إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ

صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا

یقین کا بیان

یا اللہ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

الرَّحْمَٰنُ ﴿١﴾ عَلَّمَ الْقُرْآنَ ﴿٢﴾ خَلَقَ الْإِنسَانَ ﴿٣﴾ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ﴿٤﴾

یا رسول اللہ

  • موضوعات
  • یقین و شک و ظن و وہم
  • درجات روحانیت
  • یقین کے ثمرات
  • یقین کے اعمال
  • یقین اور عمل مثل روح و بدن
  • خاص نکات
  • ہدہد کا یقین
  • ابو حنیفہ اور طلاق والا
  • ابو حغیفہ اور استاد
  • دعا اور یقین
  • اعلی حضرت اور دعا
  • ایک مسئلہ

    پیغام اہل سنت

یوسف کے انمول ہونے کا یقین – علامہ اقبال اور مسلمانوں کا یقین

شک میں رہنا کفار کی صفت ہے

  • ابتداء

الحمدُ للهِ وكفي۔ سلامٌ علي عبادهِ الذين اصطفي۔ خصوصاً علي محمد المصطفي۔ وألهِ وصحبهِ واهلُ الصدقِ والصفا. اما بعد فاعوذ باللهِ من الشيطان الرجيم۔ بِسمِ اللهِ الرحمن الرحيم آیت قرآنی
أمنتُ بِالله صدق اللهُ مولاناالعظيم۔ وصدق رسُولهُ النبيُ الكريم۔ ونحنُ علي ذالك لمنَ الشاهدين والشاكرين۔ والعاقبةُ للمتقين۔

48 الفاظ 229 حروف 13098 اعداد

درود شريف بأوازِ بلند پھر اعلی حضرت فاضل بریلوی کے دو اشعار

سورة

آیت

الحجر

99

الفاظ

  

حروف

  

اعداد

  

نص القرآن :

وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ

کنز الایمان :

اور مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت میں رہو،

عرفان القرآن:

اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں یہاں تک کہ آپ کو (آپ کی شان کے لائق) مقامِ یقین مل جائے (یعنی انشراحِ کامل نصیب ہو جائے یا لمحۂ وصالِ حق)،

تعریفات و فرق

يَقِينٌ (لب الإيمان وخلاصته وزبدته)

التَّعْرِيفُ:

1 ـ الْيَقِينُ فِي اللُّغَةِ: الْعِلْمُ وَإِزَاحَةُ الشَّكِّ، وَتَحْقِيقُ الأْمْرِ، وَهُوَ نَقِيضُ الشَّكِّ،

وَالْيَقِينُ فِي اصْطِلاَحِ الْفُقَهَاءِ: هُوَ جَزْمُ الْقَلْبِ بِوُقُوعِ الشَّيْءِ، أَوْ عَدَمِ وُقُوعِهِ

 
 

الأْلْفَاظُ ذَاتُ الصِّلَةِ:

الشَّكُّ:

الشَّكُّ فِي اللُّغَةِ: الاِرْتِيَابُ

وَالشَّكُّ فِي اصْطِلاَحِ الْفُقَهَاءِ هُوَ التَّرَدُّدُ بَيْنَ النَّقِيضَيْنِ بِلاَ تَرْجِيحٍ لأِحَدِهِمَا عَلَى الآْخَرِ عِنْدَ الشَّاكِّ، وَقِيل: مَا يَسْتَوِي طَرَفَاهُ، وَهُوَ الْوُقُوفُ بَيْنَ الشَّيْئَيْنِ لاَ يَمِيل الْقَلْبُ إِلَى أَحَدِهِمَا

الْوَهْمُ:

الْوَهْمُ فِي اللُّغَةِ مِنْ مَعَانِيهِ: خَطَرَاتُ الْقَلْبِ، أَوْ مَرْجُوحُ طَرَفَيِ الْمُتَرَدَّدِ فِيهِ.

وَفِي الاِصْطِلاَحِ: الاِعْتِقَادُ الْمَرْجُوحُ

الظَّنُّ:

الظَّنُّ فِي اللُّغَةِ مِنْ مَعَانِيهِ: التَّرَدُّدُ الرَّاجِحُ بَيْن طَرَفَيْ الاِعْتِقَاد غَيْرِ الْجَازِمِ، وَقَدْ يُوضَعُ مَوْضِعَ الْعِلْمِ.

وَاصْطِلاَحًا: هُوَ الاِعْتِقَادُ الرَّاجِحُ مَعَ احْتِمَال النَّقِيضِ

 
 

وروى بن صَخْر فِي الْفَوَائِد مِنْ حَدِيث مُحَمَّد بْن خالد المخزومي عَنْ سُفْيَان الثَّوْرِيِّ عَنْ زُبَيْد الْيَامِيّ عَنْ أَبِي وَائِل عَنْ عَبْد اللَّه بْن مَسْعُود عَنْ النَّبِيّ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْيَقِين الْإِيمَان كُلّه وَذَكَرَهُ الْبُخَارِيّ فِي صَحِيحه موقوفا على بن مَسْعُود و الْبَيْهَقِيّ فِي الزّهْد والخطيب فِي التَّارِيخ

وقال مُسَدَّدٌ: حدثنا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مُغِيرَةَ، عن عامر رَضِيَ الله عَنْه قال: ” الصَّبْرُ نِصْفُ الإيمان، والشكر ثلثا الْإِيمَانِ، اليقين الْإِيمَانُ كُلُّهُ “. [المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية]

  • متعلقہ آیات

مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ مُّرِيبٍ [٥٠:٢٥]

جو بھلائی سے بہت روکنے والا حد سے بڑھنے والا شک کرنے والا

قال الله تعالى

  • ولما رأى المؤمنون الأحزاب قالوا هذا ما وعدنا الله ورسوله وصدق الله ورسوله وما زادهم إلا إيمانا وتسليما – الأحزاب
  • الذين قال لهم الناس إن الناس قد جمعوا لكم فاخشوهم فزادهم إيمانا وقالوا حسبنا الله ونعم الوكيل فانقلبوا بنعمة من الله وفضل لم يمسسهم سوء واتبعوا رضوان الله والله ذو فضل عظيم - آل عمران
  • وتوكل على الحي الذي لا يموت » الفرقان
  • وعلى الله فليتوكل المؤمنون» إبراهيم
  • فإذا عزمت فتوكل على الله » آل عمران
  • ومن يتوكل على الله فهو حسبه» الطلاق
  • إنما المؤمنون الذين إذا ذكر الله وجلت قلوبهم وإذا تليت عليهم آياته زادتهم إيمانا وعلى ربهم يتوكلون » الأنفال

فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيدٍ فَقَالَ أَحَطتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهِ وَجِئْتُكَ مِن سَبَإٍ بِنَبَإٍ يَقِينٍ [٢٧:٢٢]

میں شہر سبا سے حضور کے پاس ایک یقینی خبر لایا ہوں،

متعلقہ احادیث

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَسْكَرِيُّ بِالرَّقَّةِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَكِيلُ قَالَ حَدَّثَنَا بن أَبِي زَائِدَةَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ مُعَاذًا لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ: اكْشِفُوا عَنِّي سِجْفَ الْقُبَّةِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقول: “من شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا مِنْ قَلْبِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ

بخاری و مسلم کی حدیث شریف میں ہے کہ ایک روز سیدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خطبہ فرماتے ہوئے فرمایا جس کو جو دریافت کرنا ہو دریافت کرے ، عبداللّٰہ بن حُذافہ سہمی نے کھڑے ہو کر دریافت کیا کہ میرا باپ کون ہے؟ فرمایا حذافہ پھر فرمایا اور پوچھو حضرت عمر رضی اللّٰہ تعالٰی نے اٹھ کر اقرارِ ایمان و رسالت کے ساتھ معذرت پیش کی ۔

ابنِ شہاب کی روایت ہے کہ عبداللّٰہ بن حُذافہ کی والدہ نے ان سے شکایت کی اور کہا کہ تو بہت نالائق بیٹا ہے تجھے کیا معلوم کہ زمانۂ جاہلیّت کی عورتوں کا کیا حال تھا ، خدا نخواستہ تیری ماں سے کوئی قصور ہوا ہوتا تو آج وہ کیسی رسوا ہوتی ، اس پر عبداللّٰہ بن حُذافہ نے کہا کہ اگر حضور کسی حبشی غلام کو میرا باپ بتا دیتے تو میں
یقین کے ساتھ مان لیتا

حضرت عکاشہ کا مغفوروں میں نام کی طلب کرنا

اشعار

جب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیدا

تو کرلیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیدا

خدائے لم یزل کا دست قدرت تو زباں تو ہے

یقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہے

حرف مزید

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، ثَنَّى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ , عَنِ الْحَكَمِ بْنِ ظُهَيْرٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ الْمُخْتَارِ , عَنِ الْحَسَنِ , قَالَ:

مِنْ عَلَامَاتِ الْمُسْلِمِ قُوَّةٌ فِي دِينٍ , وَحَزْمٌ فِي لِينٍ , وَإِيمَانٌ فِي يَقِينٍ , وَحِلْمٌ فِي عِلْمٍ , وَكَيْسٌ فِي رِفْقٍ , وَإِعْطَاءٌ فِي حَقٍّ , وَقَصْدٌ فِي غِنًى وَتَجَمُّلٌ فِي فَاقَةٍ , وَإِحْسَانٌ فِي قُدْرَةٍ , وَطَاعَةٌ مَعَهَا نَصِيحَةٌ , وَتَوَرُّعٌ فِي رَغْبَةٍ , وَتَعَفُّفٌ فِي جَهْدٍ , وَصَبْرٌ فِي شِدَّةٍ , لَا تُرْدِيهِ رَغْبَتُهُ , وَلَا يَبْدُرُهُ لِسَانُهُ , وَلَا يَسْبِقُهُ بَصَرُهُ , وَلَا يَغْلِبُهُ فَرْجُهُ , وَلَا يَمِيلُ هَوَاهُ , وَلَا يَفْضَحُهُ بَطْنُهُ , وَلَا يَسْتَخِفُّهُ حِرْصُهُ , وَلَا تَقْصُرُ بِهِ نِيَّتُهُ

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ يَقِينَ الصَّادِقِينَ , وَصِدْقَ الْمُوقِنِينَ , وَعَمَلَ الطَّائِعِينَ , وَخَوْفَ الْعَامِلِينَ , وَعِبَادَةَ الْخَاشِعِينَ , وَخُشُوعَ الْعَابِدِينَ , وَإِنَابَةَ الْمُخْبِتِينَ , وَإِخْبَاتَ الْمُنِيبِينَ , وَإِلْحَاقًا بِرَحْمَتِكَ بِالْأَحْيَاءِ الْمَرْزُوقِينَ

عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ فِي امْرَأَةِ الْمَفْقُودِ: ” إِنَّهَا لَا تَتَزَوَّجُ

وَقد روى عَن رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم أَنه سُئِلَ عَن أفضل الْأَعْمَال فَقَالَ إِيمَان لَا شكّ فِيهِ وَجِهَاد لَا غلُول فِيهِ وَحج مبرور

ذاتی آراء

آدھے ایمان کیلئے پورا ایمان ہونا شرط ہے-

وذلك مثل قول سيد الأنبياء عليه السلام

(رأس الحكمة مخافة الله. ما قل وكفى خير مما كثر وألهى. كن ورعا تكن اعبد الناس. وكن تقيا تكن اشكر الناس. البلاء موكل بالمنطق. السعيد من وعظ بغيره. القناعة مال لا ينفد. اليقين الايمان كله) روح البیان فهذه الكلمات وأمثالها تسمى حكمة وصاحبها يسمى حكيما

 

October 17, 2011 Posted by | Islam | Leave a Comment

خصائص جمعہ

یا اللہ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

الرَّحْمَٰنُ ﴿١﴾ عَلَّمَ الْقُرْآنَ ﴿٢﴾ خَلَقَ الْإِنسَانَ ﴿٣﴾ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ﴿٤﴾

یا رسول اللہ

  • موضوعات
  • تعارف جمعہ
  • شرائط جمعہ
  • فضائل جمعہ
  • مسائل جمعہ
  •  
  • خاص نکات
  • تفسیر عثمانی کی فاش غلطی
  • جمعہ کے وقت سونے والے
  •  
  •  
  •  
  • ایک مسئلہ

    پیغام اہل سنت

: جمعہ کی اذان ہوتے ہی خرید و فروخت حرام ہوجاتی ہے اور دنیا کے تمام مشاغل جو ذکرِ الٰہی سے غفلت کا سبب ہوں اس میں داخل ہیں اذان ہونے کے بعد سب کو ترک کرنا لازم ہے ۔

  • ابتداء

الحمدُ للهِ وكفي۔ سلامٌ علي عبادهِ الذين اصطفي۔ خصوصاً علي محمد المصطفي۔ وألهِ وصحبهِ واهلُ الصدقِ والصفا. اما بعد فاعوذ باللهِ من الشيطان الرجيم۔ بِسمِ اللهِ الرحمن الرحيم آیت قرآنی
أمنتُ بِالله صدق اللهُ مولاناالعظيم۔ وصدق رسُولهُ النبيُ الكريم۔ ونحنُ علي ذالك لمنَ الشاهدين والشاكرين۔ والعاقبةُ للمتقين۔ درود شريف بأوازِ بلند پھر اعلی حضرت فاضل بریلوی کے دو اشعار 48 229 13098

سورة

آیت

الْمَآىِٕدَة

3

الفاظ

حروف

74

278

نص القرآن :

حُرِّمَتْ – عَلَیْكُمُ – الْمَیْتَةُ – وَ – الدَّمُ – وَ – لَحْمُ – الْخِنْزِیْرِ – وَ – مَاۤ – اُهِلَّ – لِغَیْرِ – اللّٰهِ – بِهٖ – وَ – الْمُنْخَنِقَةُ – وَ – الْمَوْقُوْذَةُ – وَ – الْمُتَرَدِّیَةُ – وَ – النَّطِیْحَةُ – وَ – مَاۤ – اَكَلَ – السَّبُعُ – اِلَّا – مَا – ذَكَّیْتُمْ١۫ – وَ – مَا – ذُبِحَ – عَلَى – النُّصُبِ – وَ – اَنْ – تَسْتَقْسِمُوْا – بِالْاَزْلَامِ١ؕ – ذٰلِكُمْ – فِسْقٌ١ؕ – اَلْیَوْمَ – یَىِٕسَ – الَّذِیْنَ – كَفَرُوْا – مِنْ – دِیْنِكُمْ – فَلَا – تَخْشَوْهُمْ – وَ – اخْشَوْنِ١ؕ – اَلْیَوْمَ – اَكْمَلْتُ – لَكُمْ – دِیْنَكُمْ – وَ – اَتْمَمْتُ – عَلَیْكُمْ – نِعْمَتِیْ – وَ – رَضِیْتُ – لَكُمُ – الْاِسْلَامَ – دِیْنًا١ؕ – فَمَنِ – اضْطُرَّ – فِیْ – مَخْمَصَةٍ – غَیْرَ – مُتَجَانِفٍ – لِّاِثْمٍ١ۙ – فَاِنَّ – اللّٰهَ – غَفُوْرٌ – رَّحِیْمٌ۝۳

کنز الایمان :

تم پر حرام ہے (ف۱۳) مُردار اور خون اور سور کا گوشت اور جس کے ذبح میں غیر خدا کا نام پکارا گیا اور وہ جو گلا گھونٹنے سے مرے اور بے دھار کی چیز سے مارا ہوا اور جو گر کر مرا اور جسے کسی جانور نے سینگ مارا اور جسے کوئی درندہ کھا گیا مگر جنہیں تم ذبح کر لو اور جو کسی تھان پر ذبح کیا گیا اور پانسے ڈال کر بانٹا کرنا یہ گناہ کا کام ہے آج تمہارے دین کی طرف سے کافروں کی آس ٹوٹ گئی (ف۱۴) تو اُن سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا (ف۱۵) اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی (ف۱۶) اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا (ف۱۷) تو جو بھوک پیاس کی شدت میں ناچار ہو یوں کہ گناہ کی طرف نہ جھکے (ف۱۸) تو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

عرفان القرآن:

  • تم پر مردار (یعنی بغیر شرعی ذبح کے مرنے والا جانور) حرام کر دیا گیا ہے
  • اور (بہایا ہوا) خون
  • اور سؤر کا گوشت
  • اور وہ (جانور) جس پر ذبح کے وقت غیر اﷲ کا نام پکارا گیا ہو
  • اور گلا گھٹ کر مرا ہوا (جانور)
  • اور (دھار دار آلے کے بغیر کسی چیز کی) ضرب سے مرا ہوا
  • اور اوپر سے گر کر مرا ہوا
  • اور (کسی جانور کے) سینگ مارنے سے مرا ہوا
  • اور وہ (جانور) جسے درندے نے پھاڑ کھایا ہو سوائے اس کے جسے (مرنے سے پہلے) تم نے ذبح کر لیا،
  • اور (وہ جانور بھی حرام ہے) جو باطل معبودوں کے تھانوں (یعنی بتوں کے لئے مخصوص کی گئی قربان گاہوں) پر ذبح کیا گیا ہو
  • اور یہ (بھی حرام ہے) کہ تم پانسوں (یعنی فال کے تیروں) کے ذریعے قسمت کا حال معلوم کرو (یا حصے تقسیم کرو)، یہ سب کام گناہ ہیں۔

     
     

    آج کافر لوگ تمہارے دین (کے غالب آجانے کے باعث اپنے ناپاک ارادوں) سے مایوس ہو گئے، سو (اے مسلمانو!) تم ان سے مت ڈرو اور مجھ ہی سے ڈرا کرو۔ آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو (بطور) دین (یعنی مکمل نظامِ حیات کی حیثیت سے) پسند کر لیا۔ پھر اگر کوئی شخص بھوک (اور پیاس) کی شدت میں اضطراری (یعنی انتہائی مجبوری کی) حالت کو پہنچ جائے (اس شرط کے ساتھ) کہ گناہ کی طرف مائل ہونے والا نہ ہو (یعنی حرام چیز گناہ کی رغبت کے باعث نہ کھائے) تو بیشک اﷲ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے،

تعریفات و فرق

وجۂ تسمیہ

روزِ جمعہ کا نام عربی زبان میں عروبہ تھا۔

جمعہ کو جمعہ اور جمعہ اور جمعہ کہتے ہیں اس کی جمع جُمَع اور جماعات آتی ہے۔

ثُمَّ الْجُمُعَةُ -بِضَمِّ الْمِيمِ، وَإِسْكَانِهَا، وَفَتْحِهَا أَيْضًا ۔

والمشهورالضم
- إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ ۔ وَيُجْمَعُ عَلَى جُمَع وجُمُعات.

ووجه الفتح بأنها تجمع الناس كثيرا

ويُقال: يوم الجُمَعَة لغة بني عُقَيل

وقيل: لم يسم بيوم الجمعة إلا بعد الإسلام

وقيل: لما جُمع فيه من الخير

وقيل: لأن الله – تعالى – جمع فيه آدم مع حواء في الأرض.

جمعہ کا لفظ جمع سے مشتق ہے،

جمعہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں تمام جماعتوں کا اجتماع ہوتا ہے۔ اس کا تقاضاہے کہ اس میں تمام جماعتوں کو آنے کی اجازت ہو تا کہ نام کے معنی کا ثبوت ہو.۔ اعلی حضرت

اور یہ بھی کہ اسی دن تمام مخلوق کامل ہوئی

سب سے پہلے جس شخص نے اس دن کا نام جمعہ رکھا وہ کعب بن لُوی ہیں۔

قرآن پاک کی ایک سورہ کا نام بھی جمعہ ہے۔

 
 

جمعے کے مختلف نام

  • خزائن العرفان

آیت اور جمعہ اور عید

اس آیت میں الیوم سے مراد جمعہ یا عرفے کا دن ہے۔

یہ آیت حجّۃ الوداع میں عَرفہ کے روز جو جمعہ کو تھا بعدِ عصر نازل ہوئی ، معنی یہ ہیں کہ کُفّار تمہارے دین پر غالب آنے سے مایوس ہو گئے ۔

شعائر اللّٰہ
سے دین کے اعلام یعنی نشانیاں مراد ہیں خواہ وہ مکانات ہوں جیسے کعبہ عرفات مزدلفہ جمارثلثہ’ صفا’ مروہ’ منٰی’ مساجد یا ازمنہ جیسے رمضان ،اشہر حرام، عیدالفطر واضحٰی
جمعہ
ایاّم تشریق یا دوسرے علامات جیسے اذان، اقامت نمازِ با جماعت، نمازِ جمعہ، نماز عیدین، ختنہ یہ سب شعائر دین ہیں۔

 
 

شانِ نُزول : بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کے پاس ایک یہودی آیا اور اس نے کہا کہ اے امیرالمومنین آپ کی کتاب میں ایک آیت ہے اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم روزِ نُزول کو عید مناتے۔ فرمایا کون سی آیت ؟ اس نے یہی آیت” اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ ” پڑھی آپ نے فرمایا میں اس دن کو جانتا ہوں جس میں یہ نازل ہوئی تھی اور اس کے مقامِ نُزول کو بھی پہچانتا ہوں وہ مقام عرفات کا تھا اور دن جمعہ کا ، آپ کی مراد اس سے یہ تھی کہ ہمارے لئے وہ دن عید ہے ۔

ترمذی شریف میں حضرت ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما سے مروی ہے آپ سے بھی ایک یہودی نے ایسا ہی کہا آپ نے فرمایا کہ جس روز یہ نازل ہوئی اس دن ۲ دو عیدیں تھیں جمعہ و عرفہ ۔

 
 

مسند احمد میں ہے کہ ایک یہودی نے حضرت فاروق اعظم سے کہا تم جو اس آیت کو پڑھتے ہو اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید منا لیتے ”حضرت عمر نے فرمایا واللہ مجھے علم ہے کہ آیت کس وقت اور کس دن نازل ہوئی ، عرفے کے دن جمعہ کی شام کو نازل ہوئی ہے ، ہم سب اس وقت میدان عرفہ میں تھے ،

 
 

ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت کعب نے حضرت عمر سے یہ کہا تھا ۔حضرت عمر نے فرمایا یہ آیت ہمارے ہاں دوہری عید کے دن نازل ہوئی ہے۔

 
 

حضرت ابن عباس کی زبانی اس آیت کی تلاوت سن کر بھی یہودیوں نے یہی کہا تھا کہ جس پر آپ نے فرمایا ہمارے ہاں تو یہ آیت دوہری عید کے دن اتری ہے ، عید بھی تھی اور جمعہ کا دن بھی تھا ۔

حضرت علی سے مروی ہے کہ یہ آیت عرفے کے دن شام کو اتری ہے ،

 
 

مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ کسی دینی کامیابی کے دن کو خوشی کا دن منانا جائز اور صحابہ سے ثابت ہے ورنہ حضرت عمرو ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہم صاف فرما دیتے کہ جس دن کوئی خوشی کا واقعہ ہو اس کی یادگار قائم کرنا اور اس روز کو عید منانا ہم بدعت جانتے ہیں ، اس سے ثابت ہوا کہ عیدِ میلاد منانا جائز ہے کیونکہ وہ اعظمِ نِعَمِ الٰہیہ کی یادگار و شکر گزاری ہے ۔

 
 

عید (خوشی اور ملنا جلنا) کا اسلامی تصور:۔

  • أخرج ابن ماجه عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “إن هذا يوم عيد، جعله الله للمسلمين، فمن جاء إلى الجمعة فليغتسل، وإن كان طيب فليمس منه، وعليكم بالسواك”
  • عن أبي هريرة مرفوعا، يوم الجمعة يوم عيد، فلا تجعلوا يوم عيدكم يوم صيامكم إلا أن تصوموا قبله أو بعده.
  • وروى ابن أبي شيبة عن علي قال: من كان منكم متطوعا من الشهر، فليصم يوم الخميس ولا يصوم يوم الجمعة، فإنه يوم طعام وشراب وذكر.
  • وقال آخرون: بل الحكمة مخالفة اليهود، فإنهم يصومون يوم عيدهم، أي يفردونه بالصوم، فنهى عن التشبه بهم، كما خولفوا في يوم عاشوراء، بصيام يوم قبله أو بعده، وهذا القول هو المختار عندي؛ لأنه لا ينتقض بشيء.
  • ابن کثیر

مقاتل بن حیان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جمعہ کے دن خطبے میں بیٹھا رہنا منافقوں پربہت بھاری پڑتا تھا۔ جب کسی کو کوئی ایسی ضرورت ہوتی تو اشارے سے آپ سے اجازت چاہتا اور آپ اجازت دے دیتے اس لئے کہ خطبے کی حالت میں بولنے سے جمعہ باطل ہو جاتا ہے تو یہ منافق آڑ ہی آڑ میں نظریں بچا کر سرک جاتے تھے

اشعار

قربان اے دو شنبے تجھ پر ہزار جمعے

وہ فضل تو نے پایا صبح شب ولادت

ذاتی آراء

تفسیر عثمانی

(تنبیہ) اس آیت ” الیوم اکملت لکم دینکم” الخ کا نازل فرمانا بھی منجملہ نعمائے عظیمہ کے لیے ایک نعمت ہے۔

اسی لئے بعض یہود نے حضرت عمر رضی اللہ عنہم سے عرض کیا کہ امیر المومنین! اگر یہ آیت ہم پر نازل کی جاتی تو ہم اس کے یوم نزول کو عید منایا کرتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہم نے فرمایا تجھے معلوم نہیں کہ جس روز یہ ہم پر نازل کی گئی مسلمانوں کی دو عیدیں جمع ہوگئی تھیں۔

 
 

قول سلیم: اگر حضرت عمر کا عقیدہ آپ کا سا ہوتا تو کہتے کہ او بیوقوف! ہم تیسری عید منانے کو بدعت سمجھتے ہیں۔

عید (خوشی اور ملنا جلنا) کا نبوی تصور:۔

أخرج ابن ماجه عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “إن هذا يوم عيد، جعله الله للمسلمين، فمن جاء إلى الجمعة فليغتسل، وإن كان طيب فليمس منه، وعليكم بالسواك”

 
 

عن أبي هريرة مرفوعا، يوم الجمعة يوم عيد، فلا تجعلوا يوم عيدكم يوم صيامكم إلا أن تصوموا قبله أو بعده.

وروى ابن أبي شيبة عن علي قال: من كان منكم متطوعا من الشهر، فليصم يوم الخميس ولا يصوم يوم الجمعة، فإنه يوم طعام وشراب وذكر.

وقال آخرون: بل الحكمة مخالفة اليهود، فإنهم يصومون يوم عيدهم، أي يفردونه بالصوم، فنهى عن التشبه بهم، كما خولفوا في يوم عاشوراء، بصيام يوم قبله أو بعده، وهذا القول هو المختار عندي؛ لأنه لا ينتقض بشيء.

 
 

 
 

یہ آیت ١٠ ہجری میں “حجتہ الوداع” کے موقع پر “عرفہ” کے روز “جمعہ” کے دن “عصر” کے وقت نازل ہوئی جب کہ میدان عرفات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے گرد چالیس ہزار سے زائد اًتقیا و ابرار رضی اللہ عنہم کا مجمع کثیر تھا۔

 
 

اس کے بعد صرف اکیاسی روز حضور اس دنیا میں جلوہ افروز رہے۔

قول سلیم:کیا ہی غلط حساب کتاب لگایا ہے۔

 

October 17, 2011 Posted by | Islam | Leave a Comment

عشرۂ مغفرت

یا اللہ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

الرَّحْمَٰنُ ﴿١﴾ عَلَّمَ الْقُرْآنَ ﴿٢﴾ خَلَقَ الْإِنسَانَ ﴿٣﴾ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ﴿٤﴾

یا رسول اللہ

  1. موضوعات
  • عشرۂ مغفرت
  • یہودیوں کا مکر
  • ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور علی رضی اللہ عنہ کا پوچھنا
  • ستر بار مغفرت پر انکار
  •  
  1. خاص نکات
  • قصۂ ابو لبابہ
  • کہن سال اعرابی کا قصہ
  • توبۂ آدم علیہ السلام
  • غیبت کا کفارہ
  •  
  1. ایک مسئلہ

    پیغام اہل سنت

درود شریف اور مغفرت کی نوید

حدیث شریف میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ جب درود بھیجنے والا مجھ پر درود بھیجتا ہے تو فرشتے اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں ۔

  1. ابتداء

الحمدُ للهِ وكفي۔ سلامٌ علي عبادهِ الذين اصطفي۔ خصوصاً علي محمد المصطفي۔ وألهِ وصحبهِ واهلُ الصدقِ والصفا. اما بعد فاعوذ باللهِ من الشيطان الرجيم۔ بِسمِ اللهِ الرحمن الرحيم آیت قرآنی
أمنتُ بِالله صدق اللهُ مولاناالعظيم۔ وصدق رسُولهُ النبيُ الكريم۔ ونحنُ علي ذالك لمنَ الشاهدين والشاكرين۔ والعاقبةُ للمتقين۔ درود شريف بأوازِ بلند پھر اعلی حضرت فاضل بریلوی کے دو اشعار

سورة

آیت

يُوسُف

92

الفاظ

حروف

  

  

نص القرآن :

قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ۖ
يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ
 ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ

کنز الایمان :

کہا آج تم پر کچھ ملامت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے، اور وہ سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے

عرفان القرآن:

یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا: آج کے دن تم پر کوئی ملامت (اور گرفت) نہیں ہے، اﷲ تمہیں معاف فرما دے اور وہ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے،

  • خزائن العرفان

والدین کے ساتھ احسان کے طریقے جو احادیث سے ثابت ہیں یہ ہیں کہ تہ دل سے ان کے ساتھ محبت رکھے رفتار و گفتار میں نشست و برخاست میں ادب لازم جانے ان کی شان میں تعظیم کے لفظ کہے ان کو راضی کرنے کی سعی کرتا رہے اپنے نفیس مال کو ان سے نہ بچائے ان کے مرنے کے بعد ان کی وصیتیں جاری کرے ان کے لئے فاتحہ صدقات تلاوت قرآن سے ایصال ثواب کرے اللّٰہ تعالیٰ سے ان کی مغفرت کی دعا کرے، ہفتہ وار ان کی قبر کی زیارت کرے۔

جو کفر پر مَرے اس کی بخشش نہیں اس کے لئے ہمیشگی کا عذاب ہے اور جس نے کفر نہ کیا ہو وہ خواہ کتنا ہی گنہگار مرتکبِ کبائر ہو اور بے توبہ بھی مر جائے تو اُس کے لئے خلود نہیں اِس کی مغفرت اللّٰہ کی مشیّت میں ہے چاہے معاف فرمائے یا اُس کے گناہوں پر عذاب کرے پھر اپنی رحمت سے جنّت میں داخل فرمائے

توریت میں گناہ پر اصرار کرنے والے کے لئے مغفرت کا وعدہ نہ تھا تو ان کا گناہ کئے جانا ، توبہ نہ کرنا اور اس پر یہ کہنا کہ ہم سے مؤاخذہ نہ ہوگا یہ اللّٰہ پر افترا ہے ۔

انبیا ءِ معصومین استغفار کیا کرتے ہیں باوجود یکہ انہیں اپنی مغفرت اور اکرامِ خداوندی کا علم یقینی ہوتا ہے ، یہ سب بہ طریقِ تواضع و اظہارِ بندگی ہے ۔

غیبت کا کَفّارہ یہ ہے کہ جس کی غیبت کی ہے اس کے لئے دعائے مغفرت کرے ۔

  • متعلقہ آیات

أُولَٰئِكَ يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ

الصَّابِرِينَ وَالصَّادِقِينَ وَالْقَانِتِينَ وَالْمُنفِقِينَ وَالْمُسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ

وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ

إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ

وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُوا أَنفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَّمْ يَكُنِ اللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيلًا

وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ

لَّهُمْ دَرَجَاتٌ عِندَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ

اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِن تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ

اشعار

جرم رضا کا حساب کیا، وہ اگرچہ کہ لاکھوں سے ہیں سوا

مگر اے کریم تیرے عفو کا نہ حساب ھے نہ شمار ھے

  

  

 
 

October 17, 2011 Posted by | Islam | Leave a Comment

ابو بکر صدیق

یا اللہ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

الرَّحْمَٰنُ ﴿١﴾ عَلَّمَ الْقُرْآنَ ﴿٢﴾ خَلَقَ الْإِنسَانَ ﴿٣﴾ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ﴿٤﴾

یا رسول اللہ

  • موضوعات
  • فضائل ابو بکر
  • صدیق کی قرآنی تعریف
  • تین فتنے تین تلواریں
  • أَنْتَ عَتِيقٌ مِنَ النَّارِ
  •  
  • خاص نکات
  • فولادی تلوار، فولادی ہاتھ
  • فضیلت صحابیت
  • علی اکبر کی سی تکبیر
  • قول ابو ہریرہ
  • دوست، کثیر التصدیق

      

  •  
  •  
  • ایک مسئلہ

    پیغام اہل سنت

مسئلہ : حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ کی صحابیت آیت قرآنی سے ثابت ہے ۔ حسن بن فضل نے فرمایا جو شخص حضرت صدیق اکبر کی صحابیت کا انکار کرے وہ نصِ قرانی کا منکِر ہو کر کافِر ہوا ۔

مسئلہ : زکوٰۃ کے مستحق آٹھ قسم کے لوگ قرار دیئے گئے ہیں ۔ ان میں سے مولَّفۃُ القلوب باِجماعِ صحابہ ساقط ہوگئے کیونکہ جب اللّٰہ تبارَک و تعالٰی نے اسلام کو غلبہ دیا تو اب اس کی حاجت نہ رہی ۔ یہ اجماع زمانۂ صدیق میں منعقد ہوا ۔

  • ابتداء

الحمدُ للهِ وكفي۔ سلامٌ علي عبادهِ الذين اصطفي۔ خصوصاً علي محمد المصطفي۔ وألهِ وصحبهِ واهلُ الصدقِ والصفا. اما بعد فاعوذ باللهِ من الشيطان الرجيم۔ بِسمِ اللهِ الرحمن الرحيم آیت قرآنی
أمنتُ بِالله صدق اللهُ مولاناالعظيم۔ وصدق رسُولهُ النبيُ الكريم۔ ونحنُ علي ذالك لمنَ الشاهدين والشاكرين۔ والعاقبةُ للمتقين۔ درود شريف بأوازِ بلند پھر اعلی حضرت فاضل بریلوی کے دو اشعار

سورة

آیت

الْحَدِیْد

19

الفاظ

حروف

26

103

نص القرآن :

وَ – الَّذِیْنَ – اٰمَنُوْا – بِاللّٰهِ – وَ – رُسُلِهٖۤ – اُولٰٓىِٕكَ – هُمُ – الصِّدِّیْقُوْنَ١ۖۗ – وَ – الشُّهَدَآءُ – عِنْدَ – رَبِّهِمْ١ؕ – لَهُمْ – اَجْرُهُمْ – وَ – نُوْرُهُمْ١ؕ – وَ – الَّذِیْنَ – كَفَرُوْا – وَ – كَذَّبُوْا – بِاٰیٰتِنَاۤ – اُولٰٓىِٕكَ – اَصْحٰبُ – الْجَحِیْمِ۠۝۱۹

کنز الایمان :

اور وہ جو اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائیں وہی ہیں کامل سچے، اور اَوروں پر گواہ اپنے رب کے یہاں، ان کے لیے ان کا ثواب اور ان کا نور ہے اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتیں جھٹلائیں وہ دوزخی ہیں،

عرفان القرآن:

اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے وہی لوگ اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں، اُن کے لئے اُن کا اجر (بھی) ہے اور ان کا نور (بھی) ہے، اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی لوگ دوزخی ہیں،

تعریفات و فرق

  • وقال علي بن أبي طالب رضي الله عنه: «إنّ الله جلّ وعزّ سمّى أبا بكر صدّيقا»
  • وَعَن أبي هُرَيْرَة قَالَ: كلكُمْ صديق وشهيد. فَقيل لَهُ: كَيفَ يَا أيا هُرَيْرَة؟ فَقَرَأَ قَوْله فِي هَذِه الْآيَة
  • وَفِي هَذِهِ الْآيَةِ قَوْلَانِ:

    أَحَدُهُمَا: أَنَّ الْآيَةَ عَامَّةٌ فِي كُلِّ مَنْ آمَنَ باللَّه وَرُسُلِهِ وَهُوَ مَذْهَبُ مُجَاهِدٍ قَالَ: كُلُّ مَنْ آمَنَ باللَّه وَرُسُلِهِ فَهُوَ صِدِّيقٌ ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ، وَيَدُلُّ عَلَى هَذَا مَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: هُمُ الصِّدِّيقُونَ أَيِ الْمُوَحِّدُونَ

     
     

    الثَّانِي: أَنَّ الْآيَةَ خَاصَّةٌ، وَهُوَ قَوْلُ الْمُقَاتِلِينَ: أَنَّ الصِّدِّيقِينَ هُمُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالرُّسُلِ حِينَ أَتَوْهُمْ وَلَمْ يُكَذِّبُوا سَاعَةً قَطُّ مِثْلَ آلِ يَاسِينَ، وَمِثْلَ مُؤْمِنِ آلِ فِرْعَوْنَ،

    وَأَمَّا فِي دِينِنَا فَهُمْ ثَمَانِيَةٌ سَبَقُوا أَهْلَ الْأَرْضِ إِلَى الْإِسْلَامِ

  • أَبُو بَكْرٍ
  • وَعَلِيٌّ
  • وَزَيْدٌ
  • وَعُثْمَانُ
  • وَطَلْحَةُ
  • وَالزُّبَيْرُ
  • وَسَعْدٌ
  • وَحَمْزَةُ
  • وَتَاسِعُهُمْ عُمَرُ

    أَلْحَقَهُ اللَّه بِهِمْ لِمَا عَرَفَ مِنْ صِدْقِ نِيَّتِهِ

    عتیق:

    • جہنم سے آزاد
    • حسن و جمال
    • بے عیب نسب
  • خزائن العرفان

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے ر اہِ خدا میں چالیس ہزار دینار خرچ کئے تھےدس ہزار رات میں اور دس ہزار دن میں اور دس ہزار پوشیدہ اوردس ہزار ظاہر،

 
 

حضرت علی مرتضیٰ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ امینُ الشاکرین ہیں۔

 
 

  • خلافت کیلئے تیاری
  • اسامہ بن زید کو لشکر دیکر بھیجنا
  • نازک وقت میں مرتدوں سے جہاد
  • صحابہ کا شرح صدر کرنا
  • فتح شام
  • قتل قسیلمہ کذاب
  • حضرت عمر کو خلیفہ بنانا

     
     

    والدہ سلمی بنت صخر ام الخیر

    آپ نے زمانۂ جاہلیت میں کبھی شراب نہیں پی۔

     
     

    صدیق انبیاء کے سچے متبعین کو کہتے ہیں جو اخلاص کے ساتھ اُن کی راہ پر قائم رہیں جیسے کہ حضرت ابوبکر صدیق ۔

    آپ قریش کے ان گیارہ اشخاص میں سے ہیں جن کو زمانۂ جاہلیت اور اسلام دونوں میں شرف حاصل رہا ہے۔ آپ خون بہا اور جرمانہ کے مقدمات کے فیصلے کیا کرتے تھے، کیونکہ قریش میں کوئی بادشاہ نہیں تھا

     
     

    بعض مفسِّرین نے کہا کہ صدیق کے معنی ہیں کثیرُ التصدیق جو اللہ تعالٰی اور اس کی وحدانیّت اور اس کے انبیاء اور اس کے رسولوں کی اور مرنے کے بعد اٹھنے کی تصدیق کرے اور احکامِ الٰہیہ بجا لائے ۔

    حضرت علی فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے حضرت ابو بکر اسلام لے کر آئے

    حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ ایمان لائے تو آپ کے پاس حضرت عثمان اور عبدالرحمٰن ابنِ عوف اور طلحہ و زبیر و سعد بن ابی وقاص و سعید بن زید آئے اور ان سے حال دریافت کیا انہوں نے اپنے ایمان کی خبر دی یہ حضرات بھی سُن کر ایمان لے آئے ۔

    آپ کی تمام اولاد مومن ہے اور ان میں حضرت امّ المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا مرتبہ کس قدر بلند و بالا ہے کہ تمام عورتوں پر اللہ تعالٰی نے انہیں فضیلت دی ہے ،

    • حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے والدین بھی مسلمان اور
    • آپ کے صاحبزادے محمّد اور عبداللہ اور عبدالرحمٰن اور
    • آپ کی صاحبزادیاں حضرت عائشہ اور حضرت اسماء اور
    • آپ کے پوتے محمّد بن عبدالرحمٰن یہ سب مومن اور سب شرفِ صحابیّت سے مشرف صحابہ ہیں ،

    آپ کے سوا کوئی ایسا نہیں ہے جس کو یہ فضیلت حاصل ہو کہ اس کے والدین بھی صحابی ہوں ، خود بھی صحابی ، اولاد بھی صحابی ، پوتے بھی صحابی ، چارپشتیں شرفِ صحابیّت سے مشرّف ۔

     
     

    حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی عمر سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے دو سال کم تھی ، جب حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی عمر اٹھارہ سال کی ہوئی تو آپ نے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صحبت اختیار کی ، اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عمر شریف بیس سال کی تھی ، حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی ہمراہی میں بغرضِ تجارت ملکِ شام کا سفر کیا ، ایک منزل پر ٹھہرے ، وہاں ایک بیری کا درخت تھا ، حضور سیدِ عالَم علیہ الصٰلوۃوالسلام اس کے سایہ میں تشریف فرما ہوئے ، قریب ہی ایک راہب رہتا تھا ، حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ اس کے پاس چلے گئے ، راہب نے آپ سے کہا یہ کون صاحب ہیں جو اس بیری کے سایہ میں جلوہ فرما ہیں ، حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ یہ محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)ا بنِ عبداللہ ہیں ، عبدالمطلب کے پوتے ، راہب نے کہا خدا کی قَسم یہ نبی ہیں ، اس بیری کے سایہ میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بعد سے آج تک ان کے سوا کوئی نہیں بیٹھا ، یہی نبی آخرُ الزّماں ہیں ، راہب کی یہ بات حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دل میں اثر کر گئی اور نبوّت کا یقین آپ کے دل میں جم گیا اور آپ نے صحبت شریف کی ملازمت اختیار کی ، سفر و حضر میں آپ سے جدا نہ ہوتے ، جب سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عمر شریف چالیس سال کی ہوئی اور اللہ تعالٰی نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اپنی نبوّت و رسالت کے ساتھ سرفراز فرمایا تو حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ آپ پر ایمان لائے اس وقت حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی عمر اڑتیس سال کی تھی ۔

     
     

    ثعلبہ بن حاطب نے سیدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی اس کے لئے مالدار ہونے کی دعا فرمائیں ، حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے ثعلبہ تھوڑا مال جس کا تو شکر ادا کرے اس بہت سے بہتر ہے جس کا شکر ادا نہ کر سکے ، دوبارہ پھر ثعلبہ نے حاضر ہو کر یہی درخواست کی اور کہا اسی کی قسم جس نے آپ کو سچا نبی بنا کر بھیجا کہ اگر وہ مجھے مال دے گا تو میں ہر حق والے کا حق ادا کروں گا ۔

    حضورنے دعا فرمائی اللّٰہ تعالٰی نے اس کی بکریوں میں برکت فرمائی اور اتنی بڑھیں کہ مدینہ میں ان کی گنجائش نہ ہوئی تو ثعلبہ ان کو لے کر جنگل میں چلا گیا اور جمعہ و جماعت کی حاضری سے بھی محروم ہوگیا ۔ حضور نے اس کا حال دریافت فرمایا تو صحابہ نے عرض کیا کہ اس کا مال بہت کثیر ہوگیا ہے اور اب جنگل میں بھی اس کے مال کی گنجائش نہ رہی ۔ حضورنے فرمایا کہ ثعلبہ پر افسوس پھر جب حضور اقدس صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے زکوٰۃ کے تحصیل کرنے والے بھیجے ، لوگوں نے انہیں اپنے اپنے صدقات دیے جب ثعلبہ سے جا کر انہوں نے صدقہ مانگا اس نے کہا یہ تو ٹیکس ہوگیا ، جاؤ میں سوچ لوں جب یہ لوگ رسولِ کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں واپس آئے تو حضور نے ان کے کچھ عرض کرنے سے قبل دو مرتبہ فرمایا ” ثعلبہ پر افسوس ” پھر ثعلبہ صدَقہ لے کر حاضر ہوا تو سیدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللّٰہ تعالٰی نے مجھے اس کے قبول فرمانے کی ممانعت فرما دی ۔

    وہ اپنے سر پر خاک ڈال کر واپس ہوا پھر اس صدَقہ کو خلافتِ صدیقی میں حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ کے پاس لایا انہوں نے بھی اسے قبول نہ فرمایا پھر خلافتِ فاروقی میں حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کے پاس لایا انہوں نے بھی قبول نہ فرمایا اور خلافتِ عثمانی میں یہ شخص ہلاک ہوگیا ۔ (مدارک)

     
     

    مُسَیلمہ کَذّاب نے یَمامہ عَلاقۂ یمن میں نبوّت کا جھوٹا دعوٰی کیا تھا ۔ قبیلۂ بنی حنیفہ کے چند لوگ اس کے فریب میں آ گئے تھے یہ کذّاب زمانۂ خلافتِ حضرت ابو بکر صدیق میں وحشی قاتلِ امیرِ حمزہ رضی اللّٰہ عنہ کے ہاتھ سے قتل ہوا ۔

     
     

    روزِ بدر رسولِ کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکین کو ملاحَظہ فرمایا کہ ہزار ہیں اور آپ کے اصحاب تین سو دس سے کچھ زیادہ تو حضور قبلے کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنے مبارک ہاتھ پھیلا کر اپنے ربّ سے یہ دعا کرنے لگے ، یا ربّ جو تو نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے پورا کر ، یاربّ جو تو نے مجھ سے وعدہ کیا عنایت فرما ، یاربّ اگر تو اہلِ اسلام کی اس جماعت کو ہلاک کردے گا تو زمین میں تیری پرستِش نہ ہوگی ۔ اسی طرح حضور دعا کرتے رہے یہاں تک کہ دوشِ مبارک سے چادر شریف اُتر گئی تو حضرت ابوبکر حاضر ہوئے اور چادر مبارک دوشِ اقدس پر ڈالی اور عرض کیا یا نبیَ اللّٰہ آپ کی مناجات اپنے ربّ کے ساتھ کافی ہوگئی ، وہ بہت جلد اپنا وعدہ پورا فرمائے گا ۔

     
     

    اس میں اس واقعہ کا بیان ہے جو حضرت ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما نے ذکر فرمایا کہ کُفّارِ قریش دارالندوہ (کمیٹی گھر) میں رسولِ کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت مشورہ کرنے کے لئے جمع ہوئے اور ابلیسِ لعین ایک بُڈھے کی صورت میں آیا اور کہنے لگا کہ میں شیخِ نجد ہوں ، مجھے تمہارے اس اجتماع کی اطلاع ہوئی تو میں آیا مجھ سے تم کچھ نہ چھپانا ، میں تمہارا رفیق ہوں اور اس معاملہ میں بہتر رائے سے تمہاری مدد کروں گا ، انہوں نے اس کو شامل کرلیا اور سیدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق رائے زنی شروع ہوئی ،

    ابوالبختری نے کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ محمّد (صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم) کو پکڑ کر ایک مکان میں قید کردو اور مضبوط بندشوں سے باندھ دو ، دروازہ بند کر دو ، صرف ایک سوراخ چھوڑ دو جس سے کبھی کبھی کھانا پانی دیا جائے اور وہیں وہ ہلاک ہو کر رہ جائیں ۔ اس پر شیطانِ لعین جو شیخِ نجدی بنا ہوا تھا بہت ناخوش ہوا اور کہا نہایت ناقص رائے ہے ، یہ خبر مشہور ہوگی اور ان کے اصحاب آئیں گے اور تم سے مقابلہ کریں گے اور ان کو تمہارے ہاتھ سے چُھڑا لیں گے ۔ لوگوں نے کہا شیخِ نجدی ٹھیک کہتا ہے

    پھر ہشام بن عمرو کھڑا ہوا اس نے کہا میری رائے یہ ہے کہ ان کو (یعنی محمّد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو) اونٹ پر سوار کرکے اپنے شہر سے نکال دو پھر وہ جوکچھ بھی کریں اس سے تمہیں کچھ ضَرر نہیں ۔ ابلیس نے اس رائے کو بھی ناپسند کیا اور کہا جس شخص نے تمہارے ہوش اُڑا دیئے اور تمہارے دانشمندوں کو حیران بنادیا اس کو تم دوسروں کی طر ف بھیجتے ہو ، تم نے اس کی شیریں کلامی ، سیف زبانی ، دل کشی نہیں دیکھی ہے اگر تم نے ایسا کیا تو وہ دوسری قوم کے قلوب تسخیر کرکے ان لوگوں کے ساتھ تم پر چڑھائی کریں گے ۔ اہلِ مجمع نے کہا شیخِ نجدی کی رائے ٹھیک ہے

    اس پر ابوجہل کھڑا ہوا اور اس نے یہ رائے دی کہ قریش کے ہر ہر خاندان سے ایک ایک عالی نسب جوان منتخب کیا جائے اور ان کو تیز تلواریں دی جائیں ، وہ سب یکبارگی حضرت پر حملہ آور ہو کر قتل کردیں تو بنی ہاشم قریش کے تمام قبائل سے نہ لڑ سکیں گے ۔ غایت یہ ہے کہ خون کا معاوضہ دینا پڑے وہ دے دیا جائے گا ۔ ابلیسِ لعین نے اس تجویز کوپسند کیا اور ابوجہل کی بہت تعریف کی اور اسی پر سب کا اتفاق ہوگیا ۔

    حضرتِ جبریل علیہ السلام نے سیدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر واقعہ گزارش کیا اور عرض کیا کہ حضور اپنی خواب گاہ میں شب کو نہ رہیں ، اللّٰہ تعالٰی نے اِذن دیا ہے مدینہ طیبہ کا عزم فرمائیں ۔ حضور نے علی مرتضٰی کو شب میں اپنی خواب گاہ میں رہنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ ہماری چادر شریف اوڑھو تمہیں کوئی ناگواربات پیش نہ آئے گی اور حضور دولت سرائے اقدس سے باہر تشریف لائے اور ایک مشتِ خاک دستِ مبارک میں لی اور آیت” اِنَّا جَعَلْنَا فِیْ اَعْنَاقِھِمْ اَغْلٰلاً ” پڑھ کر محاصَرہ کرنے والوں پر ماری ، سب کی آنکھوں اور سروں پر پہنچی ، سب اندھے ہوگئے اور حضور کو نہ دیکھ سکے اور حضور مع ابوبکر صدیق کے غارِ ثور میں تشریف لے گئے اور حضرت علی مرتضٰی کو لوگوں کو امانتیں پہنچانے کے لئے مکّۂ مکرّمہ میں چھوڑا ۔ مشرکین رات بھر سیدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی دولت سرائے کا پہرہ دیتے رہے ، صبح کو جب قتل کے ارادہ سے حملہ آور ہوئے تو دیکھا کہ حضرت علی ہیں ، ان سے حضورصلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو دریافت کیا گیا کہ کہاں ہیں انہوں نے فرمایا کہ ہمیں معلوم نہیں تو تلاش کے لئے نکلے جب غار پر پہنچے تو مکڑی کے جالے دیکھ کر کہنے لگے کہ اگر اس میں داخل ہوتے تو یہ جالے باقی نہ رہتے ۔ حضور اس غار میں تین روز ٹھہرے پھر مدینہ طیبہ روانہ ہوئے ۔

     
     

    مسلم شریف وغیرہ کی احادیث میں ہے کہ جنگِ بدر میں ستّر کافِر قید کرکے سیدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور میں لائے گئے حضور نے ان کے متعلق صحابہ سے مشورہ طلب فرمایا حضرت ابوبکر صدیق نے عرض کیا کہ یہ آپ کی قوم و قبیلے کے لوگ ہیں میری رائے میں انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے اس سے مسلمانوں کو قوت بھی پہنچے گی اور کیا عجب ہے کہ اللّٰہ تعالٰی ان لوگوں کو اسلام نصیب کرے ۔

     
     

    یہ سورت ۹ہجری؁ میں فتحِ مکّہ سے ایک سال بعد نازِل ہوئی ۔ رسولِ کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سنہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ کو امیرِ حج مقرر فرمایا تھا اور انکے بعد علی مرتضٰی کو مجمعِ حُجّاج میں یہ سورت سنانے کے لئے بھیجا چنانچہ حضرت علی مرتضٰی نے دس ذی الحِجّہ کو جَمرۂ عُقبہ کے پاس کھڑے ہو کر ندا کی ” یٰاَیُّھَاالنَّاسُ ” میں تمہاری طرف رسولِ کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا فِرِستادہ آیا ہوں ، لوگوں نے کہا آپ کیا پیام لائے ہیں ؟ تو آپ نے تیس یا چالیس آیتیں اس سورت مبارکہ کی تلاوت فرمائیں پھر فرمایا میں چار حکم لایا ہوں ۔ (۱) اس سال کے بعد کوئی مشرک کعبۂ معظّمہ کے پاس نہ آئے ۔

    (۲) کوئی شخص بَرَہۡنہ ہو کر کعبۂ معظّمہ کا طواف نہ کرے ۔

    (۳) جنّت میں مؤمن کے سوا کوئی داخل نہ ہوگا ۔

    (۴) جس کارسولِ کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عہد ہے وہ عہد اپنی مدت تک رہے گا اور جس کی مدت معیّن نہیں ہے اس کی معیاد چار ماہ پر تمام ہوجائے گی ۔

    مشرکین نے یہ سن کر کہا کہ اے علی اپنے چچا کے فرزند (یعنی سیدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ) کو خبر دے دیجئے کہ ہم نے عہد پس پشت پھینک دیا ، ہمارے ان کے درمیان کوئی عہد نہیں ہے بَجُز نیزہ بازی اور تیغ زنی کے ۔ اس واقعہ میں خلافتِ حضرتِ صدیقِ اکبر کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو تو امیرِ حج بنایا اور حضرت علی مرتضٰی کو ان کے پیچھے سورۂ براءت پڑھنے کے لئے بھیجا تو حضرت ابوبکر امام ہوئے اور حضرت علی مرتضٰی مقتدی ۔ اس سے حضرت ابوبکر کی تقدیم حضرت علی مرتضٰی پر ثابت ہوئی ۔

     
     

    شانِ نُزول : یہ آیت غزوۂ تبوک کی ترغیب میں نازِل ہوئی ۔ تبوک ایک مقام ہے اطرافِ شام میں مدینۂ طیّبہ سے چودہ منزل فاصلہ پر ۔ رجب ۹ ہجری؁ میں طائف سے واپسی کے بعد سیدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر پہنچی کہ عرب کے نصرانیوں کی تحریک سے ہر قل شاہِ روم نے رومیوں اور شامیوں کی فوج گِراں جمع کی ہے اور وہ مسلمانوں پر حملے کا ارادہ رکھتا ہے تو حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو جہاد کا حکم دیا ۔ یہ زمانہ نہایت تنگی ، قحط سالی اور شدتِ گرمی کا تھا یہاں تک کہ دو دو آدمی ایک ایک کھجور پر بسر کرتے تھے ، سفر دور کا تھا ، دشمن کثیر اور قوی تھے اس لئے بعض قبیلے بیٹھ رہے اور انہیں اس وقت جہاد میں جانا گِراں معلوم ہوا اور اس غزوہ میں بہت سے منافقین کا پردہ فاش اور حال ظاہر ہوگیا ۔ حضرت عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے اس غزوہ میں بڑی عالی ہمتی سے خرچ کیا دس ہزار مجاہدین کو سامان دیا اور دس ہزار دینار اس غزوہ پر خرچ کئے ، نو سو اونٹ اورسو گھوڑے مع ساز و سامان کے اس کے علاوہ ہیں اور اصحاب نے بھی خوب خرچ کیا ،

    ان میں سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق ہیں جنہوں نے اپنا کُل مال حاضر کردیا جس کی مقدار چار ہزار درہم تھی اور حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے اپنا نصف مال حاضر کیا اور سیدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم تیس ہزار کا لشکر لے کر روانہ ہوئے ۔ حضرت علی مرتضٰی کو مدینہ طیّبہ میں چھوڑا ۔ عبداللّٰہ بن اُبَی اور اس کے ہمراہی منافقین ثنیۃ الوداع تک چل کر رہ گئے جب لشکر اسلام تبوک میں اترا تو انہوں نے دیکھا کہ چشمے میں پانی بہت تھوڑا ہے ، رسولِ کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے پانی سے اس میں کلی فرمائی جس کی برکت سے پانی جوش میں آیا اور چشمہ بھر گیا ، لشکر اور اس کے تمام جانور اچھی طرح سیراب ہوئے ۔ حضرت نے کافی عرصہ یہاں قیام فرمایا ۔

     
     

     
     

    یعنی غزوۂ تبوک میں جس کو غزوۂ عُسر ت بھی کہتے ہیں ، اس غزوہ میں عسرت کا یہ حال تھا کہ دس دس آدمیوں میں سواری کے لئے ایک ایک اونٹ تھا ، نوبت بہ نوبت اسی پر سوار ہو لیتے تھے اور کھانے کی قلّت کا یہ حال تھا کہ ایک ایک کھجور پر کئی کئی آدمی بسر کرتے تھے اس طرح کہ ہر ایک نے تھوڑی تھوڑی چوس کر ایک گھونٹ پانی پی لیا ، پانی کی بھی نہایت قلّت تھی ، گرمی شدت کی تھی ، پیاس کا غلبہ اور پانی ناپید ۔ اس حال میں صحابہ اپنے صدق و یقین اور ایمان و اخلاص کے ساتھ حضور کی جاں نثاری میں ثابت قدم رہے ۔ حضرت ابو بکر صدیق نے عرض کیا یا رسولَ اللّٰہ اللّٰہ تعالٰی سے دعا فرمائیے ! فرمایا کیا تمہیں یہ خواہش ہے عرض کیا جی ہاں تو حضور نے دستِ مبارک اٹھا کر دعا فرمائی اور ابھی دستِ مبارک اٹھے ہی ہوئے تھے کہ اللّٰہ تعالٰی نے اَبر بھیجا ، بارش ہوئی ، لشکر سیراب ہو ا ، لشکر والوں نے اپنے برتن بھر لئے اس کے بعد جب آگے چلے تو زمین خشک تھی ، ابر نے لشکر کے باہر بارش ہی نہیں کی وہ خاص اسی لشکر کو سیراب کرنے کیلئے بھیجا گیا تھا ۔

     
     

    ترمذی و ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا خلافت میرے بعد تیس سال ہے پھر ملک ہوگا

    اس کی تفصیل یہ ہے کہ

    • حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خلافت دو برس تین ماہ اور
    • حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خلافت دس سال چھ ماہ اور
    • حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خلافت بارہ سال اور
    • حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خلافت چار سال نو ماہ اور
    • حضرت امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خلافت چھ ماہ ہوئی ۔ (خازن)

     
     

     
     

     
     

    شانِ نزول : کلبی نے کہا کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حق میں نازل ہوئی کیونکہ آپ پہلے شخص ہیں جو اسلام لائے اور پہلے وہ شخص جس نے راہِ خدا میں مال خرچ کیا اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حمایت کی ۔

     
     

    حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے روزِ بدر اپنے بیٹے عبدالرحمن کو مبارزت کےلئے طلب کیا لیکن رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انہیں اس جنگ کی اجازت نہ دی۔

     
     

    اُمیّہ ا بنِ خلف حضرت بلال کو جو اس کی مِلک میں تھے دِین سے منحرف کرنے کے لئے طرح طرح کی تکلیفیں دیتا تھا ۔ اور انتہائی ظلم اور سختیاں کرتا تھا ایک روز حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے دیکھا کہ اُمیّہ نے حضرت بلال کو گرم زمین پر ڈال کر تپتے ہوئے پتّھر ان کے سینہ پر رکھے ہیں اور اس حال میں کلمۂِ ایمان ان کی زبان پر جاری ہے ، آپ نے اُمیّہ سے فرمایا اے بدنصیب ایک خدا پرست پر یہ سختیاں اس نے کہا آپ کو اس کی تکلیف ناگوار ہو تو خرید لیجئے آپ نے گراں قیمت پر ان کو خرید کر آزاد کردیا اس پر یہ سورت نازل ہوئی اس میں بیان فرمایا گیا کہ تمہاری کوششیں مختلف ہیں یعنی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی کوشش اور اُمیّہ کی اور حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ رضائے الٰہی کے طالب ہیں اُمیّہ حق کی دشمنی میں اندھا ۔

     
     

    جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت بلال کو بہت گراں قیمت پر خرید کر آزاد کیا تو کفّار کو حیرت ہوئی اور انہوں نے کہا حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایسا کیوں کیا ؟ شاید بلال کا ان پر کوئی احسان ہوگا جو انہوں نے اتنی گراں قیمت دے کر خریدا اور آزاد کیا ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ظاہر فرمادیا گیا کہ حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کا یہ فعل محض اللہ تعالٰی کی رضا کے لئے ہے کسی کے احسان کا بدلہ نہیں اور نہ ان پر حضرت بلال وغیرہ کا کوئی احسان ہے ۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بہت لوگوں کو ان کے اسلام کے سبب خرید کر آزاد کیا ۔

     
     

    اس سورت کے نازل ہونے کے بعد سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے” سُبْحَان اللہِ وَبِحَمدِہ اَسْتَغفِرُ اللہَ وَاتُوبُ اِلیہ ” کی بہت کثرت فرمائی ۔ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ یہ سورت حجّۃ الوداع میں بمقامِ مِنٰی نازل ہوئی اس کے بعد آیت” اَلیَومَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ ”نازل ہوئی اس کے نازل ہونے کے بعد اسّی۸۰ روز سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دنیا میں تشریف رکھی پھر آیۃ ”الکلالۃ” نازل ہوئی اس کے بعد حضور پچاس روز تشریف فرما رہے پھر آیت ”وَاتَّقُوْا یَوْماً تُرْجَعُوْنَ فِیۡہِ اِلَی اللہِ ”نازل ہوئی اس کے بعد حضور اکّیس روز یا سات روز تشریف فرما رہے اس سورت کے نازل ہونے کے بعد صحابہ نے سمجھ لیا تھا کہ دِین کامل اور تمام ہوگیا تو اب حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دنیا میں زیادہ تشریف نہ رکھیں گے چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ یہ سورت سن کر اسی خیال سے روئے ، اس سورت کے نازل ہونے کے بعد سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے خطبہ میں فرمایا کہ ایک بندہ کو اللہ تعالٰی نے اختیار دیا چاہے دنیا میں رہے چاہے اس کی لقاء قبول فرمائے اس بندہ نے لقائے الٰہی اختیار کی ، یہ سن کر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کیا آپ پر ہماری جانیں ، ہمارے مال ، ہمارے آباء، ہماری اولادیں سب قربان ۔

متعلقہ احادیث

قَالَ:

86 – وَأَخْبَرَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ إِسْحَاقَ بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَتْ: ” إِنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: «أَنْتَ عَتِيقٌ مِنَ النَّارِ» فَمِنْ يَوْمَئِذٍ سُمِّيَ عَتِيقًا “

[الجامع لابن وهب ت مصطفى أبو الخير ص: 144]

 
 

4899 – حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ: وَاللَّهِ إِنِّي لَفِي بَيْتِي ذَاتَ يَوْمٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِنَاءِ وَأَصْحَابُهُ، وَالسِّتْرُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ إِذْ أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى عَتِيقٍ مِنَ النَّارِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ» . وَإِنَّ اسْمَهُ الَّذِي سَمَّاهُ أَهْلُهُ لَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، فَغَلَبَ عَلَيْهِ اسْمُ عَتِيقٍ “

[حكم حسين سليم أسد] : إسناده ضعيف

[مسند أبي يعلى الموصلي 8/ 302]

 
 

9384 – حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ، نَا عَبْدُ الْكَبِيرِ، ثَنَا صَالِحُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِهِ فِي قِبَلِ الْبَيْتِ إِذْ أَقْبَلَ أَبِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى عَتِيقٍ مِنَ النَّارِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ»

لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ إِلَّا صَالِحُ بْنُ مُوسَى

[المعجم الأوسط 9/ 149]

9 – حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ إِسْحَاقَ بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: «أَنْتَ عَتِيقٌ مِنَ النَّارِ» فَمِنْ يَوْمَئِذٍ سُمِّيَ عَتِيقًا

[المعجم الكبير للطبراني 1/ 53]

 
 

3557 – أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَكْرٍ الْعَدْلُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: بَيْنَا عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ تَقُولُ لِأُمِّهَا أُمِّ كُلْثُومِ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ: أَبِي خَيْرٌ مِنْ أَبِيكِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ: أَلَا أَقْضِي بَيْنَكُمَا إِنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ أَنْتَ عَتِيقُ اللَّهِ مِنَ النَّارِ» قُلْتُ: فَمِنْ يَوْمَئِذٍ سُمِّيَ عَتِيقًا، وَدَخَلَ طَلْحَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَنْتَ يَا طَلْحَةُ مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ» صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ “

[التعليق - من تلخيص الذهبي] 3557 – بل إسحاق بن يحيى بن طلحة متروك قاله أحمد

[المستدرك على الصحيحين للحاكم 2/ 450]

 
 

4404 – حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوْحُ الْمَدَائِنِيُّ، ثنا شَبَابَةُ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطَّلْحِيُّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى عَتِيقٍ مِنَ النَّارِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، وَإِنَّ اسْمَهُ الَّذِي سَمَّاهُ أَهْلُهُ: لَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَامِرِ بْنِ عَمْرٍو حَيْثُ وُلِدَ فَغَلَبَ عَلَيْهِ اسْمُ عَتِيقٍ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

[التعليق - من تلخيص الذهبي] 4404 – صالح ضعفوه والسند مظلم

[المستدرك على الصحيحين للحاكم 3/ 64]

 
 

5611 – حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا رَبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ وَعَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ وَهِيَ تَقُولُ لِأُمِّهَا أَسْمَاءَ: أَنَا خَيْرٌ مِنْكِ، وَأَبِي خَيْرٌ مِنْ أَبِيكِ، قَالَ: فَجَعَلَتْ أُمُّهَا تَشْتِمُهَا وَتَقُولُ: أَنْتِ خَيْرٌ مِنِّي، فَقَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةُ: أَلَا أَقْضِي بَيْنَكُمَا؟ قَالَتْ بَلَى، قَالَتْ: فَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ، أَنْتَ عَتِيقُ اللَّهِ مِنَ النَّارِ» قَالَتْ: فَمِنْ يَوْمَئِذٍ سُمَيَّ عَتِيقًا وَلَمْ يَكُنْ سُمَيَّ قَبْلَ ذَلِكَ عَتِيقًا، قَالَتْ: ثُمَّ دَخَلَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: «أَنْتَ يَا طَلْحَةُ مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ» صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ “

[التعليق - من تلخيص الذهبي] 5611 – على شرط مسلم

[المستدرك على الصحيحين للحاكم 3/ 424]

 
 

3992 – حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ الْمُعَافَى، ثنا صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطَّلْحِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: أَقْبَلَ أَبِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: «مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى عَتِيقٍ مِنَ النَّارِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ» وَاسْمُهُ الَّذِي سَمَّاهُ بِهِ أَهْلُهُ يَوْمَ وُلِدَ: عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ فَغَلَبَ عَلَيْهِ اسْمُ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ

[معرفة الصحابة لأبي نعيم 3/ 1581]

3679 – حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ إِسْحَاقَ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَنْتَ عَتِيقُ اللَّهِ مِنَ النَّارِ» فَيَوْمَئِذٍ سُمِّيَ عَتِيقًا «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ» وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الحَدِيثَ عَنْ مَعْنٍ، وَقَالَ: عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ

__________

 
 

[سنن الترمذي ت شاكر 5/ 616

اشعار

پروانے کو چراغ تو بلبل کو پھول بس

صدیق کے لئے ہے خدا کا رسول بس

ذاتی آراء

3675 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ بِهِمْ، فَقَالَ: «اثْبُتْ أُحُدُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ، وَصِدِّيقٌ، وَشَهِيدَانِ»

[صحيح البخاري 5/ 9]

 
 

 
 

  

 
 

October 17, 2011 Posted by | Islam | Leave a Comment

جَآءُوْكَ

یا اللہ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

الرَّحْمَٰنُ ﴿١﴾ عَلَّمَ الْقُرْآنَ ﴿٢﴾ خَلَقَ الْإِنسَانَ ﴿٣﴾ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ﴿٤﴾

یا رسول اللہ

  • موضوعات
  • جَآءُوْكَ کے معنی
  •  
  •  
  •  
  •  
  • خاص نکات
  • اعرابی کا واقعہ
  •  
  •  
  •  
  •  
  • ابتداء

الحمدُ للهِ وكفي۔ سلامٌ علي عبادهِ الذين اصطفي۔ خصوصاً علي محمد المصطفي۔ وألهِ وصحبهِ واهلُ الصدقِ والصفا. اما بعد فاعوذ باللهِ من الشيطان الرجيم۔ بِسمِ اللهِ الرحمن الرحيم آیت قرآنی
أمنتُ بِالله صدق اللهُ مولاناالعظيم۔ وصدق رسُولهُ النبيُ الكريم۔ ونحنُ علي ذالك لمنَ الشاهدين والشاكرين۔ والعاقبةُ للمتقين۔ درود شريف بأوازِ بلند پھر اعلی حضرت فاضل بریلوی کے دو اشعار

سورة

آیت

النِّسَآء

64

الفاظ

حروف

33

123

نص القرآن :

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا۝۶۴

کنز الایمان :

اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اُس کی اطاعت کی جائے (ف۱۷۵) اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں (ف۱۷۶) تو اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں

عرفان القرآن:

  

  • خزائن العرفان

جب کہ رسُول کا بھیجنا ہی اس لئے ہے کہ وہ مُطَاع بنائے جائیں اور اُن کی اطاعت فرض ہو تو جواُن کے حکم سے راضی نہ ہو اُس نے رسالت کو تسلیم نہ کیا وہ کافر واجب القتل ہے۔

 
 

اس سے معلوم ہوا کہ بارگاہِ الہٰی میں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا وسیلہ اور آپ کی شفاعت کار بر آری کا ذریعہ ہے سیّدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات شریف کے بعد ایک اعرابی روضہء اقدس پر حاضر ہوا اور روضۂ شریفہ کی خاک پاک اپنے سر پر ڈالی اور عرض کرنے لگا یارسول اللّٰہ جو آپ نے فرمایا ہم نے سُنا اور جو آپ پر نازل ہوا اس میں یہ آیت بھی ہے وَلَوْاَنَّھُمْ اِذْ ظَّلَمُوْا میں نے بے شک اپنی جان پر ظلم کیا اور میں آپ کے حضور میں اللّٰہ سے اپنے گناہ کی بخشش چاہنے حاضر ہوا تو میرے رب سے میرے گناہ کی بخشش کرائیے اس پر قبر شریف سے ندا آئی کہ تیری بخشش کی گئی اس سے چند مسائل معلوم ہوئے مسئلہ: اللّٰہ تعالی کی بارگاہ میں عرضِ حاجت کے لئے اُس کے مقبولوں کو وسیلہ بنانا ذریعہ کامیابی ہے مسئلہ قبر پر حاجت کے لئے جانا بھی ” جَآءُ وْکَ ” میں داخل اور خیرُ القرون کا معمول ہے مسئلہ: بعد وفات مقبُولان ِحق کو( یا )کے ساتھ ندا کرنا جائز ہے مسئلہ:مقبُولانِ حق مدد فرماتے ہیں اور ان کی دعا سے حاجت روائی ہوتی ہے۔

متعلقہ احادیث

حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مَعْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: ” إِنَّ فِي النِّسَاءِ لَخَمْسُ آيَاتٍ مَا يَسُرُّنِي بِهِنَّ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ الْعُلَمَاءَ إِذَا مَرُّوا بِهَا يَعْرِفُونَهَا:

 
 

  • {إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلًا كَرِيمًا} [النساء: 31] ،
  • {إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا} [النساء: 40] ،
  • {إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ} [النساء: 48] الْآيَةَ،
  • {وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَحِيمًا} ،
  • {وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا} [النساء: 110

 
 

حدثنا عبد الغالب بن ثابت بن ماهان أبو نصر الرافقي قاضيها بها وكان شيخا مسنا وذكر لي أنه سمع من أبي الحسين بن المقتدي ببغداد ومن ابن طوق بالموصل واحترقت كتبه قال أبنا ابن طوق الموصلي بالموصل سنة تسع وخمسين وأربع مئة بإسناد لا أذكره الآن

 
 

عن العتبي أنه قال كنت جالسا عند قبر رسول الله صلى الله عليه وسلم وإذا بأعرابي قد أقبل على ناقة له فنزل وعقلها ودنا إلى حجرة النبي صلى الله عليه وسلم وأنشأ يقول

 
 

يَا خَيْرَ مَنْ دُفِنَتْ بالقاع أَعْظُمُهُ

فَطَابَ مِنْ طِيبِهِنَّ الْقَاعُ وَالْأَكَمُ

 
 

نَفْسِي الْفِدَاءُ لِقَبْرٍ أَنْتَ سَاكِنُهُ

فِيهِ الْعَفَافُ وَفِيهِ الْجُودُ وَالْكَرَمُ

 
 

أنت الشفيع الذي ترجى شفاعته

عند الصراط إذا ما زلت القدم

 
 

وصاحباك فلا أنساهما أبدا

مني السلام عليكم ما جرى القلم

 
 

ثم قال الأعرابي وجدت الله تعالى يقول: {ولو أنهم إذ ظلموا أنفسهم جاءوك فاستغفروا الله واستغفر لهم الرسول لوجدوا الله توابا رحيما} وقد جئتك يا رسول الله مستغفرا من ذنبي مستشفعا بك إلى ربي وانصرف قال العتبي فنمت فرأيت النبي صلى الله عليه وسلم في النوم فقال لي يا عتبي الحق الأعرابي فقل له إن الله عز وجل قد غفر له. ابن عساكر

 
 

أخبرناه أبو أحمد عبد السلام بن الحسن بن علي بن زرعة الصوري بقراءتي عليه بدمشق ثنا الفقيه أبو الفتح نصر بن إبراهيم بن نصر بصور لفظا ثنا أبو العباس أحمد بن علي بن محمد أبنا أبو بكر محمد بن زهير بنيسابور أبنا أبو الحسن علي بن أحمد بن مرزبان ثنا أبو محمد الحسن بن محمد النحوي الأصبهاني أبنا ابن فضيل النحوي أبنا عبد الكريم بن علي ثنا محمد بن محمد بن النعمان ثنا محمد بن روح

 
 

عن الهلالي محمد بن حرب قال دخلت المدينة فأتيت قبر النبي صلى الله عليه وسلم فزرته وجلست بحذائه فجاء أعرابي فزاره ثم قال يا خير الرسل إن الله عز وجل أنزل عليك كتابا صادقا قال فيه: {ولو أنهم إذ ظلموا أنفسهم جاءوك فاستغفروا الله واستغفر لهم الرسول لوجدوا الله توابا رحيما} وإني جئتك مستغفرا ربك من ذنوبي مستشفعا بك فيها ثم بكى وأنشأ يقول:

يا خير من دفنت بالقاع أعظمه … فطاب من طيبهن القاع والأكم

نفسي الفداء لقبر أنت ساكنه … فيه العفاف وفيه الجود والكرم

ثم استغفر وانصرف فرقدت فرأيت النبي صلى الله عليه وسلم في نومي وهو يقول الحق الرجل فبشره بأن الله قد غفر له بشفاعتي فاستيقظت فخرجت أطلبه فلم أجده.

 
 

  

اشعار

مجرم بلائے آئے ہیں جَآءُوْكَ ہے گواہ

پھر رد ہوں کب یہ شان کریموں کے در کی ھے

حاکم حکیم داد و دوا دیں یہ کچھ نہ دیں

مردود یہ مراد کس آیت خبر کی ھے

 
 

October 17, 2011 Posted by | Islam | Leave a Comment

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.