إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ

صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا

اِنٹرنیٹ سیکھنے کی اہمیت اور اُس کے فوائد و نقصانات کا شعور

 

قارئینِ کرام! موجودہ دور میں اِسلام کی تیز تر اِشاعت کےلئے ہر ممکنہ حد تک جدید ذرائع سے اِستفادہ کریں اور اِنفارمیشن ٹیکنالوجی بالخصوص اِنٹرنیٹ کے ساتھ شناسائی پیدا کریں۔

پختہ عمر کے حامل اَفراد کے کمپیوٹر کے اِستعمال سے دُور رہنے کا بڑا سبب نئی ٹیکنالوجی سے جھجکنے کے علاوہ پرائی زبان (انگریزی) کا حجاب بھی ہے۔ دُنیا کی سب سے بڑی کمپیوٹرساز کمپنی مائیکروسافٹ نے درجنوں زبانوں میں کمپیوٹر کا خدمتگار نظام (ونڈوز) متعارف کروا رکھا ہے، مگر بوجوہ اُردو اُن زبانوں میں شامل نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُردو دان طبقہ کو انگریزی ونڈوز پر اِنحصار کرنا پڑتا ہے۔ تاہم انگریزی ونڈوز کو مکمل طور پر اُردو لکھنے اور پڑھنے قابل بنانا ممکن ہے۔ کمپیوٹر کو اُردو لکھنے پڑھنے قابل بنانے سے نہ صرف اُردو دان طبقے کو بآسانی اِس کمپلیکس سے نکالا جا سکتا ہے بلکہ پاکستان میں کمپیوٹر کی شرحِ خواندگی میں بھی بے پناہ اِضافہ ہو سکتا ہے۔

یہ بات عام مشاہدہ میں آئی ہے کہ کم عمر اَفراد بالخصوص بچوں میں کمپیوٹر سیکھنے کا رُجحان خاصا حوصلہ افزاء ہے۔ جب کہ عمر رسیدہ افراد کےلئے کمپیوٹر کا اِستعمال قدرے دُشوار ہوتا ہے۔ چنانچہ اپنے بچوں کےلئے کمپیوٹر کی تعلیم کا بخوبی اِنتظام کریں تاکہ وہ جدید دَور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر اِسلام کے حقیقی مجاہد بنیں اور اُسی محاذ پر جارحیت کا سامنا کرنے کی صلاحیت پیدا کریں، جس محاذ سے اِسلام بارے غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں۔ ’نائن الیون‘ اور ’سیون سیون‘ کے حادثات کے بعد اِس کی اہمیت کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ چنانچہ ضرورت اِس امر کی ہے کہ اِسلام کی بہتر اِشاعت، پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے اور نئی نسل کے درخشاں مستقبل کےلیے ہم اپنی نئی نسل کو کمپیوٹر اور اِنٹرنیٹ سیکھنے کے مواقع فراہم کریں۔

یاد رکھیں! نئی نسل کو جدید ٹیکنالوجی کے اِستعمال اور اُس کے اثرات سے کسی صورت روکنا ممکن نہیں۔ یہ بجا ہے کہ اِنٹرنیٹ بھی دُوسرے ذرائع اِبلاغ کی طرح دُہرا اِستعمال ہو رہا ہے۔ اِس محاذ پر نیکی اور بدی کی جنگ میں بدی جیتتی نظر آ رہی ہے۔ مگر واضح رہے کہ اِنٹرنیٹ تو محض کمپیوٹرز اور دیگر مشینی آلات کے عالمی سطح پر باہمی رابطے کا نام ہے۔ اب کوئی اس رابطے کو اچھے کام کے اِبلاغ میں اِستعمال کرے یا برے کام کےلئے، وہ کسی کو اِنکار نہیں کرتا۔ اِنٹرنیٹ کے منفی اِستعمال سے خوفزدہ ہو کر آنکھیں بند کر لینے اور اُسے شجرِ ممنوعہ قرار دے دینے سے نئی نسل کو اُس کے منفی اثرات سے بچانا ممکن نہیں۔ منفی اثرات سے بچنے کی ایک ہی صورت ہے کہ اُس کے مثبت اِستعمال بارے رہنمائی عام ہو۔

آج اگر کفر و طاغوت کی باطل قوتیں جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہو کر اِسلام کے پرامن چہرے کو دہشت گردی کے اِلزام سے داغدار کرنے میں کامیاب نظر آتی ہیں تو اِس میں ہم مسلمان برابر کے ذمہ دار ہیں، کیونکہ ہم نے اِنٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی کا اِستعمال نہ کیا اور اِسلام کا حقیقی چہرہ دُنیا کے سامنے پیش کرنے سے قاصر رہے۔

یاد رکھیں! اگر آپ خود بچوں کو مثبت انداز میں اِنٹرنیٹ سکھانے کا اِہتمام نہیں کریں گے تو وہ آپ سے درپردہ اِنٹرنیٹ کلبوں میں جا کر اُس کا منفی اِستعمال ہی سیکھ پائیں گے اور ملک و قوم کے فائدے کی بجائے تباہی و بربادی کا باعث بنیں گے۔

August 7, 2007 - Posted by saleemnoori | Islam | | 1 Comment

1 Comment »

  1. ماشاء اللہ :)

    Comment by minhajian | August 10, 2007 |


Leave a comment

You must be logged in to post a comment.