْقُوْذَةُ – وَ – الْمُتَرَدِّیَةُ – وَ – النَّطِیْحَةُ – وَ – مَاۤ – اَكَلَ – السَّبُعُ – اِلَّا – مَا – ذَكَّیْتُمْ١۫ – وَ – مَا – ذُبِحَ – عَلَى – النُّصُبِ – وَ – اَنْ – تَسْتَقْسِمُوْا – بِالْاَزْلَامِ١ؕ – ذٰلِكُمْ – فِسْقٌ١ؕ – اَلْیَوْمَ – یَىِٕسَ – الَّذِیْنَ – كَفَرُوْا – مِنْ – دِیْنِكُمْ – فَلَا – تَخْشَوْهُمْ – وَ – اخْشَوْنِ١ؕ – اَلْیَوْمَ – اَكْمَلْتُ – لَكُمْ – دِیْنَكُمْ – وَ – اَتْمَمْتُ – عَلَیْكُمْ – نِعْمَتِیْ – وَ – رَضِیْتُ – لَكُمُ – الْاِسْلَامَ – دِیْنًا١ؕ – فَمَنِ – اضْطُرَّ – فِیْ – مَخْمَصَةٍ – غَیْرَ – مُتَجَانِفٍ – لِّاِثْمٍ١ۙ – فَاِنَّ – اللّٰهَ – غَفُوْرٌ – رَّحِیْمٌ۝۳

کنز الایمان :

تم پر حرام ہے (ف۱۳) مُردار اور خون اور سور کا گوشت اور جس کے ذبح میں غیر خدا کا نام پکارا گیا اور وہ جو گلا گھونٹنے سے مرے اور بے دھار کی چیز سے مارا ہوا اور جو گر کر مرا اور جسے کسی جانور نے سینگ مارا اور جسے کوئی درندہ کھا گیا مگر جنہیں تم ذبح کر لو اور جو کسی تھان پر ذبح کیا گیا اور پانسے ڈال کر بانٹا کرنا یہ گناہ کا کام ہے آج تمہارے دین کی طرف سے کافروں کی آس ٹوٹ گئی (ف۱۴) تو اُن سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا (ف۱۵) اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی (ف۱۶) اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا (ف۱۷) تو جو بھوک پیاس کی شدت میں ناچار ہو یوں کہ گناہ کی طرف نہ جھکے (ف۱۸) تو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

عرفان القرآن:

  • تم پر مردار (یعنی بغیر شرعی ذبح کے مرنے والا جانور) حرام کر دیا گیا ہے
  • اور (بہایا ہوا) خون
  • اور سؤر کا گوشت
  • اور وہ (جانور) جس پر ذبح کے وقت غیر اﷲ کا نام پکارا گیا ہو
  • اور گلا گھٹ کر مرا ہوا (جانور)
  • اور (دھار دار آلے کے بغیر کسی چیز کی) ضرب سے مرا ہوا
  • اور اوپر سے گر کر مرا ہوا
  • اور (کسی جانور کے) سینگ مارنے سے مرا ہوا
  • اور وہ (جانور) جسے درندے نے پھاڑ کھایا ہو سوائے اس کے جسے (مرنے سے پہلے) تم نے ذبح کر لیا،
  • اور (وہ جانور بھی حرام ہے) جو باطل معبودوں کے تھانوں (یعنی بتوں کے لئے مخصوص کی گئی قربان گاہوں) پر ذبح کیا گیا ہو
  • اور یہ (بھی حرام ہے) کہ تم پانسوں (یعنی فال کے تیروں) کے ذریعے قسمت کا حال معلوم کرو (یا حصے تقسیم کرو)، یہ سب کام گناہ ہیں۔

     
     

    آج کافر لوگ تمہارے دین (کے غالب آجانے کے باعث اپنے ناپاک ارادوں) سے مایوس ہو گئے، سو (اے مسلمانو!) تم ان سے مت ڈرو اور مجھ ہی سے ڈرا کرو۔ آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو (بطور) دین (یعنی مکمل نظامِ حیات کی حیثیت سے) پسند کر لیا۔ پھر اگر کوئی شخص بھوک (اور پیاس) کی شدت میں اضطراری (یعنی انتہائی مجبوری کی) حالت کو پہنچ جائے (اس شرط کے ساتھ) کہ گناہ کی طرف مائل ہونے والا نہ ہو (یعنی حرام چیز گناہ کی رغبت کے باعث نہ کھائے) تو بیشک اﷲ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے،

تعریفات و فرق

وجۂ تسمیہ

روزِ جمعہ کا نام عربی زبان میں عروبہ تھا۔

جمعہ کو جمعہ اور جمعہ اور جمعہ کہتے ہیں اس کی جمع جُمَع اور جماعات آتی ہے۔

ثُمَّ الْجُمُعَةُ -بِضَمِّ الْمِيمِ، وَإِسْكَانِهَا، وَفَتْحِهَا أَيْضًا ۔

والمشهورالضم
- إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ ۔ وَيُجْمَعُ عَلَى جُمَع وجُمُعات.

ووجه الفتح بأنها تجمع الناس كثيرا

ويُقال: يوم الجُمَعَة لغة بني عُقَيل

وقيل: لم يسم بيوم الجمعة إلا بعد الإسلام

وقيل: لما جُمع فيه من الخير

وقيل: لأن الله – تعالى – جمع فيه آدم مع حواء في الأرض.

جمعہ کا لفظ جمع سے مشتق ہے،

جمعہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں تمام جماعتوں کا اجتماع ہوتا ہے۔ اس کا تقاضاہے کہ اس میں تمام جماعتوں کو آنے کی اجازت ہو تا کہ نام کے معنی کا ثبوت ہو.۔ اعلی حضرت

اور یہ بھی کہ اسی دن تمام مخلوق کامل ہوئی

سب سے پہلے جس شخص نے اس دن کا نام جمعہ رکھا وہ کعب بن لُوی ہیں۔

قرآن پاک کی ایک سورہ کا نام بھی جمعہ ہے۔

 
 

جمعے کے مختلف نام

  • خزائن العرفان

آیت اور جمعہ اور عید

اس آیت میں الیوم سے مراد جمعہ یا عرفے کا دن ہے۔

یہ آیت حجّۃ الوداع میں عَرفہ کے روز جو جمعہ کو تھا بعدِ عصر نازل ہوئی ، معنی یہ ہیں کہ کُفّار تمہارے دین پر غالب آنے سے مایوس ہو گئے ۔

شعائر اللّٰہ
سے دین کے اعلام یعنی نشانیاں مراد ہیں خواہ وہ مکانات ہوں جیسے کعبہ عرفات مزدلفہ جمارثلثہ’ صفا’ مروہ’ منٰی’ مساجد یا ازمنہ جیسے رمضان ،اشہر حرام، عیدالفطر واضحٰی
جمعہ
ایاّم تشریق یا دوسرے علامات جیسے اذان، اقامت نمازِ با جماعت، نمازِ جمعہ، نماز عیدین، ختنہ یہ سب شعائر دین ہیں۔

 
 

شانِ نُزول : بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کے پاس ایک یہودی آیا اور اس نے کہا کہ اے امیرالمومنین آپ کی کتاب میں ایک آیت ہے اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم روزِ نُزول کو عید مناتے۔ فرمایا کون سی آیت ؟ اس نے یہی آیت” اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ ” پڑھی آپ نے فرمایا میں اس دن کو جانتا ہوں جس میں یہ نازل ہوئی تھی اور اس کے مقامِ نُزول کو بھی پہچانتا ہوں وہ مقام عرفات کا تھا اور دن جمعہ کا ، آپ کی مراد اس سے یہ تھی کہ ہمارے لئے وہ دن عید ہے ۔

ترمذی شریف میں حضرت ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما سے مروی ہے آپ سے بھی ایک یہودی نے ایسا ہی کہا آپ نے فرمایا کہ جس روز یہ نازل ہوئی اس دن ۲ دو عیدیں تھیں جمعہ و عرفہ ۔

 
 

مسند احمد میں ہے کہ ایک یہودی نے حضرت فاروق اعظم سے کہا تم جو اس آیت کو پڑھتے ہو اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید منا لیتے ”حضرت عمر نے فرمایا واللہ مجھے علم ہے کہ آیت کس وقت اور کس دن نازل ہوئی ، عرفے کے دن جمعہ کی شام کو نازل ہوئی ہے ، ہم سب اس وقت میدان عرفہ میں تھے ،

 
 

ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت کعب نے حضرت عمر سے یہ کہا تھا ۔حضرت عمر نے فرمایا یہ آیت ہمارے ہاں دوہری عید کے دن نازل ہوئی ہے۔

 
 

حضرت ابن عباس کی زبانی اس آیت کی تلاوت سن کر بھی یہودیوں نے یہی کہا تھا کہ جس پر آپ نے فرمایا ہمارے ہاں تو یہ آیت دوہری عید کے دن اتری ہے ، عید بھی تھی اور جمعہ کا دن بھی تھا ۔

حضرت علی سے مروی ہے کہ یہ آیت عرفے کے دن شام کو اتری ہے ،

 
 

مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ کسی دینی کامیابی کے دن کو خوشی کا دن منانا جائز اور صحابہ سے ثابت ہے ورنہ حضرت عمرو ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہم صاف فرما دیتے کہ جس دن کوئی خوشی کا واقعہ ہو اس کی یادگار قائم کرنا اور اس روز کو عید منانا ہم بدعت جانتے ہیں ، اس سے ثابت ہوا کہ عیدِ میلاد منانا جائز ہے کیونکہ وہ اعظمِ نِعَمِ الٰہیہ کی یادگار و شکر گزاری ہے ۔

 
 

عید (خوشی اور ملنا جلنا) کا اسلامی تصور:۔

  • أخرج ابن ماجه عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “إن هذا يوم عيد، جعله الله للمسلمين، فمن جاء إلى الجمعة فليغتسل، وإن كان طيب فليمس منه، وعليكم بالسواك”
  • عن أبي هريرة مرفوعا، يوم الجمعة يوم عيد، فلا تجعلوا يوم عيدكم يوم صيامكم إلا أن تصوموا قبله أو بعده.
  • وروى ابن أبي شيبة عن علي قال: من كان منكم متطوعا من الشهر، فليصم يوم الخميس ولا يصوم يوم الجمعة، فإنه يوم طعام وشراب وذكر.
  • وقال آخرون: بل الحكمة مخالفة اليهود، فإنهم يصومون يوم عيدهم، أي يفردونه بالصوم، فنهى عن التشبه بهم، كما خولفوا في يوم عاشوراء، بصيام يوم قبله أو بعده، وهذا القول هو المختار عندي؛ لأنه لا ينتقض بشيء.
  • ابن کثیر

مقاتل بن حیان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جمعہ کے دن خطبے میں بیٹھا رہنا منافقوں پربہت بھاری پڑتا تھا۔ جب کسی کو کوئی ایسی ضرورت ہوتی تو اشارے سے آپ سے اجازت چاہتا اور آپ اجازت دے دیتے اس لئے کہ خطبے کی حالت میں بولنے سے جمعہ باطل ہو جاتا ہے تو یہ منافق آڑ ہی آڑ میں نظریں بچا کر سرک جاتے تھے

اشعار

قربان اے دو شنبے تجھ پر ہزار جمعے

وہ فضل تو نے پایا صبح شب ولادت

ذاتی آراء

تفسیر عثمانی

(تنبیہ) اس آیت ” الیوم اکملت لکم دینکم” الخ کا نازل فرمانا بھی منجملہ نعمائے عظیمہ کے لیے ایک نعمت ہے۔

اسی لئے بعض یہود نے حضرت عمر رضی اللہ عنہم سے عرض کیا کہ امیر المومنین! اگر یہ آیت ہم پر نازل کی جاتی تو ہم اس کے یوم نزول کو عید منایا کرتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہم نے فرمایا تجھے معلوم نہیں کہ جس روز یہ ہم پر نازل کی گئی مسلمانوں کی دو عیدیں جمع ہوگئی تھیں۔

 
 

قول سلیم: اگر حضرت عمر کا عقیدہ آپ کا سا ہوتا تو کہتے کہ او بیوقوف! ہم تیسری عید منانے کو بدعت سمجھتے ہیں۔

عید (خوشی اور ملنا جلنا) کا نبوی تصور:۔

أخرج ابن ماجه عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “إن هذا يوم عيد، جعله الله للمسلمين، فمن جاء إلى الجمعة فليغتسل، وإن كان طيب فليمس منه، وعليكم بالسواك”

 
 

عن أبي هريرة مرفوعا، يوم الجمعة يوم عيد، فلا تجعلوا يوم عيدكم يوم صيامكم إلا أن تصوموا قبله أو بعده.

وروى ابن أبي شيبة عن علي قال: من كان منكم متطوعا من الشهر، فليصم يوم الخميس ولا يصوم يوم الجمعة، فإنه يوم طعام وشراب وذكر.

وقال آخرون: بل الحكمة مخالفة اليهود، فإنهم يصومون يوم عيدهم، أي يفردونه بالصوم، فنهى عن التشبه بهم، كما خولفوا في يوم عاشوراء، بصيام يوم قبله أو بعده، وهذا القول هو المختار عندي؛ لأنه لا ينتقض بشيء.

 
 

 
 

یہ آیت ١٠ ہجری میں “حجتہ الوداع” کے موقع پر “عرفہ” کے روز “جمعہ” کے دن “عصر” کے وقت نازل ہوئی جب کہ میدان عرفات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے گرد چالیس ہزار سے زائد اًتقیا و ابرار رضی اللہ عنہم کا مجمع کثیر تھا۔

 
 

اس کے بعد صرف اکیاسی روز حضور اس دنیا میں جلوہ افروز رہے۔

قول سلیم:کیا ہی غلط حساب کتاب لگایا ہے۔

 

Advertisement

October 17, 2011 - Posted by | Islam

No comments yet.

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.