إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ

صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت

ایمان اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت  

تمام جہانوں میں اور عالم کبیر کے ھر ذرے میں اللہ تعالی کی نورانیت ظاھر ھوتی ھے۔ ان تمام انوار کو اکٹھا کرکے باری تعالی نے عالم صغیر یعنی آدمی میں رکھ دیا۔ اسلئےتمام مخلوق سے آدمی افضل ھے۔ اس میں عالم کبیر کے صفات ظاھر ہیں۔ گویا کہ باری تعالی نے دریا کو کوزے میں بند کر دیا۔ اب تمام انسانوں کی نورانیت کو یکجا کرکے ایک ولی میں رکھ دیا۔ تمام ولیوں کی نورانیت کو یکجا کرکے ایک غوث میں رکھ دیا اور تمام غوثوں کی نورانیت کو ایک مجدد میں رکھ دیا۔ تمام مجددوں کے نور کو اکٹھا کرکے ایک صحابی میں رکھ دیا۔ تمام صحابہ کے نور کو اکٹھا کرکے ایک چھوٹے نبی علیہ السلام میں رکھ دیا۔ تمام نبیوں کی نورانیت کو ایک رسول علیہ السلام میں رکھ دیا اور تمام رسولوں کے نور کو اکٹھا کرکے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں رکھ دیا۔ گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم تمام نورانیت کا مجموعہ اور جڑ ہیں۔

جیسا کہ ایک درخت کی جڑ تمام شاخوں اور پتوں کو غذا دیتی ھے اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام افراد امت کو ایمانی تقویت بخشتے ہیں۔ جس طرح کہ اگر ایک پتّہ یہ دعوی کرے کہ میں جڑ سے تعلق رکھے بغیر سر سبز رہ سکتا ھوں تو یہ دعوی باطل ھوگا اور وہ جڑ سے تعلق منقطع کرکے سر سبز نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح کوئ بھی انسان حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق توڑ کر مسلمان یا مومن نہیں بن سکتا۔ جتنا تعلق اور محبت زیادہ ھوگی اتنا ھی ایمان قوی ھوگا۔

جب آدمی کلمۂ طیبہ پڑھ لیتا ھے تو دائرہ اسلام میں داخل ھو جاتا ھے، مسلمان بن جاتا ھے۔ جب اسلامی ارکان پورے کرکے اسلام میں مکمل ھو جاتا ھے تو مومن بن جاتا ھے۔ جب اس کا ایمان قوی ھوجاتا ھے تو موقن بن جاتا ھے۔ جب اس کا یقین کامل ھوتا ھے تو محب بن جاتا ھے۔ جب محبت اور عشق میں کامل ھوجاتا ھے تو باری تعالی اسے اپنا محب اور مقرب بنالیتے ھیں۔

اسلامی ارکان کامل کرکے ایمان میں قوی ھونا صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر منحصر ھے۔ جتنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت، اتنا ھی قوی ایمان۔ جتنی کم محبت اتنا ھی ایمان کمزور جیسا کہ بخاری شریف کی حدیث شریف میں ھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ) یعنی “اے صحابہ! تم میں سے کوئ بھی ایماندار نہیں ھوسکتا یہاں تک کہ اس کی محبت میرے ساتھ ھو۔ محبت اولاد سے، والدین سے، مال سے، تمام دنیا سے، تمام کائنات سے زیادہ ھو۔” تو معلوم ھوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں کامل ھونا ھی ایمان کی تکمیل ھے۔

جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بڑھ جاتی ھے تو باری تعالی اس کا ھاتھ پکڑلیتے ہیں۔ وہ کامل ولی، غوث اور مجدد ھوجاتا ھے۔ باری تعالی ارشاد فرماتے ہیں ” قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّون اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ” (سورة آل عمران-31)۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ھوجاتی ھے تو اتباع کرنا آسان ھوجاتا ھے۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع میسر آجائے تو باری تعالی کی محبت میں کامل ھوجاتا ھے۔اور اس کے تمام گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت حاصل کرکے گویا اس نے خدا کی محبت، گناھوں سے بخشش اور خدا کو راضی کرنا سب کچھ حاصل کرلیا۔ گویا تمام اسلام کا انحصار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر ھے۔ اسی سے روح کو تقویت حاصل ھوتی ھے۔ جب روحانیت غالب آتی ھے اور اپنے اصل یعنی اللہ تعالی کی طرف لوٹتی ھے اللہ تعالی اس پر راضی ھوجاتا ھے۔ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ۔ اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ھوجاتے ہیں۔

Qibla-e-Alam Mian Mazhar Sahib

No comments yet.

Leave a comment

You must be logged in to post a comment.