حضرت عمر کو خلیفہ بنانا
والدہ سلمی بنت صخر ام الخیر
آپ نے زمانۂ جاہلیت میں کبھی شراب نہیں پی۔
صدیق انبیاء کے سچے متبعین کو کہتے ہیں جو اخلاص کے ساتھ اُن کی راہ پر قائم رہیں جیسے کہ حضرت ابوبکر صدیق ۔
آپ قریش کے ان گیارہ اشخاص میں سے ہیں جن کو زمانۂ جاہلیت اور اسلام دونوں میں شرف حاصل رہا ہے۔ آپ خون بہا اور جرمانہ کے مقدمات کے فیصلے کیا کرتے تھے، کیونکہ قریش میں کوئی بادشاہ نہیں تھا
بعض مفسِّرین نے کہا کہ صدیق کے معنی ہیں کثیرُ التصدیق جو اللہ تعالٰی اور اس کی وحدانیّت اور اس کے انبیاء اور اس کے رسولوں کی اور مرنے کے بعد اٹھنے کی تصدیق کرے اور احکامِ الٰہیہ بجا لائے ۔
حضرت علی فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے حضرت ابو بکر اسلام لے کر آئے
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ ایمان لائے تو آپ کے پاس حضرت عثمان اور عبدالرحمٰن ابنِ عوف اور طلحہ و زبیر و سعد بن ابی وقاص و سعید بن زید آئے اور ان سے حال دریافت کیا انہوں نے اپنے ایمان کی خبر دی یہ حضرات بھی سُن کر ایمان لے آئے ۔
آپ کی تمام اولاد مومن ہے اور ان میں حضرت امّ المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا مرتبہ کس قدر بلند و بالا ہے کہ تمام عورتوں پر اللہ تعالٰی نے انہیں فضیلت دی ہے ،
- حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے والدین بھی مسلمان اور
- آپ کے صاحبزادے محمّد اور عبداللہ اور عبدالرحمٰن اور
- آپ کی صاحبزادیاں حضرت عائشہ اور حضرت اسماء اور
- آپ کے پوتے محمّد بن عبدالرحمٰن یہ سب مومن اور سب شرفِ صحابیّت سے مشرف صحابہ ہیں ،
آپ کے سوا کوئی ایسا نہیں ہے جس کو یہ فضیلت حاصل ہو کہ اس کے والدین بھی صحابی ہوں ، خود بھی صحابی ، اولاد بھی صحابی ، پوتے بھی صحابی ، چارپشتیں شرفِ صحابیّت سے مشرّف ۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی عمر سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے دو سال کم تھی ، جب حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی عمر اٹھارہ سال کی ہوئی تو آپ نے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صحبت اختیار کی ، اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عمر شریف بیس سال کی تھی ، حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی ہمراہی میں بغرضِ تجارت ملکِ شام کا سفر کیا ، ایک منزل پر ٹھہرے ، وہاں ایک بیری کا درخت تھا ، حضور سیدِ عالَم علیہ الصٰلوۃوالسلام اس کے سایہ میں تشریف فرما ہوئے ، قریب ہی ایک راہب رہتا تھا ، حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ اس کے پاس چلے گئے ، راہب نے آپ سے کہا یہ کون صاحب ہیں جو اس بیری کے سایہ میں جلوہ فرما ہیں ، حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ یہ محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)ا بنِ عبداللہ ہیں ، عبدالمطلب کے پوتے ، راہب نے کہا خدا کی قَسم یہ نبی ہیں ، اس بیری کے سایہ میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بعد سے آج تک ان کے سوا کوئی نہیں بیٹھا ، یہی نبی آخرُ الزّماں ہیں ، راہب کی یہ بات حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دل میں اثر کر گئی اور نبوّت کا یقین آپ کے دل میں جم گیا اور آپ نے صحبت شریف کی ملازمت اختیار کی ، سفر و حضر میں آپ سے جدا نہ ہوتے ، جب سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عمر شریف چالیس سال کی ہوئی اور اللہ تعالٰی نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اپنی نبوّت و رسالت کے ساتھ سرفراز فرمایا تو حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ آپ پر ایمان لائے اس وقت حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی عمر اڑتیس سال کی تھی ۔
ثعلبہ بن حاطب نے سیدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی اس کے لئے مالدار ہونے کی دعا فرمائیں ، حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے ثعلبہ تھوڑا مال جس کا تو شکر ادا کرے اس بہت سے بہتر ہے جس کا شکر ادا نہ کر سکے ، دوبارہ پھر ثعلبہ نے حاضر ہو کر یہی درخواست کی اور کہا اسی کی قسم جس نے آپ کو سچا نبی بنا کر بھیجا کہ اگر وہ مجھے مال دے گا تو میں ہر حق والے کا حق ادا کروں گا ۔
حضورنے دعا فرمائی اللّٰہ تعالٰی نے اس کی بکریوں میں برکت فرمائی اور اتنی بڑھیں کہ مدینہ میں ان کی گنجائش نہ ہوئی تو ثعلبہ ان کو لے کر جنگل میں چلا گیا اور جمعہ و جماعت کی حاضری سے بھی محروم ہوگیا ۔ حضور نے اس کا حال دریافت فرمایا تو صحابہ نے عرض کیا کہ اس کا مال بہت کثیر ہوگیا ہے اور اب جنگل میں بھی اس کے مال کی گنجائش نہ رہی ۔ حضورنے فرمایا کہ ثعلبہ پر افسوس پھر جب حضور اقدس صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے زکوٰۃ کے تحصیل کرنے والے بھیجے ، لوگوں نے انہیں اپنے اپنے صدقات دیے جب ثعلبہ سے جا کر انہوں نے صدقہ مانگا اس نے کہا یہ تو ٹیکس ہوگیا ، جاؤ میں سوچ لوں جب یہ لوگ رسولِ کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں واپس آئے تو حضور نے ان کے کچھ عرض کرنے سے قبل دو مرتبہ فرمایا ” ثعلبہ پر افسوس ” پھر ثعلبہ صدَقہ لے کر حاضر ہوا تو سیدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللّٰہ تعالٰی نے مجھے اس کے قبول فرمانے کی ممانعت فرما دی ۔
وہ اپنے سر پر خاک ڈال کر واپس ہوا پھر اس صدَقہ کو خلافتِ صدیقی میں حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ کے پاس لایا انہوں نے بھی اسے قبول نہ فرمایا پھر خلافتِ فاروقی میں حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کے پاس لایا انہوں نے بھی قبول نہ فرمایا اور خلافتِ عثمانی میں یہ شخص ہلاک ہوگیا ۔ (مدارک)
مُسَیلمہ کَذّاب نے یَمامہ عَلاقۂ یمن میں نبوّت کا جھوٹا دعوٰی کیا تھا ۔ قبیلۂ بنی حنیفہ کے چند لوگ اس کے فریب میں آ گئے تھے یہ کذّاب زمانۂ خلافتِ حضرت ابو بکر صدیق میں وحشی قاتلِ امیرِ حمزہ رضی اللّٰہ عنہ کے ہاتھ سے قتل ہوا ۔
روزِ بدر رسولِ کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکین کو ملاحَظہ فرمایا کہ ہزار ہیں اور آپ کے اصحاب تین سو دس سے کچھ زیادہ تو حضور قبلے کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنے مبارک ہاتھ پھیلا کر اپنے ربّ سے یہ دعا کرنے لگے ، یا ربّ جو تو نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے پورا کر ، یاربّ جو تو نے مجھ سے وعدہ کیا عنایت فرما ، یاربّ اگر تو اہلِ اسلام کی اس جماعت کو ہلاک کردے گا تو زمین میں تیری پرستِش نہ ہوگی ۔ اسی طرح حضور دعا کرتے رہے یہاں تک کہ دوشِ مبارک سے چادر شریف اُتر گئی تو حضرت ابوبکر حاضر ہوئے اور چادر مبارک دوشِ اقدس پر ڈالی اور عرض کیا یا نبیَ اللّٰہ آپ کی مناجات اپنے ربّ کے ساتھ کافی ہوگئی ، وہ بہت جلد اپنا وعدہ پورا فرمائے گا ۔
اس میں اس واقعہ کا بیان ہے جو حضرت ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما نے ذکر فرمایا کہ کُفّارِ قریش دارالندوہ (کمیٹی گھر) میں رسولِ کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت مشورہ کرنے کے لئے جمع ہوئے اور ابلیسِ لعین ایک بُڈھے کی صورت میں آیا اور کہنے لگا کہ میں شیخِ نجد ہوں ، مجھے تمہارے اس اجتماع کی اطلاع ہوئی تو میں آیا مجھ سے تم کچھ نہ چھپانا ، میں تمہارا رفیق ہوں اور اس معاملہ میں بہتر رائے سے تمہاری مدد کروں گا ، انہوں نے اس کو شامل کرلیا اور سیدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق رائے زنی شروع ہوئی ،
ابوالبختری نے کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ محمّد (صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم) کو پکڑ کر ایک مکان میں قید کردو اور مضبوط بندشوں سے باندھ دو ، دروازہ بند کر دو ، صرف ایک سوراخ چھوڑ دو جس سے کبھی کبھی کھانا پانی دیا جائے اور وہیں وہ ہلاک ہو کر رہ جائیں ۔ اس پر شیطانِ لعین جو شیخِ نجدی بنا ہوا تھا بہت ناخوش ہوا اور کہا نہایت ناقص رائے ہے ، یہ خبر مشہور ہوگی اور ان کے اصحاب آئیں گے اور تم سے مقابلہ کریں گے اور ان کو تمہارے ہاتھ سے چُھڑا لیں گے ۔ لوگوں نے کہا شیخِ نجدی ٹھیک کہتا ہے
پھر ہشام بن عمرو کھڑا ہوا اس نے کہا میری رائے یہ ہے کہ ان کو (یعنی محمّد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو) اونٹ پر سوار کرکے اپنے شہر سے نکال دو پھر وہ جوکچھ بھی کریں اس سے تمہیں کچھ ضَرر نہیں ۔ ابلیس نے اس رائے کو بھی ناپسند کیا اور کہا جس شخص نے تمہارے ہوش اُڑا دیئے اور تمہارے دانشمندوں کو حیران بنادیا اس کو تم دوسروں کی طر ف بھیجتے ہو ، تم نے اس کی شیریں کلامی ، سیف زبانی ، دل کشی نہیں دیکھی ہے اگر تم نے ایسا کیا تو وہ دوسری قوم کے قلوب تسخیر کرکے ان لوگوں کے ساتھ تم پر چڑھائی کریں گے ۔ اہلِ مجمع نے کہا شیخِ نجدی کی رائے ٹھیک ہے
اس پر ابوجہل کھڑا ہوا اور اس نے یہ رائے دی کہ قریش کے ہر ہر خاندان سے ایک ایک عالی نسب جوان منتخب کیا جائے اور ان کو تیز تلواریں دی جائیں ، وہ سب یکبارگی حضرت پر حملہ آور ہو کر قتل کردیں تو بنی ہاشم قریش کے تمام قبائل سے نہ لڑ سکیں گے ۔ غایت یہ ہے کہ خون کا معاوضہ دینا پڑے وہ دے دیا جائے گا ۔ ابلیسِ لعین نے اس تجویز کوپسند کیا اور ابوجہل کی بہت تعریف کی اور اسی پر سب کا اتفاق ہوگیا ۔
حضرتِ جبریل علیہ السلام نے سیدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر واقعہ گزارش کیا اور عرض کیا کہ حضور اپنی خواب گاہ میں شب کو نہ رہیں ، اللّٰہ تعالٰی نے اِذن دیا ہے مدینہ طیبہ کا عزم فرمائیں ۔ حضور نے علی مرتضٰی کو شب میں اپنی خواب گاہ میں رہنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ ہماری چادر شریف اوڑھو تمہیں کوئی ناگواربات پیش نہ آئے گی اور حضور دولت سرائے اقدس سے باہر تشریف لائے اور ایک مشتِ خاک دستِ مبارک میں لی اور آیت” اِنَّا جَعَلْنَا فِیْ اَعْنَاقِھِمْ اَغْلٰلاً ” پڑھ کر محاصَرہ کرنے والوں پر ماری ، سب کی آنکھوں اور سروں پر پہنچی ، سب اندھے ہوگئے اور حضور کو نہ دیکھ سکے اور حضور مع ابوبکر صدیق کے غارِ ثور میں تشریف لے گئے اور حضرت علی مرتضٰی کو لوگوں کو امانتیں پہنچانے کے لئے مکّۂ مکرّمہ میں چھوڑا ۔ مشرکین رات بھر سیدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی دولت سرائے کا پہرہ دیتے رہے ، صبح کو جب قتل کے ارادہ سے حملہ آور ہوئے تو دیکھا کہ حضرت علی ہیں ، ان سے حضورصلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو دریافت کیا گیا کہ کہاں ہیں انہوں نے فرمایا کہ ہمیں معلوم نہیں تو تلاش کے لئے نکلے جب غار پر پہنچے تو مکڑی کے جالے دیکھ کر کہنے لگے کہ اگر اس میں داخل ہوتے تو یہ جالے باقی نہ رہتے ۔ حضور اس غار میں تین روز ٹھہرے پھر مدینہ طیبہ روانہ ہوئے ۔
مسلم شریف وغیرہ کی احادیث میں ہے کہ جنگِ بدر میں ستّر کافِر قید کرکے سیدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور میں لائے گئے حضور نے ان کے متعلق صحابہ سے مشورہ طلب فرمایا حضرت ابوبکر صدیق نے عرض کیا کہ یہ آپ کی قوم و قبیلے کے لوگ ہیں میری رائے میں انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے اس سے مسلمانوں کو قوت بھی پہنچے گی اور کیا عجب ہے کہ اللّٰہ تعالٰی ان لوگوں کو اسلام نصیب کرے ۔
یہ سورت ۹ہجری میں فتحِ مکّہ سے ایک سال بعد نازِل ہوئی ۔ رسولِ کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سنہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ کو امیرِ حج مقرر فرمایا تھا اور انکے بعد علی مرتضٰی کو مجمعِ حُجّاج میں یہ سورت سنانے کے لئے بھیجا چنانچہ حضرت علی مرتضٰی نے دس ذی الحِجّہ کو جَمرۂ عُقبہ کے پاس کھڑے ہو کر ندا کی ” یٰاَیُّھَاالنَّاسُ ” میں تمہاری طرف رسولِ کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا فِرِستادہ آیا ہوں ، لوگوں نے کہا آپ کیا پیام لائے ہیں ؟ تو آپ نے تیس یا چالیس آیتیں اس سورت مبارکہ کی تلاوت فرمائیں پھر فرمایا میں چار حکم لایا ہوں ۔ (۱) اس سال کے بعد کوئی مشرک کعبۂ معظّمہ کے پاس نہ آئے ۔
(۲) کوئی شخص بَرَہۡنہ ہو کر کعبۂ معظّمہ کا طواف نہ کرے ۔
(۳) جنّت میں مؤمن کے سوا کوئی داخل نہ ہوگا ۔
(۴) جس کارسولِ کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عہد ہے وہ عہد اپنی مدت تک رہے گا اور جس کی مدت معیّن نہیں ہے اس کی معیاد چار ماہ پر تمام ہوجائے گی ۔
مشرکین نے یہ سن کر کہا کہ اے علی اپنے چچا کے فرزند (یعنی سیدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ) کو خبر دے دیجئے کہ ہم نے عہد پس پشت پھینک دیا ، ہمارے ان کے درمیان کوئی عہد نہیں ہے بَجُز نیزہ بازی اور تیغ زنی کے ۔ اس واقعہ میں خلافتِ حضرتِ صدیقِ اکبر کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو تو امیرِ حج بنایا اور حضرت علی مرتضٰی کو ان کے پیچھے سورۂ براءت پڑھنے کے لئے بھیجا تو حضرت ابوبکر امام ہوئے اور حضرت علی مرتضٰی مقتدی ۔ اس سے حضرت ابوبکر کی تقدیم حضرت علی مرتضٰی پر ثابت ہوئی ۔
شانِ نُزول : یہ آیت غزوۂ تبوک کی ترغیب میں نازِل ہوئی ۔ تبوک ایک مقام ہے اطرافِ شام میں مدینۂ طیّبہ سے چودہ منزل فاصلہ پر ۔ رجب ۹ ہجری میں طائف سے واپسی کے بعد سیدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر پہنچی کہ عرب کے نصرانیوں کی تحریک سے ہر قل شاہِ روم نے رومیوں اور شامیوں کی فوج گِراں جمع کی ہے اور وہ مسلمانوں پر حملے کا ارادہ رکھتا ہے تو حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو جہاد کا حکم دیا ۔ یہ زمانہ نہایت تنگی ، قحط سالی اور شدتِ گرمی کا تھا یہاں تک کہ دو دو آدمی ایک ایک کھجور پر بسر کرتے تھے ، سفر دور کا تھا ، دشمن کثیر اور قوی تھے اس لئے بعض قبیلے بیٹھ رہے اور انہیں اس وقت جہاد میں جانا گِراں معلوم ہوا اور اس غزوہ میں بہت سے منافقین کا پردہ فاش اور حال ظاہر ہوگیا ۔ حضرت عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے اس غزوہ میں بڑی عالی ہمتی سے خرچ کیا دس ہزار مجاہدین کو سامان دیا اور دس ہزار دینار اس غزوہ پر خرچ کئے ، نو سو اونٹ اورسو گھوڑے مع ساز و سامان کے اس کے علاوہ ہیں اور اصحاب نے بھی خوب خرچ کیا ،
ان میں سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق ہیں جنہوں نے اپنا کُل مال حاضر کردیا جس کی مقدار چار ہزار درہم تھی اور حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے اپنا نصف مال حاضر کیا اور سیدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم تیس ہزار کا لشکر لے کر روانہ ہوئے ۔ حضرت علی مرتضٰی کو مدینہ طیّبہ میں چھوڑا ۔ عبداللّٰہ بن اُبَی اور اس کے ہمراہی منافقین ثنیۃ الوداع تک چل کر رہ گئے جب لشکر اسلام تبوک میں اترا تو انہوں نے دیکھا کہ چشمے میں پانی بہت تھوڑا ہے ، رسولِ کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے پانی سے اس میں کلی فرمائی جس کی برکت سے پانی جوش میں آیا اور چشمہ بھر گیا ، لشکر اور اس کے تمام جانور اچھی طرح سیراب ہوئے ۔ حضرت نے کافی عرصہ یہاں قیام فرمایا ۔
یعنی غزوۂ تبوک میں جس کو غزوۂ عُسر ت بھی کہتے ہیں ، اس غزوہ میں عسرت کا یہ حال تھا کہ دس دس آدمیوں میں سواری کے لئے ایک ایک اونٹ تھا ، نوبت بہ نوبت اسی پر سوار ہو لیتے تھے اور کھانے کی قلّت کا یہ حال تھا کہ ایک ایک کھجور پر کئی کئی آدمی بسر کرتے تھے اس طرح کہ ہر ایک نے تھوڑی تھوڑی چوس کر ایک گھونٹ پانی پی لیا ، پانی کی بھی نہایت قلّت تھی ، گرمی شدت کی تھی ، پیاس کا غلبہ اور پانی ناپید ۔ اس حال میں صحابہ اپنے صدق و یقین اور ایمان و اخلاص کے ساتھ حضور کی جاں نثاری میں ثابت قدم رہے ۔ حضرت ابو بکر صدیق نے عرض کیا یا رسولَ اللّٰہ اللّٰہ تعالٰی سے دعا فرمائیے ! فرمایا کیا تمہیں یہ خواہش ہے عرض کیا جی ہاں تو حضور نے دستِ مبارک اٹھا کر دعا فرمائی اور ابھی دستِ مبارک اٹھے ہی ہوئے تھے کہ اللّٰہ تعالٰی نے اَبر بھیجا ، بارش ہوئی ، لشکر سیراب ہو ا ، لشکر والوں نے اپنے برتن بھر لئے اس کے بعد جب آگے چلے تو زمین خشک تھی ، ابر نے لشکر کے باہر بارش ہی نہیں کی وہ خاص اسی لشکر کو سیراب کرنے کیلئے بھیجا گیا تھا ۔
ترمذی و ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا خلافت میرے بعد تیس سال ہے پھر ملک ہوگا
اس کی تفصیل یہ ہے کہ
- حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خلافت دو برس تین ماہ اور
- حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خلافت دس سال چھ ماہ اور
- حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خلافت بارہ سال اور
- حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خلافت چار سال نو ماہ اور
- حضرت امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خلافت چھ ماہ ہوئی ۔ (خازن)
شانِ نزول : کلبی نے کہا کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حق میں نازل ہوئی کیونکہ آپ پہلے شخص ہیں جو اسلام لائے اور پہلے وہ شخص جس نے راہِ خدا میں مال خرچ کیا اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حمایت کی ۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے روزِ بدر اپنے بیٹے عبدالرحمن کو مبارزت کےلئے طلب کیا لیکن رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انہیں اس جنگ کی اجازت نہ دی۔
اُمیّہ ا بنِ خلف حضرت بلال کو جو اس کی مِلک میں تھے دِین سے منحرف کرنے کے لئے طرح طرح کی تکلیفیں دیتا تھا ۔ اور انتہائی ظلم اور سختیاں کرتا تھا ایک روز حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے دیکھا کہ اُمیّہ نے حضرت بلال کو گرم زمین پر ڈال کر تپتے ہوئے پتّھر ان کے سینہ پر رکھے ہیں اور اس حال میں کلمۂِ ایمان ان کی زبان پر جاری ہے ، آپ نے اُمیّہ سے فرمایا اے بدنصیب ایک خدا پرست پر یہ سختیاں اس نے کہا آپ کو اس کی تکلیف ناگوار ہو تو خرید لیجئے آپ نے گراں قیمت پر ان کو خرید کر آزاد کردیا اس پر یہ سورت نازل ہوئی اس میں بیان فرمایا گیا کہ تمہاری کوششیں مختلف ہیں یعنی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی کوشش اور اُمیّہ کی اور حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ رضائے الٰہی کے طالب ہیں اُمیّہ حق کی دشمنی میں اندھا ۔
جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت بلال کو بہت گراں قیمت پر خرید کر آزاد کیا تو کفّار کو حیرت ہوئی اور انہوں نے کہا حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایسا کیوں کیا ؟ شاید بلال کا ان پر کوئی احسان ہوگا جو انہوں نے اتنی گراں قیمت دے کر خریدا اور آزاد کیا ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ظاہر فرمادیا گیا کہ حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کا یہ فعل محض اللہ تعالٰی کی رضا کے لئے ہے کسی کے احسان کا بدلہ نہیں اور نہ ان پر حضرت بلال وغیرہ کا کوئی احسان ہے ۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بہت لوگوں کو ان کے اسلام کے سبب خرید کر آزاد کیا ۔
اس سورت کے نازل ہونے کے بعد سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے” سُبْحَان اللہِ وَبِحَمدِہ اَسْتَغفِرُ اللہَ وَاتُوبُ اِلیہ ” کی بہت کثرت فرمائی ۔ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ یہ سورت حجّۃ الوداع میں بمقامِ مِنٰی نازل ہوئی اس کے بعد آیت” اَلیَومَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ ”نازل ہوئی اس کے نازل ہونے کے بعد اسّی۸۰ روز سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دنیا میں تشریف رکھی پھر آیۃ ”الکلالۃ” نازل ہوئی اس کے بعد حضور پچاس روز تشریف فرما رہے پھر آیت ”وَاتَّقُوْا یَوْماً تُرْجَعُوْنَ فِیۡہِ اِلَی اللہِ ”نازل ہوئی اس کے بعد حضور اکّیس روز یا سات روز تشریف فرما رہے اس سورت کے نازل ہونے کے بعد صحابہ نے سمجھ لیا تھا کہ دِین کامل اور تمام ہوگیا تو اب حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دنیا میں زیادہ تشریف نہ رکھیں گے چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ یہ سورت سن کر اسی خیال سے روئے ، اس سورت کے نازل ہونے کے بعد سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے خطبہ میں فرمایا کہ ایک بندہ کو اللہ تعالٰی نے اختیار دیا چاہے دنیا میں رہے چاہے اس کی لقاء قبول فرمائے اس بندہ نے لقائے الٰہی اختیار کی ، یہ سن کر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کیا آپ پر ہماری جانیں ، ہمارے مال ، ہمارے آباء، ہماری اولادیں سب قربان ۔